The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 31 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

صحت کارڈ بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز آپریشن اور مختلف شعبوں میں اصلاحات جاری ہیں، ثمر ہارون بلور

Chitral Times

صحت کارڈ بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز آپریشن اور مختلف شعبوں میں اصلاحات جاری ہیں، ثمر ہارون بلور

صحت کارڈ بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز آپریشن اور مختلف شعبوں میں اصلاحات جاری ہیں، ثمر ہارون بلور

صحت کارڈ بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز آپریشن اور مختلف شعبوں میں اصلاحات جاری ہیں، ثمر ہارون بلور

 دیر کالونی واقعے کی تحقیقات مکمل، 4049 تعلیمی اداروں کی مرمت کی نشاندہی، پولیس کے حوالے آٹھ جدید بکتر بند گاڑیاں،

.

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ ’’بدلتا، نکھرتا اور مضبوط خیبر پختونخوا‘‘ کے وژن کے تحت صوبے میں ادارہ جاتی اصلاحات، بہتر طرزِ حکمرانی، شفافیت اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔

اطلاع سیل، سول سیکرٹریٹ پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحافیوں سے کیے گئے وعدے کے مطابق گورنر اور ایڈوائزری کونسل کی سرگرمیوں اور اقدامات سے میڈیا کو مسلسل آگاہ رکھا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پشاور کے علاقے دیر کالونی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد صوبے بھر کے سرکاری و نجی اسکولوں اور مدارس کا معائنہ کیا گیا، جس کے دوران 4049 تعلیمی اداروں میں مرمت اور بحالی کی ضرورت کی نشاندہی ہوئی۔ ان اداروں کی بہتری کے لیے جامع منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ اداروں کے طلبہ کو قریبی سرکاری اسکولوں میں منتقل کرنے، جماعتوں کے مطابق ان کی ایڈجسٹمنٹ اور ضرورت پڑنے پر دوسری شفٹ شروع کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے، تاکہ بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو۔

ثمر ہارون بلور نے کہا کہ دیر کالونی واقعے کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں اور تفصیلی رپورٹ جلد میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔ متعلقہ محکموں اور تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز کی ذمہ داریوں کے تعین کے لیے ذیلی کمیٹی بھی کام کر رہی ہے، تاکہ عمارتوں کی منظوری، معائنے اور نگرانی کے عمل میں ممکنہ غفلت کا تعین کیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے حوالے آٹھ جدید بکتر بند گاڑیاں کی گئی ہیں، جبکہ آئندہ پانچ سے چھ ہفتوں میں پولیس کے بنیادی ڈھانچے اور استعدادِ کار کو مزید بہتر بنانے کے لیے منصوبہ تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو جدید وسائل اور سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

صحت کارڈ کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ پروگرام میں موجود داخلی بے ضابطگیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم اسے بند یا منسوخ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (MTIs) کی کارکردگی، انتظامی امور اور بورڈز میں شامل افراد کی پیشہ ورانہ اہلیت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اہم عہدوں پر تقرریاں سیاسی وابستگی یا ذاتی تعلقات کے بجائے میرٹ اور پیشہ ورانہ قابلیت کی بنیاد پر ہونی چاہئیں۔

تجاوزات کے خلاف مہم کے حوالے سے مشیر اطلاعات نے کہا کہ سرکاری اراضی، گرین بیلٹس اور نکاسی آب کے نظام پر غیر قانونی قبضوں کے خاتمے کے بغیر پشاور کے ٹریفک اور سیوریج مسائل حل کرنا ممکن نہیں۔ کارروائی بلاامتیاز جاری ہے اور کسی کو سفارش یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر رعایت نہیں دی جا رہی۔ تجاوزات کے خاتمے کے بعد ان مقامات کی بحالی اور تزئین و آرائش بھی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اربن سینیٹیشن اور واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی (WSSP) کی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے اور صفائی کا عملہ رات گئے تک خدمات انجام دے رہا ہے۔ پشاور میں عرصہ دراز سے جمع کچرے کی صفائی جاری ہے، جبکہ کچرا اٹھانے کا جامع منصوبہ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ مین ہولز کے ڈھکنوں اور کوڑا دانوں کی کمی دور کرنے کے ساتھ ان کی مستقل دستیابی یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

نوجوانوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ زلمی مدرسہ لیگ اختتام پذیر ہو چکی ہے، جبکہ خیبر ٹی وی کے تعاون سے نوجوانوں کے لیے ایک اور مثبت سرگرمی کا جلد اعلان کیا جائے گا۔

ڈیجیٹل گورننس کے حوالے سے ثمر ہارون بلور نے بتایا کہ قانونی امور کے مشیر عامر جاوید کی کوششوں سے مختلف اداروں کو ان کے متعلقہ دائرہ کار اور اختیارات کے مطابق ایک مشترکہ ڈیجیٹل پورٹل پر یکجا کیا گیا ہے، جو فعال ہو چکا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے محکمہ اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور، انفارمیشن کمیشن، صوبائی محتسب، رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن، رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن، خیبرپختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ، صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ، محکمہ انسدادِ بدعنوانی اور محکمہ محنت سمیت مختلف اداروں کی خدمات تک رسائی ممکن ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو ایک ہی پلیٹ فارم سے شکایات درج کرانے اور متعلقہ اداروں تک رسائی فراہم کرنا ہے۔

سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی تاحال پروٹیکٹو کسٹڈی میں ہیں۔ ان کے مطابق اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات سے متعلق دستیاب شواہد یکجا کیے جا رہے ہیں اور تحقیقات کے بعد مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔

مولانا فضل الرحمٰن کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ مولانا ایک سینئر اور قابلِ احترام سیاست دان ہیں، تاہم ان کے حالیہ بیانات میں سیاسی ناراضی اور جھنجھلاہٹ کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) کے دور سے متعلق کرپشن کے الزامات اور بعض قریبی افراد کے حوالے سے سامنے آنے والے معاملات کی تحقیقات ضروری ہیں۔ ان کے خیال میں موجودہ ٹیکنوکریٹ سیٹ اَپ میں مطلوبہ سیاسی کردار نہ ملنا بھی مولانا فضل الرحمٰن کی ناراضی کی ایک وجہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت مولانا فضل الرحمٰن کی مثبت تجاویز اور رہنمائی کا خیرمقدم کرے گی اور کسی بھی غلطی کی نشاندہی کو خوش دلی سے قبول کیا جائے گا۔ تاہم حکومت کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ان کے مطابق صوبے کے مفاد کا تحفظ، ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور معاملات کو ادارہ جاتی طریقہ کار کے تحت آگے بڑھانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

آخر میں ثمر ہارون بلور نے کہا کہ ’’بدلتا، نکھرتا اور مضبوط خیبر پختونخوا‘‘ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ بہتر طرزِ حکمرانی، ادارہ جاتی اصلاحات، شفافیت، احتساب اور عوامی خدمت کا عملی وژن ہے، جس کی تکمیل کے لیے تمام اہم شعبوں میں اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔