شونڑی بابا: کوہستان کے دو قبائل کا مشترک جد – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ
.
کوہستان کے پہاڑ محض بلند چٹانیں، گہری وادیاں اور دشوار گزار راستے نہیں، صدیوں پر پھیلی انسانی یادداشت کے بھی امین ہیں۔ یہاں بہت سے نام تحریری تاریخ کا حصہ نہ بن سکے، مگر قبائلی حافظے میں نسل در نسل زندہ رہے۔ شونڑی بابا بھی ایسا ہی ایک نام ہیں، جنہیں مقامی روایت شدم خیل اور شہباز خیل قبائل کا مشترک جد قرار دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس روایت کے پیچھے کوئی تاریخی اور نسبی قرینہ بھی موجود ہے؟
اِس سوال کا اہم حوالہ فریڈرک بارتھ کی 1956ء میں شائع ہونیوالی کتاب ’’انڈس اینڈ سوات کوہستان: این ایتھنوگرافک سروے‘‘ ہے۔ اُنہوں نے کوہستانی معاشرے کا براہِ راست بشریاتی مطالعہ کیا اور نسبی تنظیم، قبائلی ڈھانچے، زمین کی ملکیت اور سیاسی نظام کو اپنی تحقیق کا حصہ بنایا۔ اُن کے ہاں نسب محض خاندانی شناخت نہیں بلکہ سماجی اور سیاسی تنظیم کی بنیادی اکائی بھی تھا۔
محفوظ کردہ نسبی خاکے کے مطابق سلسلۂ نسب سونجی سے اُن کے بیٹے شونڑی تک پہنچتا ہے۔ شونڑی کے بیٹے کا نام شابدین درج ہے، جسے مقامی روایت میں شہاب الدین کہا جاتا ہے۔ اسی سلسلے میں شہاب الدین کے دو بیٹوں شدم اور شہباز کے نام آتے ہیں، جن سے شدم خیل اور شہباز خیل کی شناختیں وابستہ ہیں۔ یوں شونڑی بابا کو دونوں قبائل کا مشترک جد قرار دینے کو ایک اہم تحریری قرینہ ملتا ہے۔
تاہم تاریخی تحقیق میں روایت اور قطعی ثبوت کے درمیان فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ یہ نسبی خاکہ ایک بشریاتی تحقیق کے دوران محفوظ کیا گیا ریکارڈ ہے، نہ کوئی معاصر کتبہ، شاہی فرمان یا سرکاری دستاویز۔ اس سے شونڑی بابا کی قبائلی نسبت کو تقویت ملتی ہے، لیکن اُنکی پیدائش یا وفات کا سال اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ علمی دیانت یہی ہے کہ ایسے شواہد کو نہ قطعی فیصلہ سمجھا جائے اور نہ بے بنیاد روایت قرار دے کر مسترد کیا جائے۔
اب اصل سوال شونڑی بابا کے زمانے کا ہے۔ براہِ راست ایسا کوئی معلوم تحریری ثبوت نہیں جس سے اُن کی زندگی کے سال متعین کیے جا سکیں۔ تاہم کوہستان کی زبانی تاریخ ایک زمانی قرینہ ضرور فراہم کرتی ہے۔ رُتھ لائلہ شمٹ اور رازول کوہستانی کی 2008ء کی کتاب ’’اَ گرامر آف دی شینا لینگویج آف انڈس کوہستان‘‘ میں کوہستان کے جغرافیے، زبانی روایات اور اسلام کے تعارف سے متعلق اہم تاریخی مواد ملتا ہے۔
ان روایات میں اخوند سالاک کا ذکر اہم ہے، جنہیں مقامی روایت کوہستان میں اسلام کے پھیلاؤ سے وابستہ نمایاں شخصیت قرار دیتی ہے۔ اس ماخذ کے مطابق، اخوند سالاک نے کوہستان میں اسلام مغل بادشاہ شاہجہان کے دور میں پھیلایا، جس سے سترہویں صدی کا وسط اُن کی سرگرمیوں کا اہم زمانی قرینہ بنتا ہے۔ تاہم، کوہستان میں اسلامائزیشن کو کسی ایک شخصیت یا مہم کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں؛ شواہد اسے ایک تدریجی تاریخی عمل کے طور پر دیکھنے کی گنجائش دیتے ہیں۔
اخون سالاک کے زمانے کے حوالے سے وولف گانگ ہولز ورتھ کی تحقیق بھی قابلِ توجہ ہے۔ اُن کے مطالعے میں شمالی علاقوں میں اسلام کے پھیلاؤ اور اخوند سالاک سے منسوب سرگرمیوں کو 1640ء سے 1650ء کے تاریخی تناظر میں دیکھا گیا، جبکہ بعض روایات 1660ء کی دہائی کے واقعات کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اگر مقامی روایت کے مطابق شونڑی بابا کو اخوند سالاک کا معاصر مانا جائے تو اُن کا فعال زمانہ بھی اسی عہد میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔
ان قرائن کو یکجا کیا جائے تو شونڑی بابا کا ممکنہ فعال دور تقریباً 1640ء سے 1670ء کے درمیان قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ اُن کی پیدائش یا وفات کے سال کا دعویٰ نہیں، بلکہ مختلف تاریخی اور روایتی شواہد کو باہم ملا کر قائم کیا گیا محتاط تخمینہ ہے۔ نسبی روایت، کوہستان کی زبانی تاریخ، اسلام کے تدریجی پھیلاؤ اور سترہویں صدی کے وسط کا تاریخی پس منظر ایک دُوسرے کی طرف اشارہ ضرور کرتے ہیں۔
کوہستان جیسے خطے میں، جہاں دشوار گزار جغرافیے اور محدود تحریری ریکارڈ نے تاریخ نویسی کو مشکل بنایا، شجرٔ نسب اور زبانی روایت غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم ان کی تاریخی قدر اس وقت بڑھتی ہے جب انہیں کتبۂ قبور، پرانے اراضی ریکارڈ، فارسی مخطوطات، لسانی شواہد اور بشریاتی تحقیقات کے ساتھ ملا کر پرکھا جائے۔ شونڑی بابا کے معاملے میں بھی یہی تحقیقی راستہ زیادہ معتبر نتائج تک پہنچا سکتا ہے۔
شونڑی بابا کی روایت کوہستان کے ماضی کو سمجھنے کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس میں ایک مشترک جد، دو قبائل کا نسبی رشتہ اور ایک ایسے عہد کی جھلک ملتی ہے جب یہ خطہ مذہبی، قبائلی اور سیاسی تبدیلیوں سے گزر رہا تھا۔ تاہم حتمی زمانی تعین کیلئے مزید شواہد درکار ہیں۔ فی الحال انہیں کوہستان کے نسبی حافظے، قبائلی روایت اور تاریخی شعور کی اہم شخصیت سمجھنا زیادہ محتاط علمی رویہ ہے، جس پر مزید تحقیقی کام کی گنجائش موجود ہے۔