بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے خلاف اہالیانِ دروش کا احتجاج جاری، چترال پشاور روڈ بند
سولہ روزہ مذاکرات ناکام، دروش میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال؛ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کرکے 4 گھنٹے تک محدود کرنے کا مطالبہ
.
دروش (نمائندہ چترال ٹائمز) واپڈا (پیسکو ) حکام کے ساتھ 16 روز تک جاری رہنے والے مذاکرات ناکام ہونے اور دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد اہالیانِ دروش نے 12 گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف ختمِ نبوت چوک دروش میں احتجاجی جلسہ شروع کر دیا ہے۔ احتجاج کے باعث چترال پشاور مرکزی شاہراہ بند ہے، جبکہ دروش میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے۔
دروش ایکشن فورم، آل پارٹیز، تجار یونین اور ڈرائیور یونین کی مشترکہ کال پر احتجاجی جلسے کا آغاز صبح 10 بجے ہوا۔ جلسے کی قیادت دروش ایکشن فورم کے صدر عمران الملک کر رہے ہیں، جبکہ جمعیت علمائے اسلام لوئر چترال کے سینئر نائب امیر قاری جمال عبدالناصر سمیت مختلف سیاسی جماعتوں، تجارتی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندے شریک ہیں۔ مختلف دیہات سے شہریوں کی بڑی تعداد بھی احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچ رہی ہے۔
مظاہرین کا بنیادی مطالبہ ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹے سے کم کرکے سابقہ شیڈول کے مطابق 4 گھنٹے تک محدود کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ واپڈا حکام نے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ اچانک 4 گھنٹے سے بڑھا کر 12 گھنٹے کر دیا ہے، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مظاہرین کے مطابق علاقے میں بجلی کی دستیابی، صارفین کی جانب سے بلوں کی ادائیگی اور کنڈا سسٹم نہ ہونے کے باوجود طویل لوڈشیڈنگ سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ بجلی کے بل ادا نہ کرنے والے صارفین کے خلاف انفرادی کارروائی کی جائے اور ان کی وجہ سے تمام صارفین کو طویل لوڈشیڈنگ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے واپڈا کے خلاف نعرے لگائے، جبکہ انتظامیہ کے حق میں بھی نعرے بلند کیے گئے۔ مقررین نے عوام کے ساتھ تعاون کرنے پر اسسٹنٹ کمشنر دروش، ڈی ایس پی دروش، ایس ایچ او دروش اور ڈپٹی کمشنر لوئر چترال کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 16 روز کے دوران انتظامیہ نے واپڈا حکام کے ساتھ مذاکرات میں کردار ادا کیا، تاہم مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔
مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ اگر لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کرکے 4 گھنٹے تک محدود نہ کیا گیا تو وہ رات ختمِ نبوت چوک میں گزاریں گے۔ اس مقصد کے لیے چوک میں چائے تیار کرنے اور رات کے کھانے کا بھی انتظام کیا گیا ،
مظاہرین نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر لوڈشیڈنگ کا سابقہ شیڈول بحال کیا جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔ احتجاجی جلسہ تاحال جاری ہے۔
