داد بیداد – پامیر ہائی وے – ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
.
شاہراہِ پامیر کو اخبارات میں پامیر ہائی وے کا نام دیا گیا ہے کیونکہ بین الاقوامی تعلقات اور سرحد پار تجارت کے نقطۂ نظر سے عوامی جمہوریہ چین نے اس شاہراہ کو اپنی دستاویزات میں یہی نام دیا ہے۔ یہ امریکی فوجوں کے انخلاء کے بعد افغانستان اور چین کے باہمی تعاون کا تیسرا بڑا منصوبہ ہے۔ ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور کے پہلو میں نئی بستی پتراجایا اور قدیم دہلی کی بغل میں نئی دہلی کی طرح کابل کے پہلو میں شہرِ نو سے چار گنا بڑا شہر “نیو کابل” پہلا منصوبہ تھا جو تکمیل کے مراحل میں ہے۔ دریاۓ آمو سے شبرغان،جوز جان اور میمانہ فاریاب کو سیراب کرنے اور بجلی پیدا کرنے کے لیے 178 کلومیٹر لمبی نہر “قوشتاپی کینال” دوسرا منصوبہ تھا جو صرف دوسالوں میں مکمل ہوا ہے۔ اس کو مصنوعی دریا بھی کہا جاتا ہے۔ دریاۓ آمو افغانستان کے تین دریاؤں میں سے ایک ہے۔ دریاۓ کابل اور دریاۓ ہلمند کی طرح یہ بھی تاریخی دریا ہےجسے انگریزی میں Oxus اور عربی میں جیحوں کا نام دیا جاتا ہے۔
رودکی ثمرقندی نے اپنے مشہور قصیدے میں اس دریا کے دونوں مشرقی ناموں کا ذکر کیا ہے۔ ایک مصرعہ میں “ریگِ آمو” آیا ہے اور دوسرے مصرعہ میں “آبِ جیحوں از نشاطِ روۓ دوست” کہا گیا ہے۔
دریاۓ آمو مشرق سے مغرب کی طرف بہتا ہے جبکہ قوشتاپی کینال شمال سے جنوب کا رخ کرتا ہے۔ اور جدید ٹیکنالوجی کا ایک شاہکار ہے۔
تاہم پڑوسی ممالک میں جس منصوبے کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے وہ پامیر ہائی وے ہے جو چینی صوبہ زنجیانگ اویغور ریجن کو واخان اور پامیر کے راستے افغانستان سے ہو کر ایرانی بندرگاہ چاہ بہار سے ملاتا ہے۔ یہ شاہراہ قراقرم کی طرح ایک عجوبۂ عالم سڑک ہے جو تاشقورغن، سومہ تاش، تاغدم
باش، واخچیر، چیلنچی، سوختہ رباط، بوزای گمبذ، سرحد واخان، قلعہ پنجہ، خندود، شکاشم اورفیض آباد، طالقان سے ہو کر جنوب میں کابل اور مغرب میں ہرات تک جاتی ہے۔ یہ شاہراہ شمال میں تاجکستان، دوشنبہ، ازبکستان، سمرقند ، بخارا، ترکمنستان، اشک آباد اور دیگر وسطِ ایشیائی ریاستوں کو تجارت اور سیاحت کے ذریعے ملاتی ہے۔ اور عوامی جمہوریہ چین کے بڑے پروگرام “ون بیلٹ ون روڈ” (OBOR) کے مقاصد کو پورا کرتی ہے، اکتوبر 2026ء میں جب شاہراہِ پامیر کے ابتدائی فیز یعنی کچی سڑک کو ملانے کی تقریب منعقد ہوئی تو چین اور افغانستان کے نمائندوں نے تقریب میں شرکت کی۔ البتہ چینی معیار کے مطابق کوئی دکھاوا نہیں ہوا، بڑے پیمانے پر جشن نہیں ہوا، یہ سادہ تقریب تھی۔
چینی رہنماؤں کا یہ وصف ہے کہ وہ اشتہار سے زیادہ کام اور پروپیگنڈے سے زیادہ مقاصد کے حصول پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ پامیر ہائی وے پاکستان اور خیبر پختونخوا کے لیے دہری اہمیت رکھتی ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ چینی قیادت نے چائینا پاکستان اکنامک کوریڈور کا متبادل راستہ ڈھونڈ نکالا ہے مگر ایسی کوئی بات نہیں۔ دونوں اپنی جگہ الگ الگ منصوبے ہیں اور یہ خطے میں زیرِ گردش دیگر منصوبوں کی طرح آگے بڑھتے ہیں، جیسا کہ تاجکستان، افغانستان، پاکستان، انڈیا (TAPI) کے نام سے گیس پائپ لائن کا منصوبہ افغانستان تک کامیابی سے آیا ہے۔ اسی طرح انڈیا، مڈل ایسٹ، یورپ اکنامک کوریڈور (IMEC) پر تیزی سے عمل درآمد ہو رہا ہے۔ پاکستان کے حوالے سے پامیر ہائی وے کی تجارتی اور سیاحتی اہمیت پر سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز،کراس بارڈر ٹریڈ کونسل اور چترال چیمبر آف کامرس کے اندر مباحثے اور مکالمے ہو رہے ہیں۔
واخان کوریڈور کو پشاور سے ملانے والا واحد راستہ لواری ٹنل سے ہو کر گزرتا ہے۔ چترال سے واخان کو جانے والے دو راستے ہیں۔ پہلا راستہ مغرب میں دوراہ شاہ سلیم کے راستے ہو کر خان آباد، زیباک، شکاشم اور گازخون تک جا کر پامیر ہائی وے سے ملتا ہے۔ دوسرا راستہ شمال مشرق میں بروغیل سرحد واخان میں پامیر ہائی وے کو کراس کرتا ہے۔ شاہ سلیم دوراہ کے راستے 1993ء سے 2001ء تک گاڑیوں کی ٹریفک ہوتی تھی۔ تجارتی سامان کا تبادلہ ہوتا تھا، سیاحت بھی ہوتی تھی چترال کے تاجر درواز اور شغنان کے بازاروں سے تھوک مال لایا کرتے تھے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک سنہرا موقع ہے اس موقع سے فائدہ اٹھاکربڑی آسانی سے وسطی ایشیا کے مارکیٹوں تک رسائی کرسکتے ہیں۔