The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 27 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

گل اعظم خان گل المعروف پھورولیک ژاؤ – یوسف زیب کٹور

Chitral Times

گل اعظم خان گل المعروف پھورولیک ژاؤ – یوسف زیب کٹور

گل اعظم خان گل المعروف پھورولیک ژاؤ – یوسف زیب کٹور

گل اعظم خان گل المعروف پھورولیک ژاؤ – تحریر: یوسف زیب کٹور

.

آدم و کیا ذات شیر کھل خدایو بندگان
اللہ صورتہ کوستے کی پرائے آدم زادہ گان۔

کاغوں چہ تیغوں کی جست ہوئے ہر کھیو پوشین بوئی
تن چیقیو خوش رفیقو آی کی پوشین بوئے۔

تاریخی روایات اور دستیاب تحقیقی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ گل اعظم خان گل المعروف پھورولیک ژاؤ واخان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ شیر اعظم خان کے فرزند تھے، جو واخان کے میر شاہ مردان علی خان کے چچا زاد بھائی تھے۔ گل اعظم خان گل کی پیدائش پھوریل نامی مقام پر ہوئی، جہاں ان کے والد شیر اعظم خان حاکم تھے۔

بعض روایات میں گل اعظم خان گل کے والد کا نام واضح نہیں ہے تاہم پھورولیک ژاؤ نام سے مشہور و معروف ہیں، بعض روایت کے مطابق ان کے شیر اعظم خان کے بیٹے ہونے کے حوالے سے بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔منشی عبدالرحیم کا سفر بدخشاں نامی رپورٹ بھی دستیاب ہے جس میں واخان کے میر کی خاندانی حسب و نسب اور شخصیت کے بارے میں معلومات دستیاب ہیں۔ تاہم، خیبرے یونین کی جانب سے گل اعظم گل کے مقبرے پر والد کا نام شیر اعظم خان درج کیا گیا ہے۔

ان کی تاریخِ پیدائش کے بارے میں اندازہ لگایا جاتا ہے کہ وہ 1850ء اور 1860ء کے درمیان پیدا ہوئے۔بعض روایت و دستاویزات کے مطابق شیر اعظم خان کے چچا زاد بھائی علی مردان خان 1870ء سے 1883ء تک واخان کے میر رہے۔ برطانوی سیاح اور مؤرخ گارڈن کے بیان کے مطابق، 1876ء میں قلعہ پنج میں میر علی مردان خان سے ان کی ملاقات ہوئی۔ گارڈن نے میر صاحب کو تقریباً پچیس سال کا ایک خوب صورت، نیلی آنکھوں والا اور شگفتہ مزاج نوجوان قرار دیا ہے۔

گارڈن مزید لکھتے ہیں کہ میر صاحب نے انہیں مارخور کے سینگ بطور تحفہ پیش کیے، جبکہ گارڈن نے ان کے لیے قیمتی انگوٹھی پیش کیں۔ میر صاحب کی خواہش پر اس انگوٹھی کو دہلی لے جا کر اس پر چند الفاظ کندہ کروائے گئے اور پھر انہیں واپس بھیج دیا گیا۔ ان الفاظ کو یوں نقل کیا گیا ہے۔

بفضل ان خداوند نگاہ بان
علی مردان غلام شاہ مردان

1880ء اور 1883ء کے درمیانی عرصے میں افغانستان کے امیر عبدالرحمن خان نے بدخشان، واخان اور قتاغان کو یکجا کرکے ایک صوبہ تشکیل دیا اور اس کا انتظام سردار عبداللہ خان کے حوالے کر دیا۔ اس سیاسی تبدیلی کے نتیجے میں واخان کے میر خاندان کو نئے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔
بعض تاریخی دستاویزات کے مطابق، میر علی مردان خان نے بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے پیشِ نظر اپنے خاندان اور دیگر افراد کے ہمراہ اکتوبر 1888ء میں واخان سے چترال کی طرف ہجرت کی۔ ان کے ساتھ تقریباً ایک سو سے ڈیڑھ سو افراد، مال و متاع اور بعض دستاویزات بھی تھیں۔
چونکہ واخان کے حکمران خاندان کے چترال کے شاہی خاندان سے قریبی رشتے تھے، اس لیے چترال آمد کو ان کے لیے نسبتاً محفوظ اور موزوں سمجھا گیا۔ روایت ہے کہ میر علی مردان خان کی والدہ میتار شاہ افضل کی صاحبزادی اور میتار شاہ امان الملک کی بیٹی میر کی زوجہ تھی۔ اسی خاندانی تعلق کی بنا پر چترال میں انہیں پذیرائی حاصل ہوئی۔

چترال پہنچنے پر میتار شاہ امان الملک نے میر علی مردان خان کو شاہی پروٹوکول کے ساتھ ٹھہرایا۔تنویر الملک صاحب نے آپ کتاب میں علی مردان خان کے بارے میں لکھا ہے کہ اسے میتار شاہ امان الملک نے اشکومن کا حکمران مقرر کیا۔۔ فیضی صاحب کی تحقیق کے مطابق، میر علی مردان خان 1923ء میں اشکومن میں وفات پا گئے، جبکہ بعض تاریخی دستاویزات میں ان کی وفات کا سال 1926ء درج ہے۔۔جبکہ تنویر الملک صاحب اپنی کتاب میں میر مردان علی خان کی وفات کو 1924ء لکھا ہے۔ روایت کے مطابق، ان کی میت واخان کے علاقے پنجہ لے جا کر ان کی آبائی قبرستان میں دفن کی گئی۔
شومبرگ نے میر علی مردان خان کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ نہایت نفیس مزاج، سادہ طبیعت اور نمود و نمائش سے دور رہنے والے انسان تھے۔ ان کے ہاتھوں کو بھی غیر معمولی طور پر نازک قرار دیا گیا ہے.

اس خاندان کے نسب کے بارے میں مختلف تاریخی و تحقیقی تحریروں میں اسے عرب النسل قرار دیا گیا ہے۔بڈلف نے بھی اپنے کتاب میں اس نسل کو عرب نسل کہا ہے۔ تاہم، خاندان کے بزرگوں اور اسلاف کی روایت کے مطابق بھی ان کا تعلق عرب نسل سے ہے۔

خاندانی روایات کے مطابق، اس قوم کے افراد وسطی ایشیا، افغانستان اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں آباد ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ تیرہویں اور چودہویں صدی کے دوران واخان پہنچے اور بعد ازاں اٹھارہویں صدی میں وہاں سیاسی اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس دوران انہوں نے خطے کے دیگر شاہی خاندانوں کے ساتھ ازدواجی رشتے قائم کیے، جس سے ان کے سماجی مرتبے اور سیاسی حیثیت میں اضافہ ہوا۔

اس خاندان کو بہادری، شجاعت، محنت اور جفاکشی کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ دشوار گزار سرحدی علاقوں میں آباد ہونے کے باوجود اس خاندان کے افراد نے اپنی سیاسی اور سماجی حیثیت مستحکم کی اور طویل عرصے تک واخان کے علاقے میں حکمرانی اور اثر و رسوخ برقرار رکھا۔

گل اعظم خان گل کے چترال کے شاہی خاندان اور دیگر بااثر خاندانوں سے قریبی رشتے تھے۔ ان کی والدہ حاکم روشن علی خان کے بیٹے رستم علی خان رضاخیل کی صاحبزادی تھی۔ ان کی شادی موڑکہو کے علاقے نوگرام میں ہوئی جہاں ان کی زوجہ حسن الملک رضاخیل المعروف چھتو لال کی صاحبزادی تھی۔ وہ چترال کے معروف شاعر شیر الملک المعروف گدیری لال کی بہن تھی۔
گل اعظم خان گل کی اپنی بہن پشال دوری موڑکہو میں سنگلے لال محمد غنی کے نکاح میں تھی۔

ان خاندانی رشتوں نے گل اعظم خان گل کی چترال سے وابستگی کو مزید گہرا کیا۔ یہی وجہ تھی کہ واخان سے تعلق رکھنے کے باوجود انہوں نے اپنی زندگی کے بہترین ایام کا بیشتر حصہ موڑکہو میں گزارا۔

موڑکہو میں قیام کے دوران ان کی شاعری میں سماجی ناہمواریوں، سیاسی حالات، مخالفین سے کشمکش اور حکمرانوں سے شکوے کی جھلک نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ ان کے بعض اشعار میں احتجاج کا انداز واضح ہے، جبکہ بعض میں طنز اور مزاح کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔

سیاسی مخالفین سے مخاطب ہوتے ہوئے وہ فرماتے ہیں۔
ڈومہ چہ چھربو برارگینی
ملکوں افسران
فان دیتی چانگئے انگونیاں چھند دن ہزاران۔

مہتر چترال سے شکوہ کرتے ہوئے ایک مقام پر کہتے ہیں۔

شادارئیو رہ نو شیکہ انگار مہ کاسے
تیغون آتشی انوس کیشیپان
باسے۔
ژان تہ کارہ نو اوشویا نستو رویان لؤؤ
کشیپی تیغوں دی کی ہوئے داسیر کوڑو۔

گل اعظم خان گل کی مادری زبان وخی تھی، لیکن انہوں نے اپنی جوانی کا بڑا حصہ چترال میں گزارا۔ اسی ماحول نے انہیں کہوار زبان اور اس کے ادبی و شعری مزاج سے قریب کیا۔ انہوں نے کہوار زبان میں ایسی شاعری کی جس میں رومان، احتجاج، طنز، غمِ دوراں اور انسانی جذبات کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔

ان کی انقلابی اور احتجاجی شاعری میں جبر کے خلاف آواز اور اپنے عہد کے سیاسی و سماجی حالات پر ردعمل محسوس ہوتا ہے۔ اس پہلو سے ان کے کلام میں فیض احمد فیض کی انقلابی شاعری کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔
مہتر چترال اور درباریوں کے سیاسی ماحول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں۔

انگریزوں باران بارینیان رایت و چہ میر
آی آخرہ گیاؤ بود ژیبونیان کیڑیو و چہ شاپیر۔

اسی غزل کے ایک اور شعر میں اپنے رقیب کو تند و تیز تیروں کا نشانہ بناتے ہوئے حقارت کے انداز میں کہتے ہیں۔

تہ خرادو موش چھینیتائے
ووخو میتار باک

یہ اشعار اپنے عہد کی سیاسی کشمکش، ذاتی رنجشوں اور شاعر کے مخصوص مزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔
دوسری طرف، ان کی رومانوی شاعری میں محبت، جدائی، بے بسی اور محبوب کی یاد جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ ان کے کلام کا یہ پہلو اردو کے معروف رومانوی اور درد بھرے شاعر ساغر صدیقی کی یاد دلاتا ہے۔
محبوب کی یاد اور دل کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

ہردیو باتین مہ خیال تہ سوری شیرائی
کی لاش لالیمان دنیا خوشپو غونہ بیرائے۔

اسی شعر کے دوسرے بند میں غمِ دوراں اور زمانے کی بے وفائی کا ذکر یوں کرتے ہیں۔

نان تت یاغی بونی، زمانہ سوروتے کی ہائی
تہ تھان قلاہور، ووری مشکو غونہ بیرائے۔

ان اشعار میں محبوب کی یاد، زمانے کی تلخی اور انسانی دل کی بے قراری ایک دوسرے سے ہم آہنگ نظر آتی ہیں۔
گل اعظم خان گل اپنی شاعری میں گزرے ہوئے زمانے اور جوانی کی یادوں کو بھی بڑی درد مندی سے بیان کرتے ہیں۔ ان کے کلام میں ماضی کی خوشیوں، حال کی محرومیوں اور وقت کے بدلتے ہوئے رنگوں کا احساس نمایاں ہے۔
اپنی گزری ہوئی جوانی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

ہوش نو ارتم تن ڈاقیو
ہانیسے پشیمان
ہاموش باؤ مہ سوروتے گونیان زمانوں غم
تاتالیو چھا جورونیان غون
مہ خوش رویو پرچم۔

ان اشعار میں ایک ایسے انسان کی آواز سنائی دیتی ہے جو زندگی کے نشیب و فراز سے گزرنے کے بعد ماضی کی طرف دیکھتا ہے اور اپنی گزری ہوئی خوشیوں کو یاد کرتا ہے۔
گل اعظم خان گل چترال بھر میں پھورولیک ژاؤ کے نام سے معروف ہوئے۔ اگرچہ ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ چترال میں گزرا، لیکن وہ اپنی وخی شناخت پر فخر کرتے تھے۔ اپنی قومی و لسانی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

اوا ووخو سوداگر، دوردانا شینی، گانیسہ نو
تن سورو تہ پروشٹہ ماریم، تو کیڑیسا نو۔

ان کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی اصل شناخت سے گہری وابستگی رکھتے تھے، لیکن ساتھ ہی چترال کی سرزمین، اس کے لوگوں اور اس کی زبان و ثقافت سے بھی مضبوط تعلق قائم کر چکے تھے۔

زندگی کے کسی مرحلے پر گل اعظم خان گل نے چترال میں اجنبیت محسوس کی اور گلگت کے علاقے یاسین کی طرف منتقل ہو گئے۔ یاسین میں قیام کے دوران بھی انہوں نے کہوار زبان میں شاعری جاری رکھی اور اپنے کلام سے اہلِ ذوق کو متاثر کیا۔
اپنے اصل وطن، وخی شناخت اور شاعری کے شوق کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

اوا اصلی وخیک، گیتی یاسین نشیم
قلم مہ ہوستہ تن دوستو، صفاتان نیویشیم۔

اس شعر میں شاعر اپنی اصل شناخت کے ساتھ یاسین میں قیام اور قلم کے ذریعے محبوب کی صفات بیان کرنے کے جذبے کو یکجا کرتا ہے۔
ایک اور شعر میں وہ اپنے آپ کو گلگت یاسین کا ملنگ قرار دیتے ہیں اور محبوب کی بے رخی کے باوجود اس سے وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔

گلگت یاسین تہ ملنگ اسوم
ہردی چھاموران، ژان شریکی ڈاق تہ نو راخسوم۔

ان اشعار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے لیے شاعری محض اظہارِ خیال کا وسیلہ نہیں تھی بلکہ ان کی شناخت، محبت اور داخلی کیفیات کی ترجمان بھی تھی۔

دستیاب معلومات اور مقامی روایات کے مطابق گل اعظم خان گل المعروف پھورولیک ژاؤ کا انتقال اندازاً 1930ء اور 1940ء کے درمیان گلگت کے علاقے یاسین میں ہوا۔ انہیں یاسین کے مقام بران داس، برکوہتی میں سپردِ خاک کیا گیا۔
یوں ان کی زندگی کا سفر واخان کے علاقے پھوریل سے شروع ہوا، جوانی کا بڑا حصہ چترال اور بالخصوص موڑکہو میں گزرا، جبکہ زندگی کے آخری ایام یاسین میں بسر ہوئے۔ ان کا مدفن بھی اسی علاقے میں ہے۔
روایت کے مطابق، ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔
آپ کی کہوار شاعری کے چند مشہور زمانہ بول درجہ ذیل ہیں۔

تو دربارو خونزہ،اوا گدائی تو کو خفا
کلامہ شوت چھوئی مہ کو چانگیسان بے وفا۔

شوم بیتی دایوس وطنہ حال کیچہ بن بوئے

مجنوں گدیری کیا مہ ژان لیلئیو باجے

مہ چھیک تو بسان ڈق کیانی بوم دیوانہ بیتی

ملک انگریز بیرو مہ جم روئے تو کیانی بوس

گل اعظم خان گل کی شخصیت واخان، چترال اور یاسین کے درمیان ایک تاریخی و ثقافتی ربط کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ زبان، شناخت اور شاعری کس طرح مختلف علاقوں اور معاشروں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہیں۔

یہ قوم جسے خطے میں وخک یا وخی شناخت سے بھی جوڑا جاتا ہے،اس کی تاریخ، نسب کے بارے میں بعض دستاویزات اور خاندانی روایات انہیں عرب النسل قرار دیتی ہیں۔اس قوم کے افراد واخان کے علاوہ چترال اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں۔
مقامی تاریخی روایات کے مطابق چترال کے حکمران میتارشاہ کٹور ثانی نے 1777ء میں واخان کی طرف لشکر کشی کی، جس کے نتیجے میں کئی قلعے فتح ہوئے اور ووخک قبیلے کے متعدد افراد چترال آئے۔اسی خاندان کی دو خواتین سے شاہ کٹور ثانی نے شادی بھی کی تھی۔روایت ہے کہ چترال میں آباد اس قوم کے کئی خاندان اسی زمانے سے یہاں مقیم ہیں۔

اس قبیلے کے افراد عموماً شرافت، سادہ مزاجی، محنت، جفاکشی اور مہمان نوازی کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ انہوں نے مختلف علاقوں میں آباد ہو کر وہاں کے معاشرتی، ثقافتی اور سماجی ڈھانچے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

گل اعظم خان گل المعروف پھورولیک ژاؤ کی زندگی اور شاعری واخان، چترال اور یاسین کی مشترکہ تاریخی و ثقافتی میراث کا ایک اہم موضوع ہے۔ ان کی شخصیت میں وخی شناخت، چترال سے محبت، کہوار زبان سے وابستگی، رومانوی احساسات اور اپنے عہد کے سیاسی و سماجی حالات پر ردعمل کے مختلف پہلو یکجا نظر آتے ہیں۔

ان کا کلام اس بات کی یاد دہانی ہے کہ شاعری محض حسن و عشق کے جذبات کا اظہار نہیں بلکہ اپنے عہد کی تاریخ، معاشرت، انسانی تعلقات اور اجتماعی فکری سوچ کا اظہار ہوتا ہے۔

یوسف زیب کٹور

chitraltimes gul azam khan gul