محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا کا تعلیمی اداروں میں حفاظتی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت
پہلے مرحلے میں ان سکولوں،جنھیں مختلف میڈیا رپورٹس اور دیگر ذرائع سے موصولہ معلومات کے ذریعے ذیادہ خطرناک رپورٹ کیا گیا ہے کا سروے کیا جائے گا۔
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے جاری کردہ مراسلے کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن، تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (مرد و خواتین) اور متعلقہ فیلڈ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ ڈیجیٹل و روایتی ذرائع ابلاغ،محکمانہ چینلز اور دیگر مستند ذرائع بشمول محکمہ ابتدائی وثانوی تعلیم، گورنر خیبرپختونخوا،مشیر تعلیم اور مشیر اطلاعات کے سوشل میڈیا اکاونٹس سے موصول ہونے والی سکولوں کی غیر محفوظ عمارتوں سے متعلق شکایات، ویڈیوز، تصاویر اور رپورٹس کی فوری صحیح جانچ کی جائے۔
مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ جن تعلیمی عمارتوں کو غیر محفوظ قرار دیا جائے، وہاں تدریسی سرگرمیاں فوری طور پر معطل کر دی جائیں اور طلبہ کو قریبی سکولوں یا دیگر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔ متاثرہ عمارتوں میں تدریسی سرگرمیوں کی بحالی ضروری مرمت اور متعلقہ تکنیکی اتھارٹی کی جانب سے عمارت کے محفوظ ہونے کی تصدیق کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
مراسلے کے مطابق سکولوں کی ضروری مرمت ترجیحی بنیادوں پر محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے پلاننگ ونگ، متعلقہ تکنیکی اداروں اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کے باہمی تعاون سے مکمل کی جائے گی، جبکہ عمارتوں میں بڑے نوعیت کے ساختی نقائص کی صورت میں تکنیکی جائزے اور ضروری اصلاحی اقدامات کے لیے متعلقہ حکام سے رجوع کیا جائے گا۔
تمام شکایات، معائنوں، خطرات کے جائزوں اور کیے گئے اقدامات کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ کسی بھی فوری خطرے کی صورت میں بلا تاخیر کارروائی اور متعلقہ حکام کو رپورٹ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
مراسلے میں مزید ہدایت کی گئی ہے کہ تمام اضلاع کی جانب سے معائنوں، غیر محفوظ عمارتوں، تدریسی سرگرمیوں کی معطلی، طلبہ کی منتقلی کے انتظامات اور اصلاحی اقدامات پر مشتمل جامع رپورٹ 21 اکتوبر 2026ء کو دوپہر 12 بجے تک محکمہ کو ارسال کی جائے۔
محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے ان ہدایات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے اور معاملے کو نہایت فوری نوعیت کا قرار دیتے ہوئے تمام متعلقہ افسران کو احکامات کی تعمیل کی ہدایت کی ہے
دریں اثنا ممبر ایڈوائزری کونسل برائے تعلیم ڈاکٹر عامر عبداللہ نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی رپورٹس اور ویڈیوز کی روشنی میں غیر محفوظ سکولوں کی نشاندہی اور حفاظتی اقدامات کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے جبکہ ابتدائی رپورٹس بھی موصول ہونا شروع ہوگئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی ٹیم نے اس اہم کام کے لیے فوری اقدامات کرتے ہوئے ہفتہ وار تعطیل کے باوجود مسلسل کام کیا جس پر محکمہ کے افسران اور اہلکار خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔
ڈاکٹر عامر عبداللہ نے ان شہریوں کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے غیر محفوظ سکولوں سے متعلق ویڈیوز ریکارڈ کرکے متعلقہ حکام تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں نے اپنی اہم سماجی ذمہ داری ادا کی ہے اور اس ذمہ دارانہ تعاون سے ممکنہ خطرات کی نشاندہی اور بروقت کارروائی میں مدد ملی ہے۔