The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 31 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

کریم داد بن اخوند درویزہ ؒ کا علمی و ادبی ورثہ – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

Chitral Times

کریم داد بن اخوند درویزہ ؒ کا علمی و ادبی ورثہ – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

کریم داد بن اخوند درویزہ ؒ کا علمی و ادبی ورثہ – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

کریم داد بن اخوند درویزہ ؒ کا علمی و ادبی ورثہ – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

.

پشتو کے کلاسیکی ادب کی ابتدائی تاریخ میں کریم داد بن اخوند درویزہؒ کا نام ایک اہم علمی و ادبی شخصیت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ انہیں عموماً اخوند درویزہ کے صاحبزادے کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے، تاہم اپنی تصنیفی اور شعری خدمات کے اعتبار سے بھی کریم داد خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ شخصیت میں عالم، صوفی، صاحبِ قلم اور شاعر کی متعدد جہتیں جمع تھیں، جنہوں نے سوات کی ابتدائی علمی و ادبی روایت کو متاثر کیا۔

کریم داد کی تصنیفی خدمات کا دائرہ دینی، فقہی، صوفیانہ اور ادبی موضوعات تک پھیلا ہوا تھا۔ مختلف علمی روایتوں میں تحفتہ الخانی، مسائل النساء، شرح جامِ جہاں نما اور کلمات الوفیات جیسے کام کریم داد سے منسوب کیے گئے ہیں۔ اگرچہ ان تمام تصانیف کے مخطوطاتی شواہد یکساں طور پر دستیاب نہیں، تاہم مذکورہ تصانیف کا تذکروں میں ملنا وسیع علمی ذوق اور مختلف موضوعات سے گہری وابستگی کی نشان دہی کرتا ہے۔ فقہ، عقائد، اخلاق اور تصوف اُنکی علمی سرگرمیوں کے نمایاں موضوعات دکھائی دیتے ہیں۔

تحفتہ الخانی یا فتاویٰ تحفتہ الخانی کریم داد کی علمی شخصیت کے فقہی پہلو کو سمجھنے کیلئے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس تصنیف کی نسبت اُنہیں ایسے عالم کے طور پر سامنے لاتی ہے جو فقہی اور اعتقادی مسائل پر باقاعدہ قلم اٹھاتے تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ علمی دلچسپی صرف صوفیانہ افکار اور روحانی موضوعات تک محدود نہیں تھی بلکہ مذہبی فکر کے بنیادی مباحث بھی مطالعے اور تصنیف کے دائرے میں شامل تھے۔

کریم داد کی ادبی اہمیت کا ایک بڑا حوالہ مخزن الاسلام ہے، جس میں علمی شرکت کے متعدد شواہد ملتے ہیں۔ تحریری کاوشوں نے دینی اور فکری مواد کو محفوظ رکھنے اور اسے پشتو علمی روایت کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اُس زمانے میں پشتو ابھی علمی نثر کی تشکیل کے ابتدائی مراحل میں تھی، اِس لیے مذہبی، فقہی اور صوفیانہ مباحث کو اس زبان میں پیش کرنا خود ایک بڑی ادبی خدمت تھی۔

کریم داد کا سب سے نمایاں ادبی حوالہ شاعری ہے۔ اگرچہ مکمل دیوان آج عام دستیاب نہیں، تاہم شعری نمونے محفوظ روایات اور بعض قدیم متون میں ملتے ہیں۔ کلام کی موجودگی اس امر کی دلیل ہے کہ وہ صرف نثر کے صاحبِ قلم نہیں تھے بلکہ شعر بھی کہتے تھے۔ ابتدائی سواتی ادبی روایت میں شمار ایسے شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے پشتو شاعری کو مذہبی اور روحانی مضامین کے اظہار کا وسیلہ بنایا۔

کریم داد کی شاعری کا بنیادی مزاج صوفیانہ ہے، جس میں معرفت، تزکیۂ نفس، عشقِ الٰہی اور دنیاوی خواہشات سے بے نیازی جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ یہاں شعر محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ ایک روحانی تجربے اور باطنی کیفیت کی ترجمانی بھی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کلام کو سوات کی اس قدیم ادبی روایت کے تناظر میں اہم سمجھا جاتا ہے جس میں مذہبی تعلیم، تصوف اور شاعری ایک دُوسرے سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔

شعری مزاج میں حقیقت کی تلاش اور انسانی نفس کی اصلاح بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ کلام میں ظاہری زندگی کی خواہشات سے فاصلے، باطن کی صفائی اور معرفت کے حصول کا پیغام نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ بعض اشعار میں فنا اور خودی کے زوال کا صوفیانہ تصور بھی سامنے آتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ شاعری اپنے عہد کے مذہبی ماحول کی عکاسی کیساتھ ساتھ ایک مخصوص روحانی اور فکری تجربے کی ترجمان بھی ہے۔

کریم داد کے علمی ورثے کی ایک اہم خصوصیت دینی علم اور ادبی اظہار کے درمیان قائم ہونیوالا مضبوط رشتہ ہے۔ یہاں مذہبی تعلیم محض خشک علمی بحث نہیں بنتی بلکہ اخلاق، روحانیت اور انسانی کردار کی اصلاح سے جڑ جاتی ہے۔ اسی طرح شاعری صرف شعری صنعت کا مظاہرہ نہیں بلکہ معرفت اور باطنی تربیت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ یہی امتزاج کریم داد کی شخصیت کو اپنے عہد کے دُوسرے اہلِ علم سے ممتاز کرتا ہے۔

تصنیفی اور شعری خدمات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کریم داد ابتدائی پشتو علمی روایت کی ایک اہم کڑی دکھائی دیتے ہیں۔ منسوب تصانیف، علمی نثر اور محفوظ شعری سرمایہ ایک ہمہ جہت علمی مزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ شخصیت اُس دور کی نمائندگی کرتی ہے جب مذہبی علم، تصوف اور ادب ایک دُوسرے سے مربوط ہو کر نئی ادبی فضا تشکیل دے رہے تھے۔ کریم داد کا کام اسی فضا کے ارتقا میں قابلِ ذکر حیثیت رکھتا ہے۔

کریم داد کا علمی و ادبی ورثہ اسی ہمہ جہتی میں پوشیدہ ہے۔ وہ عالم بھی تھے، صاحبِ تصنیف بھی اور شاعر بھی۔ دینی فکر، صوفیانہ تجربے اور شعری اظہار کو ایک ایسی روایت میں آگے بڑھانے میں اُنکا کردار نمایاں رہا جسکے اثرات بعد کی پشتو ادبی تاریخ میں بھی محسوس ہوتے ہیں۔ کریم داد کا نام اِسی لیے محض ایک تاریخی شخصیت کے طور پر نہیں بلکہ پشتو کے قدیم علمی و ادبی ورثے کے ایک اہم اور قابلِ تحقیق کردار کے طور پر یاد رکھنے کا مستحق ہے۔