چترال کے صحت سے متعلق مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے، مشیر صحت ڈاکٹر نگار جوہر
ٹی ایچ کیو ہسپتال گرم چشمہ کی اپ گریڈیشن، ایمبولینس کی فراہمی اور ڈی ایچ کیو ہسپتال بونی کی آؤٹ سورسنگ کے معاملے پر وفد سے تبادلہ خیال
۔
پشاور(نمائندہ چترال ٹائمز ) سابق صوبائی وزیر اور ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا سلیم خان کی قیادت میں پیپلز پارٹی چترال کے ایک نمائندہ وفد نے مشیر صحت خیبر پختونخوا لیفٹیننٹ جنرل (ر) ڈاکٹر نگار جوہر سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور چترال کے مختلف سرکاری ہسپتالوں کو درپیش مسائل، طبی سہولیات کی بہتری اور ڈاکٹروں کی کمی سمیت دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
وفد میں پیپلز پارٹی اپر چترال کے صدر سید شیر حسین، ممبر صوبائی کونسل پیپلز پارٹی ایڈووکیٹ سراج علی خان اور نائب صدر سوشل میڈیا ٹیم چترال اسرار الدین شامل تھے۔ وفد نے مشیر صحت کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد بھی دی۔
ملاقات کے دوران ٹی ایچ کیو ہسپتال گرم چشمہ کو کٹیگری ڈی کا درجہ دینے، اسے اپ گریڈ کرنے اور نئی ایمبولینس فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں ڈاکٹروں کی کمی دور کرنے اور دیگر مسائل کے حل پر بھی بات چیت ہوئی۔
وفد نے ڈی ایچ کیو ہسپتال بونی کی آؤٹ سورسنگ کے معاملے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپر چترال کے عوام اس ہسپتال کی نجکاری کے حامی نہیں، کیونکہ بونی میں پہلے ہی آغا خان ہیلتھ سروس کا ایک نجی ہسپتال موجود ہے، جہاں غریب اور متوسط طبقے کے افراد کے لیے علاج معالجے کے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہے۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال بونی کو آؤٹ سورس کرنے کا عمل روکا جائے۔
مشیر صحت ڈاکٹر نگار جوہر نے وفد کو یقین دلایا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال بونی کے معاملے پر محکمہ صحت کے متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد کوئی مناسب حل نکالا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایچ کیو ہسپتال گرم چشمہ کی اپ گریڈیشن کے لیے باقاعدہ عمل شروع کرکے مناسب بجٹ مختص کیا جائے گا، جبکہ ایمبولینس کی فراہمی کے لیے ریسکیو 1122 سے رابطہ کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال نرسنگ کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے مزید 100 طلبہ کو اسکالرشپس فراہم کی جائیں گی اور صوبے میں صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
مشیر صحت نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ چترال کے صحت سے متعلق مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے اور اس سلسلے میں وہ جلد چترال کا دورہ بھی کریں گی۔
