The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 22 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

  ترقیاتی منصوبوں میں کسی قسم کی غفلت اور کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ تجاوزات کے خاتمے کے معاملے پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے۔ گورنرخیبرپختونخوا

Chitral Times

  ترقیاتی منصوبوں میں کسی قسم کی غفلت اور کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ تجاوزات کے خاتمے کے معاملے پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے۔ گورنرخیبرپختونخوا

  ترقیاتی منصوبوں میں کسی قسم کی غفلت اور کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ تجاوزات کے خاتمے کے معاملے پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے۔ گورنرخیبرپختونخوا

  ترقیاتی منصوبوں میں کسی قسم کی غفلت اور کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ تجاوزات کے خاتمے کے معاملے پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے۔ گورنرخیبرپختونخوا

۔

پشاور ( نمائندہ چترا ل ٹائمز ) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت صوبے کے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں گورنر نے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو خوش آمدید کہا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی کے بعد حالات اور ترجیحات تبدیل ہو چکی ہیں، تاہم کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے، جبکہ صوبے کی ترقی اور خوشحالی دوسری اہم ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں کسی قسم کی غفلت اور کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

گورنر نے کہا کہ صوبے بھر میں تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اور تجاوزات کے خاتمے کے معاملے پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے۔ انہوں نے تمام اضلاع میں صفائی ستھرائی پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کو صاف ستھرا اور سرسبز بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور کلین اینڈ گرین خیبرپختونخوا کے وژن کو عملی جامہ پہنایا جائے۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کے لیے اوپن ڈور پالیسی اپنائے اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے باقاعدگی سے کھلی کچہریوں کا انعقاد یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی عملی طور پر نظر آنی چاہیے اور تمام سرکاری محکموں کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ شہداء کے بچوں کے لیے پشاور میں کیڈٹ کالج قائم کر رہے ہیں۔ گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ ڈپٹی کمشنرز پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، لہٰذا وہ اپنے فرائض پوری ذمہ داری اور مؤثر انداز میں انجام دیں۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے ہدایت کی کہ آئندہ پولیو مہم کی مؤثر نگرانی اور کامیابی کے لیے ضلعی انتظامیہ اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ انہوں نے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔

گورنر نے کہا کہ صوبے کی بہتری اور انتظامی امور میں اصلاحات کے لیے ضلعی انتظامیہ اپنی تجاویز پیش کرے تاکہ گورننس میں بہتری لائی جا سکے اور عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں حل کیا جا سکے۔

اجلاس کے دوران ڈویژنل سطح پر انتظامی امور کی بہتری کے لیے کمشنرز کی جانب سے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ

.

.

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت بینک آف خیبر سے متعلق ایک اہم اجلاس

.

۔
پشاور ( نمائندہ چترا ل ٹائمز ) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت بینک آف خیبر سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مشیر خزانہ طارق محمود پاشا، اسپیشل سیکرٹری خزانہ خالد اعوان، مینجنگ ڈائریکٹر بینک آف خیبر اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں بینک کی مجموعی کارکردگی، کامیابیوں، درپیش مسائل، مستقبل کے اہداف اور ادارہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران مینجنگ ڈائریکٹر بینک آف خیبر نے گورنر فیصل کریم کنڈی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2024-25 بینک کے لیے بہتر کارکردگی کا سال رہا۔ بینک کی ملک بھر میں 256 برانچز قائم ہیں، جن میں سے 170 برانچز خیبرپختونخوا میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بینک کو اسلامی اصولوں کے مطابق اسلامی بینکاری کے نظام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ ادارے کی اصلاحات، تنظیمِ نو اور انتظامی و ادارہ جاتی تبدیلیوں کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ بینک آف خیبر کا روڈ ٹو ٹرانسفارمیشن پروگرام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، جبکہ صارفین کو جدید اور بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے بینک کی ڈیجیٹائزیشن اور موبائل ایپ کی اپ گریڈیشن پر کام جاری ہے۔ اسی طرح بینک آف خیبر کی کرنسی ایکسچینج کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کو جلد فعال کرنے اور بیرونِ ملک سے ترسیلاتِ زر کی سہولت کو مزید بہتر بنانے کے لیے ریمیٹنس کارڈ متعارف کرانے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان پوسٹ کے ساتھ بینک آف خیبر کے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں۔

حکام نے گورنر کو بتایا کہ بینک آف خیبر وفاقی حکومت کی دو اور صوبائی حکومت کی چار قرضہ اسکیموں کے تحت عوام کو مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ ان اسکیموں میں احساس نوجوان، احساس ہنر، احساس اپنا گھر، وزیراعظم اپنا گھر اور زرعی قرضہ پروگرام سمیت مختلف پروگرام شامل ہیں۔ زراعت اور ہاؤسنگ کے شعبوں میں جدید مالیاتی سہولیات متعارف کرانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اجلاس میں بینک آف خیبر کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے متعلق قانونی مسائل اور انتظامی چیلنجز پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز سے متعلق قانونی مسائل کے حل کے لیے محکمہ قانون سے مشاورت کی جائے اور بینک کے تمام زیرِ التوا معاملات کو جلد از جلد حل کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ان امور پر پیش رفت کے حوالے سے نومبر کے پہلے ہفتے میں دوبارہ بریفنگ دی جائے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے بینک آف خیبر کو عوام کے لیے سولر فنانسنگ اسکیم تیار کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ شہریوں کو متبادل توانائی کی سہولت سے مستفید ہونے کے لیے مالی معاونت فراہم کی جا سکے۔ اجلاس میں پولیس شہداء کے بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے بینک آف خیبر میں اکاؤنٹ کھولنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔

گورنر نے ہدایت کی کہ زراعت، ہاؤسنگ اور دیگر اہم شعبوں میں بینک کی جانب سے فراہم کی جانے والی قرضہ اسکیموں اور مالیاتی سہولیات کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ بینک کی خدمات کو عوام کی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جائے اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے صارفین کو بہتر، جدید اور آسان بینکاری سہولیات فراہم کی جائیں۔

.

.

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت اضاخیل گندم گودام سے فلور ملز کو غیر معیاری گندم کی فراہمی سے متعلق اجلاس

پشاور ( نمائندہ چترا ل ٹائمز ) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت اضاخیل گندم گودام سے فلور ملز کو غیر معیاری گندم کی فراہمی سے متعلق اجلاس منعقد ہوا. اجلاس میں گورنر انسپکشن ٹیم کی جانب سے انکوائری رپورٹ گورنر کو پیش کی گئی۔

گورنر انسپکشن ٹیم کے چیئرمین مختیار احمد نے گورنر فیصل کریم کنڈی کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیم نے 150 کنال پر محیط اضاخیل گندم گودام کا معائنہ کیا، جہاں دو بلاکس میں واقع چھ گودام سیلابی پانی سے متاثر ہوئے تھے۔ سیلاب سے متاثرہ گندم کے نمونے تجزیے کے لیے پی سی ایس آئی آر (PCSIR) لیبارٹری بھجوائے گئے، جس نے متاثرہ اور خراب گندم کو انسانی صحت کے لیے مضر اور انسانی خوراک کے استعمال کے لیے ناموزوں قرار دیا۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق گندم گودام کو سیلابی پانی سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے سیلاب کا الرٹ جاری ہونے کے باوجود احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی گئیں، جبکہ سیلاب کے بعد محکمہ خوراک نے گندم کے معیار کا تکنیکی جائزہ لینے کے لیے اسسمنٹ کمیٹی بھی تشکیل نہیں دی۔ رپورٹ میں غفلت کے ذمہ دار متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
اجلاس کے دوران گورنر فیصل کریم کنڈی نے سوال اٹھایا کہ بار بار سیلاب آنے کے باوجود گندم گودام کو محفوظ بنانے کے لیے حفاظتی دیوار تعمیر کیوں نہیں کی گئی؟ بریفنگ میں بتایا گیا کہ حفاظتی دیوار میں موجود سوراخوں کے ذریعے بارش اور سیلابی پانی گودام میں داخل ہوا، جس سے گندم کو نقصان پہنچا۔
گورنر کو مزید بتایا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ گندم کے حوالے سے محکمہ خوراک کے اسٹاک ریکارڈ میں کوئی اندراج موجود نہیں اور نہ ہی متاثرہ گندم کی سائنسی بنیادوں پر جانچ کی گئی۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے ہدایت کی کہ مضرِ صحت گندم کی فلور ملز کو ترسیل فوری طور پر بند کی جائے۔ انہوں نے گندم کے ذخائر کی حفاظت، خوراک کے معیار کو یقینی بنانے اور متعلقہ معاملات میں ذمہ داری کا تعین کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔