ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی کی منفرد اور تاریخی سفرنامہ ’’سائل دویو‘‘ کی تقریب رونمائی
.
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز)چترال پریس کلب میں کھوار (چترالی) زبان کے پہلے سفرنامے ”سائل دو یو” کی تقریبِ رونمائی اتوار کے روز انعقاد پذیر ہوئی، جس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) لوئر چترال محمد خالد خان(تمغہ شجاعت) مہمانِ خصوصی تھے جبکہ صدارت کے فرائض معروف دانشور پروفیسر ممتاز حسین نے سرانجام دیے۔ یہ منفرد اور تاریخی سفرنامہ معروف ادیب و محقق ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی (تمغہ امتیاز)نے تحریر کیا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صالح ولی آزاد، ظہور الحق دانش، فرید احمد رضا، جاوید اقبال جاوید، مولانا خلیق الزمان، ظہیر الدین، صفی اللہ آصفی، محمد عرفان عرفان، شہزادہ تنویر الملک اور دیگر مقررین نے کتاب اور مصنف کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ”سائل دو یو” سفرنامے کے تمام تر ادبی محاسن اور خصوصیات سے پوری طرح آراستہ ہے، جو قاری کو پہلے صفحے سے لے کر آخری صفحے تک اپنے سحر میں جکڑے رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب اٹلی، اسپین اور قطر کے جغرافیائی، تاریخی اور ثقافتی منظرنامے کی ایک واضح اور جاندار تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مصنف نے اپنے دو ماہ اور دس دن کے قیام کے دوران دورہ کیا تھا۔ مقررین نے یقین ظاہر کیا کہ یہ سفرنامہ کھوار اور علاقائی ادب کی تاریخ میں اپنے لیے ایک بلند اور ممتاز مقام حاصل کرے گا۔
مہمانِ خصوصی ڈی پی او لوئر چترال محمد خالد خان(تمغہ شجاعت) نے اپنے خطاب میں کہا کہ چترال کی مقامی زبان ‘کھوار’ اتنی وسیع اور زرخیز ہے کہ یہ ادب کی تمام اصناف کو اپنے اندر سمونے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کھوار نے علاقائی زبانوں کی صف میں ایک شاندار اور منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی(تمغہ امتیاز) کا یہ سفرنامہ کھوار زبان کے ترقی یافتہ اور جدید معیار کی ایک واضح مثال ہے۔ ڈی پی او نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ معاشرے میں امن و امان، رواداری اور بھائی چارے کے فروغ اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے زبان اور ادب کو ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
چترال پریس کلب اور ادبی تنظم میئر (MIER)نے مشترکہ طور پر تقریب کا انعقاد کیا تھا جبکہ سفرنامہ کو مئیر تنظیم نے شائع کیا ہے۔ تقریب کے اختتام پر چترالی زبان و ادب کے فروغ کے لیے ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی (تمغہ امتیاز)کی کاوشوں کو سراہا گیا اور شرکاء نے کھوار زبان کے اس پہلے سفرنامے کی اشاعت کو چترال کے ادبی افق پر ایک سنگِ میل قرار دیا۔

