The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 18 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

 صوبے میں امن و امان کا قیام ہماری پہلی ترجیح ہے، 10 سے 12 شورش زدہ اضلاع کو امن کے حوالے سے ماڈل اضلاع بنایا جائے گا۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی

Chitral Times

 صوبے میں امن و امان کا قیام ہماری پہلی ترجیح ہے، 10 سے 12 شورش زدہ اضلاع کو امن کے حوالے سے ماڈل اضلاع بنایا جائے گا۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی

 صوبے میں امن و امان کا قیام ہماری پہلی ترجیح ہے، 10 سے 12 شورش زدہ اضلاع کو امن کے حوالے سے ماڈل اضلاع بنایا جائے گا۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی

 صوبے میں امن و امان کا قیام ہماری پہلی ترجیح ہے، 10 سے 12 شورش زدہ اضلاع کو امن کے حوالے سے ماڈل اضلاع بنایا جائے گا۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی

۔

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کا قیام ہماری پہلی ترجیح ہے اور اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے پولیس پر بھاری سرمایہ کاری کی جائے گی، جبکہ 10 سے 12 شورش زدہ اضلاع کو امن کے حوالے سے ماڈل اضلاع بنایا جائے گا۔ جن لوگوں نے صوبے کا امن برباد کیا، ان کا باب اب بند ہو چکا ہے۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو بتانا چاہتا ہوں کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ ریاست کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی سابقہ صوبائی حکومت میں دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا عزم ہی نظر نہیں آتا تھا۔ بلوچستان میں بی ایل اے اور خیبر پختونخوا میں دہشت گرد عناصر سرگرم ہیں، جن کے خلاف مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔انھوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک سلجھے ہوئے اور زیرک سیاست دان ہیں، تاہم گزشتہ روز ان کی تقریر سن کر مایوسی ہوئی۔ مولانا فضل الرحمان خود کہتے رہے ہیں کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال اتنی خراب ہے کہ وہ اپنے علاقے میں گھوم پھر نہیں سکتے۔گورنر خیبر پختونخوا نے مولانا فضل الرحمان کے مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر گورنر راج حرام ہے تو ایل ایف او کی حمایت کرنا اور اسٹیبلشمنٹ سے زمینیں لینا حلال تھا؟ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ ان کے بغیر کوئی حکومت نہ بن سکتی ہے اور نہ چل سکتی ہے، لیکن موجودہ حکومت بن بھی گئی ہے اور چلے گی بھی۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں معدنی وسائل موجود ہیں تو انہیں نکال کر صوبے کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ معدنیات نکالنے ہی کے لیے ہوتی ہیں، اس لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ صوبے کے معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کریں۔ معدنی وسائل سے استفادہ کیا جائے گا تو عوام خوشحال ہوں گے، لیکن بعض عناصر یہاں کے لوگوں کی خوشحالی نہیں چاہتے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے کے عوام کو امن، خوشحالی اور ترقی چاہیے۔ وہ مولانا فضل الرحمان کو دعوت دیتے ہیں کہ صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے اس سفر میں ہمارا ساتھ دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں پشاور اور اسلام آباد سمیت دیگر صوبوں کے درمیان جو بڑے فاصلے پیدا ہوئے تھے، اب وہ ختم ہو جائیں گے۔ گورنر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کمروں میں بند ہو کر الزامات لگانا درست طرزِ عمل نہیں۔ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں کیے گئے اچھے کام جاری رکھے جائیں گے، جبکہ غلط اقدامات کو بند کیا جائے گا۔