The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 3 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

چترال میں تجاوزات ہٹانے کی آڑ میں کچھ آفسران اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کررہے ہیں،  چوبیس گھنٹوں کے اندر مذکورہ افسران کے خلاف کاروائی کی جائے، امیر جماعت اسلامی 

Chitral Times

چترال میں تجاوزات ہٹانے کی آڑ میں کچھ آفسران اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کررہے ہیں،  چوبیس گھنٹوں کے اندر مذکورہ افسران کے خلاف کاروائی کی جائے، امیر جماعت اسلامی 

چترال میں تجاوزات ہٹانے کی آڑ میں کچھ آفسران اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کررہے ہیں،  چوبیس گھنٹوں کے اندر مذکورہ افسران کے خلاف کاروائی کی جائے، امیر جماعت اسلامی 

چترال میں تجاوزات ہٹانے کی آڑ میں کچھ آفسران اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کررہے ہیں،  چوبیس گھنٹوں کے اندر مذکورہ افسران کے خلاف کاروائی کی جائے، امیر جماعت اسلامی

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) امیر جماعت اسلامی لوئر چترال وجیہہ الدین نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد اینٹی انکروچمنٹ مہم کے بہانے چترال کے معصوم اور قانون پسند شہریوں کے خلاف توڑ پھوڑ اور زیادتیوں کا جو سلسلہ روز کا معمول بن چکا ہے، جماعت اسلامی اسے کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ افسران اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے رہنماؤں مولانا جمشید، عبدالحق، فضل ربی جان اور سول سوسائٹی کے نمائندوں ظفر حیات ایڈووکیٹ، صدر ڈسٹرکٹ بار مومن الرحمن، ریاض احمد دیوان بیگی، قاری عبدالرحمن گجر اور دیگر کے ہمراہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وجیہہ الدین نے بتایا کہ اے ڈی سی (جنرل) اور اسسٹنٹ کمشنر نے جماعت اسلامی کے صوبائی رہنما اور سابق ضلع ناظم مغفرت شاہ کی ملکیت میں قائم اسکول کی عمارت کو بیدردی سے مسمار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان افسران نے تجاوزات کے خاتمے سے متعلق قوانین کو پڑھنے کی زحمت تک نہیں کی، جن کے تحت کسی بھی کارروائی سے قبل متاثرہ فریق کو 3 سے 7 دن کا نوٹس دینا لازمی ہوتا ہے اور انہیں اپیل کا حق بھی حاصل ہوتا ہے، لیکن ان دونوں افسران نے من مانی کرتے ہوئے قانون کی دھجیاں اڑا دیں۔

انہوں نے ریکارڈ پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ سابق ضلع ناظم نے سال 2000 میں مقامی لوگوں کی درخواست پر اپنی ذاتی زمین کا ایک ٹکڑا لنک روڈ کے مساوی حصے سے تبدیل کیا تھا، اس وقت وہ کسی سرکاری عہدے پر نہیں بلکہ ایک عام شہری تھے۔ اس تبادلے کی باقاعدہ منظوری سی اینڈ ڈبلیو (C&W) ڈپارٹمنٹ کے اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئر نے دی تھی۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں سرکاری دستاویزات کی فوٹو کاپیاں دکھاتے ہوئے کہا کہ 2016 میں اس معاملے پر نیب (NAB) کی انکوائری بھی ہوئی تھی جس میں اسے کلیئر قرار دیا گیا تھا۔

جماعت اسلامی کے رہنما کا کہنا تھا کہ متعلقہ افسران نے ایک نجی اسکول کی عمارت کو بغیر کسی ایک گھنٹے کے پیشگی نوٹس کے اچانک مسمار کرنا شروع کر دیاجبکہ سابق ضلع ناظم کی ضعیف العمر ماں کی شدید بیماری کا بھی خیال نہیں رکھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان افسران کی تجاوزات کے خلاف پچھلی کارروائیاں بھی قانونی تحفظ سے محروم تھیں، لیکن اعلیٰ حکام کی جانب سے نوٹس نہ لیے جانے کے باعث ان کے حوصلے مزید بلند ہوئے اور انہوں نے اس قسم کے غیر قانونی اقدامات جاری رکھے۔

امیر جماعت اسلامی لوئر چترال نے حکومت کو الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ 24 گھنٹوں کے اندر ان دونوں افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مستقبل میں چترال میں ایسا کوئی غیر قانونی اقدام نہ دہرایا جائے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے کارروائی نہ کی تو جماعت اسلامی اگلے سخت لائحہ عمل کا اعلان کرنے پر مجبور ہوگی۔بعدازاں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے اتالیق پل تک احتجاجی مارچ کیا اور اتالیق پل میں احتجاجی جلسہ منعقد کیا جہاں جماعت اسلامی کے ضلعی امیر وجیہہ الدین اور دوسروں کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام لویر چترال کے امیر اور سابق ایم پی اے مولانا عبدالرحمن نے بھی خطاب کیا اور اس واقعے کی مذمت کی۔

دریں اثناء ضلعی انتظامیہ لوئر چترال کی طرف سے جاری کردہ ایک اخباری بیان میں کہا گیا ہے کہ انسداد تجاوزات مہم کے دوران قبضہ مافیا کی ضلعی انتظامیہ کے آفیسر اور لیویز اہلکاروں پر فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل عبدالسلام اور اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر عدنان حیدر ملوکی بال بال بچ گئے جبکہ 2 لیویز اہلکار زخمی ہوگئے جنہیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال لوئر چترال منتقل کیا گیا ہے۔ اخباری بیان کے مطابق فائرنگ سابق ضلعی ناظم حاجی مغفرت شاہ نے کی جس نے مبینہ طور پر سرکاری اراضی قبضہ کیا تھاجسے ان سے واگزار کرالی گئی۔ ڈپٹی کمشنر / کمانڈنٹ لیویز لوئر چترال احسان اللہ اور دیگر آفیسران نے ہیڈکوارٹر ہسپتال لوئر چترال کا دورہ کیا اور زخمی ہونیوالے لیویز اہلکاروں کی عیادت کی۔

chitraltimes jamat islami press confrence against district admin anti encrochment drive 3

chitraltimes jamat islami press confrence against district admin anti encrochment drive 1 chitraltimes jamat islami press confrence against district admin anti encrochment drive 7

chitraltimes anti encrochment drive jughoor ex nazim house 1

chitraltimes anti encrochment drive jughoor ex nazim house 2