The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 27 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

گورنر خیبرپختونخوا کی زیرِ صدارت پشاور ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان کا جائزہ، ٹریفک مسائل کے حل اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے اقدامات کی ہدایت

Chitral Times

گورنر خیبرپختونخوا کی زیرِ صدارت پشاور ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان کا جائزہ، ٹریفک مسائل کے حل اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے اقدامات کی ہدایت

گورنر خیبرپختونخوا کی زیرِ صدارت پشاور ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان کا جائزہ، ٹریفک مسائل کے حل اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے اقدامات کی ہدایت

گورنر خیبرپختونخوا کی زیرِ صدارت پشاور ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان کا جائزہ، ٹریفک مسائل کے حل اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے اقدامات کی ہدایت

.

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت پشاور ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر کے ترقیاتی منصوبوں، ٹریفک مسائل کے حل، سڑکوں کی بحالی، انڈر پاسز کی تعمیر، پارکنگ، تجاوزات کے خاتمے اور شہری سہولیات کی بہتری سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں مشیر خزانہ طارق محمود پاشا، مشیر بلدیات آصف رفیق، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر گورنر کو ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان کے تحت 100 اور 180 روزہ اہداف، جاری ترقیاتی منصوبوں اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ رنگ روڈ مسنگ لنک کے پہلے اور دوسرے مرحلے کی تکمیل، انڈر پاسز کی تعمیر، بجلی کے کھمبوں کی تنصیب، اسٹریٹ لائٹس اور کیبلنگ کے منصوبے 100 روزہ اہداف میں شامل ہیں۔ پشاور میں تین انڈر پاسز مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ پشتخرہ اور جمیل چوک کے انڈر پاسز جلد مکمل کیے جائیں گے۔ رنگ روڈ اور جی ٹی روڈ پر 50 کروڑ روپے کی لاگت سے بجلی کے کھمبوں کی تنصیب، بحالی، روشنی اور کیبلنگ کا کام بھی جاری ہے۔

گورنر کو پشاور کی 35 اہم سڑکوں کی بحالی، توسیع اور تعمیر کے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پیر زکوڑی فلائی اوور کے دوسرے مرحلے کی تعمیر اور ناصر باغ روڈ کی توسیع پر کام جاری ہے، جبکہ یونیورسٹی روڈ، رام داس چونگی اور لاہوری چوک کے پہلے مرحلے میں انڈر پاسز کی تعمیر کے لیے مشیروں کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں۔

بریفنگ کے مطابق 323 کنال اراضی پر مشتمل نیو پشاور بس ٹرمینل کو سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت جلد فعال کیا جائے گا۔ تجاوزات کے خلاف کارروائی کے بعد خالی کرائی گئی جگہوں سے دو دن کے اندر ملبہ اٹھانے، ان اراضی کو خوبصورت بنانے، گھاس لگانے اور عوامی استعمال کے لیے کھلی جگہیں قائم کرنے کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ پرانے بس اڈوں پر شاپنگ مالز یا رہائشی فلیٹس کی تعمیر کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پیر زکوڑی فلائی اوور سے امن چوک، کارخانو مارکیٹ تک بجلی کی تاریں زیرِ زمین منتقل کرنے کے منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی اور ڈیزائن مکمل ہو چکے ہیں۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے ہدایت کی کہ پورے پشاور میں بجلی کی تاریں زیرِ زمین منتقل کرنے کے منصوبے پر بھی کام کیا جائے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے شہر کی خوبصورتی میں اضافے کے ساتھ بجلی چوری کی روک تھام میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

گورنر نے یونیورسٹی روڈ کی دوبارہ کارپٹنگ ترجیحی بنیادوں پر کرنے اور پشاور کی مختلف نہر کنارے سڑکوں کو لاہور کی طرز پر خوبصورت بنانے کے لیے جدید روشنیوں اور دیگر آرائشی اقدامات کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ تمام جاری ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کیے جائیں اور بجلی کے کھمبوں، اسٹریٹ لائٹس اور دیگر بنیادی شہری سہولیات کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جائے۔

اجلاس میں پشاور کے ٹریفک مسائل، ان کے اسباب، پارکنگ پلازوں کی تعمیر اور ریگی ماڈل ٹاؤن سے متعلق امور پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ دلہ زاک روڈ، چارسدہ روڈ اور سرکلر روڈ پر درمیان میں حفاظتی پٹیوں کی تعمیر کے باعث ٹریفک مسائل کا سامنا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ 2016 کے بعد متعلقہ قانون موجود نہ ہونے کے باعث کوئی رکشہ یا چنگ چی رجسٹرڈ نہیں ہوا۔ اجلاس میں ای چالان نظام کے آغاز پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے ہدایت کی کہ مجوزہ انڈر پاسز کی تعمیر کے منصوبوں پر ٹریفک پولیس سے مشاورت کی جائے اور شہر میں ٹریفک کے زیادہ دباؤ والے مقامات پر مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکمے مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیں۔ انہوں نے کوہاٹ روڈ پر انڈر پاس کی تعمیر کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ چنگ چی اور رکشوں کی رجسٹریشن کے لیے قانون سازی ناگزیر ہے، لہٰذا اس مقصد کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ عوامی مسائل کے حل کے لیے جہاں قانون سازی ضروری ہو، وہاں بلا تاخیر پیش رفت کی جائے۔ گورنر نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی، قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور شہریوں میں ٹریفک قوانین سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے آگاہی مہم شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔

گورنر نے پشاور میں سیاحوں کی آمدورفت والے مقامات کی فوری تزئین و آرائش اور خوبصورتی کے لیے اقدامات کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کے دوران خالی کرائی گئی اراضی کو خوبصورت بنانے کے ساتھ وہاں عوامی استعمال کے لیے کھلی جگہیں قائم کی جائیں، تاکہ شہریوں کو بہتر ماحول اور تفریحی سہولیات میسر آ سکیں۔

.

.

جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال پر گورنر کا اظہارِ افسوس

دریں اثنا، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اپنے تعزیتی بیان میں گورنر نے کہا کہ جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال کی خبر سن کر دلی دکھ ہوا۔ انہوں نے مرحوم کی قومی اور عسکری خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے انتقال سے ملک ایک ممتاز عسکری شخصیت سے محروم ہو گیا ہے۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل عطا کرے۔