چترال: قتل کے مقدمے میں ملزم کو سزائے موت، مقتول کے اہلِ خانہ کا عدالتی فیصلے پر اظہارِ تشکر
۔
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) لوئر چترال کی عدالت نے قتل کے ایک مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم اقبال حیات ولد اسلام الدین، ساکن ژیتور، لٹکوہ گرم چشمہ، کو سزائے موت سنادی۔ مذکورہ مقدمہ گزشتہ تقریباً دو سال سے ایڈیشنل سیشن جج و اضافی ضلع قاضی لوئر چترال کی عدالت میں زیرِ سماعت تھا۔
تفصیلات کے مطابق مقدمے کے حوالے سے موصولہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 12 نومبر 2024ء کو رات تقریباً ساڑھے بارہ بجے شنجور گول کے مقام پر شفیق اللہ ولد گل زار، ساکن ایژ، لٹکوہ گرم چشمہ، کو مبینہ طور پر پانچ لاکھ روپے کے لین دین کے معاملے پر تیز دھار آلے سے وار کرکے قتل کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے مقدمے میں اقبال حیات ولد اسلام الدین کو نامزد کیا گیا تھا۔
مقدمے کی سماعت کے بعد معزز عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ملزم اقبال حیات کو سزائے موت دینے کا حکم جاری کیا۔
فیصلے پر مقتول کے اہلِ خانہ کی جانب سے اطمینان اور اظہارِ تشکر کیا گیا ہے۔ مقتول کے نانا صوبیدار امیر اللہ ساکن گرم چشمہ نے اپنے بیان میں کہا کہ مقتول ان کا نواسہ تھا اور عدالت کی جانب سے انصاف کی فراہمی پر وہ معزز جج اور عدالت کے شکر گزار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے سے مقتول کے بچوں اور ضعیف والدین کو انصاف ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے مقدمے کی پیروی کرنے والے معروف سینئر قانون دان اور سابق سیشن جج امیر گلاب ایڈووکیٹ کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
صوبیدار امیر اللہ کے مطابق وہ اس مقدمے میں انصاف کے تقاضے پورے ہونے پر عدلیہ اور وکیل کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔