بروقت گورنر راج نافذ نہ کرتے تو خیبر پختونخوا کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا، وزیراعظم شہباز شریف
.
این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کو 800 ارب روپے ملے، پولیس کی پانچ ہزار خالی آسامیوں پر بھرتی کیوں نہیں کی گئی؟ وزیراعظم کا مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی اور عہدیداروں سے خطاب
اسلام آباد (چترال ٹائمز رپورٹ) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ناگزیر حالات کے پیش نظر خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، کیونکہ بروقت فیصلہ نہ کیا جاتا تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عوام، ملک، معیشت اور معاشرے کو بچانے کے لیے فیصلہ کرنا ضروری تھا۔
مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کی پارلیمانی پارٹی اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ بطور وزیراعظم پاکستان اور قائد محمد نواز شریف کے کارکن کی حیثیت سے ان سے مخاطب ہیں۔ خیبر پختونخوا وطن عزیز کا خوبصورت صوبہ ہے اور یہاں کے عوام غیور، دلیر اور باوقار ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے صوبے میں جمہوری روایات کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2013ء کے انتخابات کے بعد قائد محمد نواز شریف نے صوبے میں اکثریتی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع دیا۔ ان کے مطابق نواز شریف کی جمہوری سوچ اور فراخ دلی نے خیبر پختونخوا میں جمہوریت کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا۔ وزیراعظم نے صوبے میں گزشتہ 13 سال سے برسراقتدار جماعت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ اس عرصے میں کتنی یونیورسٹیاں اور اسپتال قائم کیے گئے؟ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت کے بجائے سیاسی نعروں اور تقسیم در تقسیم پر توجہ دی گئی، جبکہ پشاور سے کوہستان، ہزارہ اور جنوبی اضلاع تک عوامی مسائل عدم توجہی کا شکار رہے۔
وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوام، پولیس، فوج اور سیاسی رہنماؤں نے اس جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی اور معاشی نقصان اٹھایا۔ نواز شریف کے دور میں پوری قوم اور اداروں نے مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور آج بھی قوم کے ذہنوں میں تازہ ہے اور معصوم بچوں کی شہادت کا یہ واقعہ تاریخ کا ایک المناک باب ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران ملک میں لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کی گئی، جبکہ 2014ء کے دھرنے کے باعث چینی صدر کا دورۂ پاکستان مؤخر ہوا۔ تاہم 2015ء میں صدر شی جن پنگ کے دورۂ پاکستان کے موقع پر اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے 20، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ بھی نواز شریف کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ تھا۔
وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ 2019ء اور 2020ء میں افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لا کر بسایا گیا، جس کے نتیجے میں دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا اور ملک کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ماضی کی طرح مل کر مقابلہ کرنے کی دعوت دی گئی، لیکن ان کی بات نہیں سنی گئی۔
خیبر پختونخوا کے مالی وسائل کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 2010ء کے این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کے لیے ایک فیصد اضافی وسائل مختص کرنے پر اتفاق ہوا تھا اور اس کے تحت اب تک صوبے کو 800 ارب روپے مل چکے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان وسائل سے صوبے میں کتنے سیف سٹی منصوبے قائم کیے گئے اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی کو کتنا مضبوط بنایا گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں پولیس کی پانچ ہزار خالی آسامیوں پر بھرتی نہیں کی گئی، حالانکہ دستیاب وسائل پولیس کو جدید اسلحہ اور تربیت فراہم کرنے پر خرچ ہونے چاہییں تھے۔
شہباز شریف نے کہا کہ عسکری اور سیاسی قیادت نے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مشترکہ طور پر شبانہ روز محنت کی ہے۔ عالمی حالات اور خلیج کی جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، تاہم مشکلات کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فیول سبسڈی اسکیم شروع کی، جس سے اب تک ایک کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عوامی ریلیف کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور غریب طبقے کو سہولت فراہم کرنا حکومت کی اہم ترجیح ہے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ اس سے قبل مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی کمیٹی نے 48 گھنٹے تک مذاکرات کیے، تاہم مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا جاتا رہا، جو نہ مل سکی۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں عوام، ملک، معیشت اور معاشرے کو بچانے کے لیے فیصلہ کرنا ضروری تھا۔ اگر بروقت فیصلہ نہ کیا جاتا تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کی ترقی، خوشحالی اور عوامی خدمت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
