The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 1 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

گرم چشمہ کے سرحدی دیہات واخت اور گوبوربخ میں دو پرائمری اسکولوں کی عمارات محکمہ تعلیم کے حوالے

Chitral Times

گرم چشمہ کے سرحدی دیہات واخت اور گوبوربخ میں دو پرائمری اسکولوں کی عمارات محکمہ تعلیم کے حوالے

گرم چشمہ کے سرحدی دیہات واخت اور گوبوربخ میں دو پرائمری اسکولوں کی عمارات محکمہ تعلیم کے حوالے

گرم چشمہ کے سرحدی دیہات واخت اور گوبوربخ میں دو پرائمری اسکولوں کی عمارات محکمہ تعلیم کے حوالے

AKAH نے دونوں اسکولوں کی تعمیر و مرمت مکمل کر لی، عمارتوں کو شمسی توانائی، جدید واش رومز اور آفات سے محفوظ بنانے کی سہولیات فراہم کر دی گئیں

۔

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز)  وادی گرم چشمہ کے دور افتادہ سرحدی دیہات واخت اور گوبوربخ میں تعلیمی سہولیات کی بہتری کے لیے ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں آغا خان ایجنسی برائے ہیبی ٹیٹ (AKAH) نے دو سرکاری پرائمری اسکولوں کی نو تعمیر شدہ اور مرمت شدہ عمارات باضابطہ طور پر محکمہ تعلیم لوئر چترال کے حوالے کر دی ہیں۔

اس سلسلے میں ہفتے کے روز منعقدہ افتتاحی تقریبات میں ڈپٹی کمشنر لوئر چترال احسان اللہ نے دونوں اسکولوں کی افتتاحی تختیوں کی نقاب کشائی کی۔ اس موقع پر AKAH کے ریجنل پروگرام منیجر الطاف حسین شاہ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر شاہد حسین، مقامی عمائدین اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی موجود تھے۔

پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کے علاقائی انضمام کے پروگرام (PATRIP) فاؤنڈیشن کے مالی تعاون سے شروع کیے گئے اس بحالی منصوبے کو AKAH نے مکمل کیا ہے۔ منصوبے کے تحت اسکولوں میں اضافی کلاس رومز اور جدید واش رومز تعمیر کیے گئے، عمارات کو شمسی توانائی کے نظام پر منتقل کیا گیا، حفاظتی دیواروں پر خاردار تاریں نصب کی گئیں جبکہ خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کی آسان آمدورفت کے لیے ریمپ بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی پائیداری اور قدرتی آفات کے مقابلے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے کلاس رومز میں جدید گرین ریٹروفٹنگ تکنیک بھی متعارف کرائی گئی ہے۔

تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے دونوں اسکولوں کی پیرنٹ ٹیچر کونسلز کے چیئرمین، واخت کے شیر اعظم اور گوبوربخ کے اسماعیل خان نے بحالی کے کام کے معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے AKAH کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اسکول 1980ء کی دہائی میں قائم کیے گئے تھے، تاہم چار دہائیوں سے زائد عرصے تک ان عمارات کی مناسب دیکھ بھال نہیں ہوئی اور بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں تھیں۔ ان کے مطابق حالیہ تعمیر و مرمت کا معیار ان کی توقعات سے بڑھ کر ہے، جس کے بعد بچوں میں اسکول آنے کا نیا جذبہ پیدا ہوا ہے، حتیٰ کہ پہلے اسکول نہ جانے والے بچے بھی اب داخلے کے خواہش مند ہیں۔

ڈپٹی کمشنر لوئر چترال احسان اللہ نے اپنے خطاب میں قدرتی آفات سے بچاؤ اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے حوالے سے AKAH کی بروقت اور قابلِ اعتماد خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں چترال کا اسکولوں میں داخلے کا تناسب مثالی ہے، جس میں AKAH جیسی ترقیاتی تنظیموں کی مشترکہ کوششوں کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے مقامی آبادی کو یقین دلایا کہ ضلعی انتظامیہ معیاری تعلیم کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گی۔

AKAH کے ریجنل پروگرام منیجر الطاف حسین شاہ نے منصوبے کے تکنیکی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ گرین ریٹروفٹنگ تکنیک کے ذریعے اسکولوں کی عمارات کو زلزلوں اور دیگر زمینی حرکات کے اثرات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی طرز پر اپر چترال کے مزید چار سرکاری اسکولوں کی بحالی اور بہتری کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر شاہد حسین نے اسکولوں میں فراہم کی گئی نئی سہولیات کے معیار کو سراہتے ہوئے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو اسکولوں میں داخل کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں معیارِ تعلیم بہتر بنانے کے لیے حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مقامی برادری کو یقین دلایا کہ اگر دونوں اسکولوں میں طلبہ کی تعداد میں مسلسل اضافہ برقرار رہا تو محکمہ تعلیم انہیں مڈل کا درجہ دینے پر غور کرے گا۔

تقریبات میں AKAH کے سینئر انجینئر بایار لطیف اور فیلڈ انجینئر سرتاج عزیز بھی موجود تھے۔

chitraltimes two school in gobor valley handover to edu department by akah 1 chitraltimes two school in gobor valley handover to edu department by akah 2 chitraltimes two school in gobor valley handover to edu department by akah 7 chitraltimes two school in gobor valley handover to edu department by akah 9

chitraltimes two school in gobor valley handover to edu department by akah 6