The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 21 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

 ممبر ایڈوائزری کونسل برائے صحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر کی زیرِ صدارت اجلاس، ای پی آئی خدمات کے استحکام اور ڈاکٹروں کی بھرتیوں میں تیزی لانے کی ہدایت  

Chitral Times

 ممبر ایڈوائزری کونسل برائے صحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر کی زیرِ صدارت اجلاس، ای پی آئی خدمات کے استحکام اور ڈاکٹروں کی بھرتیوں میں تیزی لانے کی ہدایت  

 ممبر ایڈوائزری کونسل برائے صحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر کی زیرِ صدارت اجلاس، ای پی آئی خدمات کے استحکام اور ڈاکٹروں کی بھرتیوں میں تیزی لانے کی ہدایت  

 ممبر ایڈوائزری کونسل برائے صحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر کی زیرِ صدارت اجلاس، ای پی آئی خدمات کے استحکام اور ڈاکٹروں کی بھرتیوں میں تیزی لانے کی ہدایت

۔

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) ممبر ایڈوائزری کونسل برائے صحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر کی زیرِ صدارت محکمہ صحت کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں کنٹریکٹ اور فکس پے بنیادوں پر ڈاکٹروں کی بھرتیوں، خالی آسامیوں پر تقرریوں کے عمل اور صوبے بھر کے سرکاری صحت مراکز میں حفاظتی ٹیکہ جات کے توسیعی پروگرام (EPI) کی خدمات کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کے دوران محکمہ صحت کے حکام نے کنٹریکٹ اور فکس پے بنیادوں پر ڈاکٹروں کی بھرتیوں کی موجودہ صورتحال، خالی آسامیوں اور متعلقہ انتظامی امور سے آگاہ کیا۔ ممبر ایڈوائزری کونسل برائے صحت نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کے تمام سرکاری صحت مراکز میں حفاظتی ٹیکہ جات کے توسیعی پروگرام (EPI) کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ حفاظتی ٹیکہ جات کی خدمات کی مؤثر فراہمی، بچوں کو ویکسینیشن کی سہولیات تک بہتر رسائی اور پروگرام کی کارکردگی میں بہتری کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں، تاکہ بچوں کو قابلِ انسداد بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے جاری کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید ہدایت کی کہ کنٹریکٹ اور فکس پے بنیادوں پر بھرتیوں کے لیے شرائط و ضوابط کو واضح، شفاف اور قابلِ فہم بنایا جائے، بالخصوص صوبے کے دور افتادہ اور دشوار گزار اضلاع میں تعیناتی کے حوالے سے پالیسی اور مراعات سے متعلق امور کی وضاحت کی جائے۔ انہوں نے اس امر کی ضرورت پر زور دیا کہ ان اضلاع میں ڈاکٹروں کی تعیناتی اور دستیابی کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ دور دراز علاقوں کے عوام کو بھی صحت کی معیاری سہولیات میسر آ سکیں۔ممبر ایڈوائزری کونسل برائے صحت نے محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی کہ بھرتیوں کے عمل میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے، انتظامی رکاوٹوں کو دور کیا جائے اور عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے صحت کے نظام کو مزید مستحکم بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا، طبی عملے کی دستیابی یقینی بنانا اور حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

.

.

.

خیبرپختونخوا پرائیوٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی اور ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کے حوالے سے اجلاس

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) ممبر ایڈوائزری کونسل برائے تعلیم ڈاکٹر عامر عبداللہ کی زیر صدارت منگل کے روز خیبرپختونخوا پرائیوٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی اور ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوئے جس میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے انتظامی امور کے لئے قائم دونوں اداروں کے امور کے بارے میں انھیں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں سیکریٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم عنایت اللہ وسیم، منیجنگ ڈائریکٹر خیبرپختونخوا پرائیوٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی جاوید اقبال، ایڈیشنل سیکریٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم پیرمحمد اور ڈائریکٹر ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی مہران خان کے علاوہ دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران دونوں اداروں کے خدماتی کردار، فرائض و ذمہ داریوں اورسرگرمیوں سے ممبر ایڈوائزری کونسل کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر ممبر ایڈوائزری کونسل نے ہدایت کی کہ موجودہ قانون میں پرائیوٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے اراکین کیلئے والدین کی جانب سے لئے جانے والے ممبران میں کل 10 موزوں افراد کاپینل شامل کیا جائے جس میں سے ہر ریجن سے تین فراہم کردہ مجوزہ ناموں سے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا متعلقہ وزیر، مشیر یا معاون خصوصی ایک رکن کو نامزد کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ نجی سکولوں کی اتھارٹی اپنے قانون میں عمارات کی حفاظت و سہولیات کی معیار، فائر سیفٹی و دیگر ضروری سہولیات کی دستیابی کیلیے وقتا فوقتاً آڈٹ کا اہتمام بھی شامل کرے اور اسے اپنے ادارے کے بنیادی فنکشن میں بھی ڈالے۔انھوں نے صوبے کے مختلف ریجنز میں پرائیوٹ سکولوں کی رجسٹریشن کے زیادہ شرح کے بارے میں بھی معلومات لیں۔ڈاکٹر عامر عبداللہ نے کہا کہ پرائیوٹ سکولوں کے حوالے سے حاصل ہونے والی شکایات کی نوعیت کا ڈیٹا انھیں فراہم کیا جائے۔انھوں نے ان شکایات کی درجہ بندی اور غیر حل شدہ شکایات کے بارے میں ڈیٹا سیکریٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔انھوں نے کہا کہ نجی شعبے کے تعلیمی اداروں کے مالی امور کی شفافیت کی خاطر 6000 روپے تک فیس حاصل کرنے والے سکولوں کا ڈبل انٹری کیساتھ اکاونٹنگ نظام ہونا چاہیے انھوں نے اس معاملے پر اتھارٹی کو غوروخوص کرنے کی ہدایت کی۔

ڈاکٹر عامر عبداللہ نے پرائیوٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی میں ضرورت کے پیش نظر اسسٹنٹ ڈایریکٹرز کی درکار آسامیوں کیلئے دیگر ماتحت اسامیوں کو اپگریڈ کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ کمپیوٹر اور دیگر متعلقہ تکنیکی مہارتوں کیلئے موجودہ عملے کو تربیت فراہم کی جائے تاکہ ادارہ خوش اسلوبی سے اپنی ذمہ داریاں اور خدمات سر انجام دے سکیں۔انھوں نے اتھارٹی کیلئے ایپلیٹ ٹریبونل میں پائیداری لانے کی غرض سے انکے ممبران کا دورانیہ دو سال رکھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اس میں ایک رکن کو انکے نام کیساتھ شامل رکھا جائے۔انھوں نے اتھارٹی کے قانون اور موجودہ قواعد وضوابط پر انھیں الگ بریفنگ فراہم کرنے کی ہدایت کی جس میں محکمہ قانون کا ماہر بھی شامل ہوگا۔ممبر ایڈوائزری کونسل نے پرائیوٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کو انجنیئرنگ یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے تیار کردہ ایپ کو استعمال میں لانے کی بھی تجویز دی۔انھوں نے پرائیوٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے ڈیجیٹلائزیشن نظام کو سراہا اور قلیل مدت میں قانون میں ترامیم مرتب کرنے کے احکامات پوری کرنے پر انکی کارکردگی کو سراہا۔ممبر ایڈوائزری کونسل نے اجلاس کے دوران سرکاری سکولوں کیلئے قائم ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کی متعین ذمہ داریوں کا بھی جائزہ لیا۔

انھوں نے اساتذہ و طلبہ کے ڈیٹا، داخلوں، سکول دوروں، ضروری سہولیات کی دستیابی اور جانچ کے حوالے سے طریقہ کار کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ڈاکٹر عامر عبداللہ نے ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کو ایجوکیشن منیجمنٹ سسٹم کے تازہ ڈیٹا سے مستند ڈیٹا کی دستیابی میں استفادہ اٹھانے پر غور کرنے کی ہدایت کی۔انھوں نے کہا کہ اتھارٹی میں درکار خالی اسامیوں کو پر کرنے کیلئے محکمہ خزانہ سے رجوع کیا جائے جبکہ تعلیمی اداروں کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے علاوہ مانیٹرنگ ٹیموں سے دیگر شعبوں میں لئے جانے والے خصوصی خدمات اور موجودہ مختصر عملے کا ایک تفصیلی لسٹ انھیں فراہمی کی ہدایت کی۔انھوں نے ایک سال کے دوران اتھارٹی کی ٹیموں کی جانب سے سکولوں کے دوروں کے نتیجے میں تعلیمی نظام کے اہم اور چیدہ چیدہ مسائل اور ان کے وجوہات کی گہرائی کا جائزہ لینے کیلئے اس کے بنیادی ماخوذ پر مبنی رپورٹ انھیں پیش کرنے کی ہدایت کی۔ممبر ایڈوائزری کونسل نے سرکاری سکولوں کے ڈھانچے کا ڈیٹا بھی فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انھوں نے اتھارٹی کے عملے کے خصوصی الاونس منجمد ہونے سے تنخواہوں میں تفاوت کے مسلے کو حل کرنے کی غرض سے تفصیلات انھیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ڈاکٹر عامر عبداللہ نے اس موقع پر دونوں اداروں کے افسران کو اپنی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلایا اور انکی کارکردگی کو سراہا۔

,

.

محکمہ توانائی و برقیات کے حوالے سے بریفنگ کا انعقاد

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) ممبرایڈوائزری کونسل برائے توانائی و برقیات عثمان سیف اللہ خان کومحکمہ توانائی و برقیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر پیڈو انوار الحق اور پراجیکٹ ڈائریکٹر ورلڈ بینک پراجیکٹس سید آصف کمال نے شرکت کی۔اس موقع پرسی ای او پیڈو نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پیڈو ایک خودمختار ادارہ ہے اس کا مینڈیٹ صوبے میں توانائی کے شعبے کی ترقی ہے۔ اس وقت پیڈو کے کئی منصوبے زیر تعمیر ہیں جن میں بالاکوٹ، گورکن مٹلتان، لاوی، گبرال کلام، مادیان، مجاہدین، رنولیا کی بحالی اور چپری چرکیل ہائیڈرو پاور پراجیکٹس شامل ہیں۔منصوبہ بندی منصوبوں میں پی پی پی موڈ، پرائیویٹ سیکٹر آئی پی پیز، پیڈو پرائیویٹ سیکٹر سولر پراجیکٹس اور پبلک سیکٹر پلان پراجیکٹس بشمول ہائیڈرو، سولر پی وی اور ونڈ فارم پراجیکٹس اور اہم منصوبہ بندی ہائیڈرو سائٹس میں بٹاکنڈی ناران، گہرت سویر لشٹ، گوربند، استرہ بونی، کالکوٹ بریکوٹ پاتراک، کاری مشکور، مجیگرام شغور، نندھیار اور پاتراک شیرنگل شامل ہیں۔

اس کے علاوہ بنوں، جنوبی وزیرستان، ملاکنڈ اور ورسک میں سولر اور ونڈ کے منصوبے بھی ہیں۔بریفنگ میں منی/مائیکرو ہائیڈرو پاور (ایم ایم ایچ پی پیز) کمیونٹی ملکیت ماڈل کا بھی احاطہ کیا گیا۔ فیز-I شمالی علاقہ جات میں مکمل ہو کر حوالے کیا جا چکا ہے۔ فیز-II جس میں ندی نالوں اور نہروں پر تعمیر اور سیلاب سے متاثرہ سائٹس کی بحالی شامل ہے، پر کام جاری ہے۔سولر پورٹ فولیو کے حوالے سے پیڈو نے 2015 سے سولر منصوبے شروع کیے ہیں جن میں کئی سرکاری منصوبے ضم شدہ اور غیر ضم شدہ اضلاع میں مکمل ہو چکے ہیں۔ موجودہ اقدامات میں دیہاتوں، مساجد، سکولوں، ہسپتالوں، سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن اور ضم شدہ علاقوں میں سولر منی گرڈز شامل ہیں، جن میں سرکاری سکولوں اور صحت مراکز کی سولرائزیشن بھی شامل ہے۔بریفنگ اجلاس میں عثمان سیف اللہ خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ زیر تعمیر ہائیڈرو پاور منصوبوں میں تیزی لائیں اورصوبے کے لیے پائیدار اور سبز توانائی کے اہداف کے حصول کے لیے منصوبہ بند منصوبوں کے فزیبلٹی سٹڈیز کو تیز تر کریں۔