فکری جمود کا شکار پاکستان – تحریر : قریش خٹک
۔
پارلیمان کے 15 اکتوبر کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی توثیق پر بحث محض ایک سیاسی معرکہ نہیں تھی، بلکہ اس نے ہمارے عوامی مکالمے کے زوال کو بھی بے نقاب کر دیا۔ امن و امان اور آئینی اختیارات جیسے اہم موضوعات پر بحث کے دوران ایک گہرا مسئلہ نمایاں ہوا: حقائق اور دلائل کو غیر جانبدارانہ طور پر پرکھنے کے بجائے انکو سیاسی مفادات اور جماعتی وابستگیوں کی عینک سے دیکھا جا رہا تھا۔ بنیادی سوال یہ نہیں تھا کہ حقائق کا پلڑا کس طرف جھکتا ہے، بلکہ یہ تھا کہ اپنے اپنے سیاسی بیانیوں کے اسیر ارکانِ پارلیمان تنقیدی غور و فکر اور شواہد کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کے لیے کس حد تک آمادہ ہیں۔
تاہم، حقائق کا سامنا کرنے سے گریز صرف اقتدار کے ایوانوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کی جڑیں ہمارے انفرادی طرزِ فکر اور اجتماعی رویوں میں بھی پیوست ہیں۔ کسی معاشرے کو سمجھنے کے لیے شاید سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ اس کے لوگ کتنا جانتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس حد تک آزادانہ اور تنقیدی انداز میں سوچ سکتے ہیں اور کتنی آزادی اور خود اعتمادی کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔ ایک بچہ جو کسی بزرگ سے سوال کرتا ہے، ایک طالب علم جو اپنے استاد کے مؤقف کو چیلنج کرتا ہے، ایک ملازم جو ادارے کی کسی خامی کی نشان دہی کرتا ہے، یا ایک شہری جو کسی مقبول دعوے کے حق میں ثبوت طلب کرتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ محض اختلاف برائے اختلاف کر رہا ہو۔ درحقیقت، وہ انہی اوصاف کا مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے جن کی ایک ترقی پسند معاشرے کو آگے بڑھنے کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے، پاکستان میں ایسے رویوں کو اکثر بے ادبی، نافرمانی یا بلاوجہ تکرار سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جب سوالات طاقتور ریاستی اداروں سے متعلق ہوں تو انہیں قومی سلامتی اور یکجہتی کے لیے خطرہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ یوں ایک ایسا ماحول تشکیل پاتا ہے جہاں کسی سوال کی اہمیت کا تعین اس کے مندرجات سے کم اور اس بات سے زیادہ ہوتا ہے کہ سوال کس نے اٹھایا، کس کو چیلنج کیا اور کس کے مفادات پر حرف آیا۔ یہی رویہ بتاتا ہے کہ ہمارا مسئلہ محض معلومات کی کمی نہیں، بلکہ وہ سماجی اور ادارہ جاتی کلچر بھی ہے جو سوال اٹھانے کے بجائے اطاعت کو ترجیح دیتا ہے۔
ہم تعلیمی اسناد کو تو اہمیت دیتے ہیں، مگر اس فکری خودمختاری کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو تعلیم کا اصل مقصود ہے۔ گھروں اور تعلیمی اداروں سے لے کر دفاتر اور عوامی مکالمے تک، اختیار کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا، موروثی تصورات سے چمٹے رہنا اور بااثر حلقوں کی ہاں میں ہاں ملانا، مفروضوں پر سوال اٹھانے اور شواہد کی روشنی میں معاملات کو پرکھنے کی صلاحیت پر غالب آ جاتا ہے۔ نتیجتاً، تعلیم اور تجربے کے باوجود آزادانہ فیصلہ سازی اور نئے امکانات تلاش کرنے کی صلاحیت وہ نشوونما نہیں پا سکتی جس کی ایک جدید معاشرے کو ضرورت ہوتی ہے۔
یہاں تنقیدی اور تخلیقی فکر کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ تنقیدی فکر انسان کو معلومات کی تشریح، دلائل کی جانچ اور آزادانہ نتائج اخذ کرنے کے قابل بناتی ہے، جبکہ تخلیقی فکر متبادل امکانات کا تصور کرنے اور مسائل کے نئے حل تلاش کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ دونوں صلاحیتیں مل کر طے کرتی ہیں کہ تعلیمی نظام ایسے شہری اور پیشہ ور افراد پیدا کر رہا ہے جو آزادانہ سوچنے اور مسائل حل کرنے کے قابل ہوں، یا ایسے افراد تیار کر رہا ہے جن کے پاس محض ڈگریاں اور اسناد ہوں۔ ان صلاحیتوں کی کمزوری صرف تعلیمی نظام کی خامی نہیں، بلکہ پاکستان کی سماجی، معاشی، سیاسی اور فکری ترقی کی راہ میں ایک بنیادی رکاوٹ بھی ہے۔
اس رکاوٹ کی نوعیت سمجھنے کے لیے ہمارے تعلیمی نظام کی صورتِ حال پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک میں شرحِ خواندگی 63 فیصد ہے، جس کا مطلب ہے کہ 37 فیصد آبادی ناخواندہ ہے۔ نیشنل ایجوکیشن پالیسی ڈیولپمنٹ فریم ورک 2024 کے مطابق صرف پانچ فیصد بچوں کو قابلِ قبول معیار کی تعلیم میسر ہے، جبکہ اعلیٰ تعلیم کے اہل افراد میں سے محض 12 فیصد کو اس تک رسائی حاصل ہے۔ یہ اعداد و شمار دوہرے بحران کی نشان دہی کرتے ہیں: ایک طرف لاکھوں افراد مناسب تعلیمی مواقع سے محروم ہیں، دوسری طرف اسکول تک رسائی بھی بامعنی تعلیم کی ضمانت نہیں۔ خواندگی اپنی جگہ بنیادی اہمیت رکھتی ہے، لیکن محض پڑھنے لکھنے کی صلاحیت سے یہ طے نہیں ہوتا کہ کوئی شخص دلائل کا تجزیہ کر سکتا ہے، غلط معلومات کو پہچان سکتا ہے یا آزادانہ طور پر مسائل حل کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
تعلیم تک رسائی کے اس بحران کے ساتھ ساتھ تعلیم کے طریقۂ کار کا مسئلہ بھی موجود ہے۔ ہماری بنیادی ناکامی اس تعلیمی ماڈل میں پوشیدہ ہے جو سمجھنے کے بجائے رٹنے کو ترجیح دیتا ہے۔ استاد بولتا ہے، طالب علم سنتا ہے، درسی کتاب منظور شدہ جوابات فراہم کرتی ہے اور امتحانات میں انہی جوابات کو درست طور پر دہرانے پر نمبر ملتے ہیں۔ پرائمری اسکولوں سے لے کر جامعات تک، طے شدہ تشریحات پر سوال اٹھانے اور اپنے دلائل تشکیل دینے کے مقابلے میں مقررہ مواد رٹنے پر کہیں زیادہ زور دیا جاتا ہے۔
ایسا تعلیمی اور امتحانی نظام نتائج اور ڈگریاں تو پیدا کر سکتا ہے، لیکن طلبہ کو اس دنیا کے تقاضوں کے لیے پوری طرح تیار نہیں کرتا جہاں تجزیاتی استدلال، فیصلہ سازی، باہمی تعاون اور بدلتے حالات سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ جب تعلیمی کامیابی کا زیادہ تر انحصار دوسروں کی باتیں یاد رکھنے پر ہو تو طلبہ کے پاس یہ جاننے کی ترغیب کم رہ جاتی ہے کہ کوئی جواب درست کیوں ہے، کوئی دلیل کتنی قابلِ قبول ہے یا کسی نئے مسئلے کو کس طرح حل کیا جا سکتا ہے۔ اس کا اثر عملی زندگی میں بھی دکھائی دیتا ہے، جہاں ملازمین کے پاس تعلیمی قابلیت تو ہوتی ہے، لیکن غیر موثر طریقۂ کار پر سوال اٹھانے اور متبادل تجاویز پیش کرنے کے لیے ضروری اعتماد یا تجربہ نہیں ہوتا۔
تاہم، تنقیدی فکر کی اس کمزوری کی تمام تر ذمہ داری تعلیمی اداروں پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ اسکولوں اور جامعات میں پروان چڑھنے والے رویے اکثر ان سماجی اقدار کی عکاسی کرتے ہیں جن سے بچے اپنے گھروں اور اردگرد کے ماحول میں روشناس ہوتے ہیں۔ بہت سے خاندانوں میں فرمانبرداری کو اچھی تربیت کا بنیادی پیمانہ سمجھا جاتا ہے اور کسی بزرگ کے فیصلے پر سوال اٹھانے کو ان کے اختیار کو چیلنج کرنا تصور کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ بزرگوں اور ثقافتی روایات کا احترام آزادانہ سوچ کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہونا چاہیے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب احترام کو بلا چون و چرا اطاعت کے مترادف بنا دیا جائے اور بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ کسی دعوے کی صداقت جاننے سے زیادہ اہم خاندانی ہم آہنگی برقرار رکھنا ہے۔
گھروں میں اختیار اور اطاعت کا یہی تصور اکثر دفاتر اور عوامی اداروں میں بھی منتقل ہو جاتا ہے۔ ماتحت ملازمین اپنے افسران کو چیلنج کرنے سے ہچکچاتے ہیں، جبکہ بعض ادارے خاموش اطاعت کو ٹیم ورک اور تعمیری تنقید کو بے وفائی یا دغابازی سمجھ لیتے ہیں۔ جب دفتری درجہ بندی اور عہدہ یہ طے کرنے لگیں کہ کس کی دلیل قابلِ توجہ ہے تو ادارے ان لوگوں کے علم اور تجربے سے محروم ہو جاتے ہیں جنہیں اپنی بات آزادانہ طور پر کہنے کا موقع نہیں ملتا۔ نتیجتاً، غلطیاں درست نہیں ہوتیں، غیر موثر طریقۂ کار جڑ پکڑ لیتے ہیں اور خود سے پہل کرنے کی صلاحیت کی جگہ حکم بجا آوری لے لیتی ہے۔ ایسے اداروں میں اس کے نتائج مزید تباہ کن ہوتے ہیں جنہیں مسلسل تبدیلی، جدت اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہی طرزِ فکر جب سیاست اور عوامی مکالمے میں داخل ہوتا ہے تو اختلافِ رائے بھی حقائق تک پہنچنے کا ذریعہ بننے کے بجائے وفاداریوں کا مقابلہ بن جاتا ہے۔ ہم اکثر کسی دلیل کو اس کے حق میں موجود شواہد کے بجائے اس شخص کی بنیاد پر پرکھتے ہیں جو اسے پیش کرتا ہے۔ بااثر شخصیات کے دعوے جانچ پڑتال سے بچ نکلتے ہیں، جبکہ غالب نظریاتی یا سماجی حلقوں سے باہر کے لوگوں کی مضبوط دلیلوں کو سنجیدگی سے غور کیے بغیر مسترد کر دیا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے معاملے پر پارلیمان میں ہونے والا تصادم اسی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ جب لوگ کسی سیاسی جماعت یا ادارے سے اپنی وابستگی کو مقدم رکھ کر دستیاب شواہد کی تشریح اسی کے مطابق کرنے لگیں تو درست اور غلط کا فیصلہ دلیل کے بجائے وفاداری کی بنیاد پر ہونے لگتا ہے۔
اس صورتِ حال کو سوشل میڈیا نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ معلومات تک رسائی میں غیر معمولی اضافے کے باوجود عوامی فہم و فراست میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہوا۔ غلط معلومات اور جذبات بھڑکانے والے دعوے تیزی سے ایسے لوگوں تک پہنچتے ہیں جو پہلے ہی انہیں درست ماننے کے لیے ذہنی طور پر آمادہ ہوتے ہیں۔ جب کسی خبر یا دعوے کی ساکھ جانچنے کے بجائے اسے اپنی پسندیدہ رائے کے مطابق قبول کیا جائے تو معلومات کی کثرت علم میں اضافے کے بجائے گمراہی کے امکانات بڑھا دیتی ہے۔ اس لیے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لوگوں تک کون سی معلومات پہنچ رہی ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ ان معلومات کو پرکھنے کے لیے کون سے پیمانے استعمال کرتے ہیں۔
یہ سوال ہمیں علم، تحقیق اور عقائد کے باہمی تعلق کی طرف بھی لے جاتا ہے۔ سائنسی تحقیق اور تنقیدی فکر کو سخت گیر مذہبی تشریحات اور سیاسی مصلحتوں سے بھی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ جہاں سوال اٹھانے کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے، اختلاف کو دشمنی سمجھا جائے اور تحقیق سے پہلے ہی طے شدہ نتائج کے مطابق کام کرنے کی توقع رکھی جائے، وہاں علم آگے نہیں بڑھ سکتا۔ مسئلہ بذاتِ خود مذہبی عقیدے یا سیاسی وابستگی کا نہیں، بلکہ اس اصرار کا ہے کہ بعض تشریحات کو ہر قسم کی جانچ پڑتال سے بالاتر رکھا جائے۔
روایات اور عقائد دنیا کو دیکھنے کے ہمارے زاویے پر اثرانداز ہوتے ہیں، لیکن جب حقائق سے متعلق دعووں کی تحقیق ہو رہی ہو تو وہ تجرباتی شواہد کا متبادل نہیں بن سکتے۔ سائنسی تحقیق میں وضاحتوں کو آزمانا، مفروضوں پر سوال اٹھانا اور نئی دریافتوں کی روشنی میں نتائج پر نظرثانی کرنا ضروری ہے۔ تاریخی تحقیق بھی اسی اصول کی متقاضی ہے کہ ریکارڈ اور دستاویزات کا جائزہ لیا جائے، متضاد بیانیوں کا تقابل کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر موروثی تصورات پر نظرثانی کرنے کے لیے آمادگی دکھائی جائے۔ جب تحقیق شروع ہونے سے پہلے ہی اس کا نتیجہ طے کر لیا جائے تو نہ سائنس آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ تاریخ کو درست طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ علم کی ترقی کے لیے اختلاف کو دبانے کے بجائے اسے تحقیق اور بہتر تفہیم کا ذریعہ بنانا ضروری ہے۔
فکری جمود کے اثرات بالآخر علمی اور نظریاتی مباحث تک محدود نہیں رہتے، بلکہ معاشی اور سیاسی ترقی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ جدت صرف تجربہ گاہوں یا ٹیکنالوجی کے مراکز تک محدود نہیں۔ اس میں زراعت کے زیادہ موثر طریقے وضع کرنا، عوامی خدمات اور طرزِ حکمرانی کو بہتر بنانا، کاروبار چلانا، مقامی تنازعات حل کرنا اور محدود وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرنا بھی شامل ہے۔ جو معاشرہ تجربات کی حوصلہ شکنی کرے اور محض اطاعت کو انعام دے، وہ اپنی ناکامیوں کی نشان دہی کرنے، بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے اور خیالات کو عملی جدت میں تبدیل کرنے میں مشکلات کا شکار رہتا ہے۔ اس کا نقصان صرف نئے خیالات کی کمی نہیں، بلکہ موجودہ طریقوں پر سوال اٹھانے، ناکامیوں سے سیکھنے اور نظام کو بہتر بنانے کی صلاحیت سے محرومی بھی ہے۔
اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے محض تنقیدی فکر کی اہمیت تسلیم کرنا کافی نہیں، بلکہ ایسے ادارہ جاتی اور سماجی حالات پیدا کرنا ہوں گے جن میں اس کی عملی حوصلہ افزائی ہو۔ سب سے پہلے تعلیمی نظام کو رٹنے پر غیر ضروری انحصار سے نکل کر تصورات کو سمجھنے، تجزیاتی تحریر، ریاضیاتی استدلال، سائنسی تحقیق اور عملی منصوبوں پر مبنی تعلیم کی طرف بڑھنا ہوگا۔ امتحانات میں صرف درسی کتابوں کے اقتباسات دہرانے کے بجائے علم کو عملی طور پر استعمال کرنے، شواہد کا تجزیہ کرنے اور معقول دلائل تشکیل دینے کی صلاحیت جانچی جانی چاہیے۔ اساتذہ کو مناسب وسائل، مسلسل پیشہ ورانہ تربیت اور کھلی فکری جستجو کی حوصلہ افزائی کرنے کی آزادی فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔
تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ریاست کی ذمہ داری بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ریاست پر آئینی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معیاری تعلیم فراہم کرے، بالخصوص ان لوگوں کو جو نجی تعلیمی اداروں کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ تعلیمی اداروں میں داخلوں کے تناسب میں اضافہ، بنیادی خواندگی کی بہتری، اساتذہ کی تربیت اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں توسیع کے ساتھ تجزیاتی صلاحیتوں کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح عوامی کتب خانے، آزاد اور معیاری صحافت، تحقیقی ادارے اور سائنسی معلومات کی آسان ترسیل، علم اور سیکھنے کے اس کلچر کو کلاس روم کی حدود سے باہر پورے معاشرے تک پھیلانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
لیکن ادارہ جاتی اصلاحات اس وقت تک مکمل نتائج نہیں دے سکتیں جب تک روزمرہ زندگی میں بھی سوال کرنے اور اختلافِ رائے کی حوصلہ افزائی نہ ہو۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے سوالات کو نافرمانی سمجھنے کے بجائے ان کے تجسس کی حوصلہ افزائی کریں۔ آجروں کو تعمیری تنقید کا خیرمقدم کرنا چاہیے، جبکہ عوامی اداروں کو شواہد کی بنیاد پر ہونے والی جانچ پڑتال کو حکمرانی میں اصلاح کا موقع سمجھنا چاہیے۔ سماجی اور سیاسی رہنماؤں، دانش وروں اور صحافیوں کو بھی ایسا ماحول پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے جہاں دلائل کو ان کی علمی اور منطقی بنیاد پر پرکھا جائے، نہ کہ بولنے والے کے مرتبے، شناخت یا سیاسی وابستگی کی وجہ سے قبول یا مسترد کیا جائے۔
پاکستان میں آرا، نعروں یا پرجوش نظریاتی وابستگیوں کی کمی نہیں۔ کمی اس مضبوط روایت کی ہے جس میں اپنے عقائد اور تصورات کو شواہد کی کسوٹی پر پرکھا جائے اور حقائق سامنے آنے پر اپنی رائے بدلنے کو کمزوری نہیں بلکہ فکری پختگی کی علامت سمجھا جائے۔ تنقیدی فکر کسی مخصوص طبقے کی میراث یا آسائش نہیں، بلکہ ہر شہری کی بنیادی ضرورت ہے، تاکہ وہ معلومات کو جانچ سکے، گمراہ کن بیانیوں کو پہچان سکے، باخبر فیصلے کر سکے اور اقتدار سے جواب دہی کا مطالبہ کر سکے۔
ایک ترقی پسند معاشرے کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ اس کے لوگ طے شدہ جوابات کتنی وفاداری سے دہراتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ مفروضوں پر کتنے اعتماد سے سوال اٹھاتے، شواہد کا جائزہ لیتے اور بہتر متبادل تلاش کرتے ہیں۔ پارلیمان سے لے کر گھر، کلاس روم اور دفتر تک، اگر اختلاف کو دشمنی، سوال کو نافرمانی اور اطاعت کو دانش مندی سمجھا جاتا رہے تو فکری جمود محض ایک سماجی رویہ نہیں رہے گا، بلکہ قومی ترقی کی راہ میں مستقل رکاوٹ بن جائے گا۔ جب تک ہم اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، دفاتر، عوامی مقامات اور ریاستی اداروں میں آزادانہ سوچ اور تنقیدی غور و فکر کو فروغ نہیں دیتے، پاکستان اپنے لوگوں کی فکری صلاحیتوں کو ضائع کرتا رہے گا۔