The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 20 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ڈی پی او چترال لوئر خالد خان کے زیر صدارت پولیس دربار کا انعقاد 

Chitral Times

ڈی پی او چترال لوئر خالد خان کے زیر صدارت پولیس دربار کا انعقاد 

ڈی پی او چترال لوئر خالد خان کے زیر صدارت پولیس دربار کا انعقاد 

ڈی پی او چترال لوئر خالد خان کے زیر صدارت پولیس دربار کا انعقاد

۔

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) لوئر چترال محمد خالد خان نے پولیس خدمت مرکز میں اپنے پہلے پولیس دربار کا انعقاد کیاجس کا بنیادی مقصد فورس کے مسائل سننا اور ضلع میں امن و امان اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے نئے عزائم کا تعین کرنا تھا۔

پولیس دربار سے خطاب کرتے ہوئے ڈی پی او محمد خالد خان نے واضح کیا کہ اس وقت چترال پولیس کو درپیش سب سے بڑا اور واحد بڑا چیلنج منشیات فروشی ہے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ منشیات کی لعنت کا کسی بھی قیمت پر خاتمہ ناگزیر ہے اور اس کی بنیادی ذمہ داری تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز کے کندھوں پر عائد ہوتی ہے۔

ڈی پی او نے فورس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ”مجھے سوشل میڈیا پر اپنی تشہیر یا سستی شہرت کا کوئی شوق نہیں ہے، میں صرف اور صرف حقیقی ترقی اور ٹھوس نتائج چاہتا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ ان کا واحد ہدف چترال سے منشیات کا فوری خاتمہ ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے ڈی ایس پی سے لے کر کانسٹیبل تک، پولیس کے ہر کارندے کو اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پولیس کی کارکردگی، خصوصاً منشیات کے خلاف مہم میں عدم برداشت کی پالیسی اپنائی جائے گی اور کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

محمد خالد خان نے فورس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مطلوبہ معیار پر لانے کے لیے خود احتسابی کو بہترین ہتھیار قرار دیا اور کہا کہ بطور ضلعی پولیس سربراہ یہ ان کی ترجیحات میں سب سے اوپر ہے۔ انہوں نے جرائم کی پشت پناہی یا سہولت کاری میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ جرائم پیش افراد کی مدد کرنے والے اہلکار وردی میں چھپی ‘کالی بھیڑیں ‘ ہیں، جن کے لیے چترال پولیس میں کوئی جگہ نہیں ہوگی اور ان کے خلاف بے رحمانہ کارروائی کی جائے گی۔

ڈی پی او لوئر چترال نے فورس کو ‘سفارش کلچر’ سے مکمل طور پر دور رہنے کی سخت ہدایت کی اور کہا کہ سفارش فورس کی کارکردگی کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا، ”اگرچہ میں ایک مقامی افسر ہوں، لیکن میرا یہ پختہ ایمان ہے کہ میں کوئی سفارش قبول نہیں کروں گا اور صرف وہی کروں گا جس کا میرٹ تقاضا کرے گا۔ تمام اہلکار اس بات کو اچھی طرح نوٹ کر لیں۔”

پولیس کی رٹ قائم کرنے اور عوام میں احساسِ تحفظ پیدا کرنے کے لیے انہوں نے ضلع بھر میں چوبیس گھنٹے پیٹرولنگ کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے افسران اور جوانوں کو ہدایت کی کہ وہ فرائض کی ادائیگی کے دوران چترال کے عوام کی روایتی پہچان—عاجزی، خوش اخلاقی اور بہترین آداب کو اپنا شعار بنائیں۔

اس سے قبل ڈی پی او نے پولیس افسران اور جوانوں کو درپیش مختلف مسائل سنی اور بعض کے حل کیلئے موقع پر ہی احکامات جاری کئے جبکہ بعض پر رپورٹ طلب کی۔

اس موقع پر ضلع بھر کے تمام اہم پولیس افسران بھی موجود تھے، جن میں ایس ڈی پی او چترال سٹی احمد عیسیٰ، ایس ڈی پی او ایون حسن اللہ، ایس ڈی پی او دروش سجاد حسین، ایس ڈی پی او لوٹ کوہ اقبال الدین، ڈی ایس پی (لیگل) محسن الملک، ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹرز عزیز الدین اور ڈی ایس پی (سیکیورٹی) قربان خان شامل تھے۔

chitraltimes dpo chitral lower darbar 6

chitraltimes dpo chitral lower darbar 3 1 chitraltimes dpo chitral lower darbar 4 chitraltimes dpo chitral lower darbar 5 chitraltimes dpo chitral lower darbar 8