The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 10 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

خیبرپختونخوا میں 32 ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتالوں کی بہتری کے لیے 33 ارب روپے مختص، نئے اسپتالوں کے قیام پر بھی پیش رفت

Chitral Times

خیبرپختونخوا میں 32 ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتالوں کی بہتری کے لیے 33 ارب روپے مختص، نئے اسپتالوں کے قیام پر بھی پیش رفت

خیبرپختونخوا میں 32 ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتالوں کی بہتری کے لیے 33 ارب روپے مختص، نئے اسپتالوں کے قیام پر بھی پیش رفت

خیبرپختونخوا میں 32 ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتالوں کی بہتری کے لیے 33 ارب روپے مختص، نئے اسپتالوں کے قیام پر بھی پیش رفت

.

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل نئے اسپتالوں کے قیام کے منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے اور محکمہ صحت کے جاری منصوبوں کے لیے ترجیحی بنیادوں پر فنڈز کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتالوں کی بہتری کے منصوبے کے تحت مجوزہ کاموں کے دائرہ کار اور لاگت کی تفصیلات ایک ہفتے کے اندر فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے مالی وسائل کی کمی کو رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ صحت کے ترجیحی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ عوام کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، جس کے لیے سرکاری اسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ صحت کے شعبے میں اصلاحات کے ساتھ جدید طبی سہولیات کی فراہمی بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے عوام کو معیاری علاج فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صحت کے جاری منصوبوں کے لیے بروقت فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر طبی عملے کی کمی دور کرنے کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ اسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات بہتر بنائی جا سکیں۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ صحت کے منصوبوں میں فنڈز کے استعمال، تعمیراتی و طبی معیار اور کام کی رفتار کی خود نگرانی کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری دراصل صوبے کے عوام کے روشن مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ حکومت ایسا صحت کا نظام قائم کرنا چاہتی ہے جہاں کسی شہری کو علاج کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر نہ کرنا پڑے اور اسے اپنے علاقے میں ہی معیاری طبی سہولیات میسر ہوں۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 33 ارب روپے کی لاگت سے جاری منصوبے کے تحت صوبے کے 32 ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتالوں کی تزئین و بحالی اور استعداد کار میں اضافے پر کام جاری ہے۔ منصوبے میں اسپتالوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، جدید طبی آلات کی فراہمی، طبی خدمات میں اضافے اور دیگر ضروری اقدامات شامل ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت صوبے کے 32 ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتالوں کو 2 ارب 50 کروڑ روپے مالیت کے طبی آلات فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ 29 اسپتالوں کے بنیادی ڈھانچے کے ڈیزائن منظور ہونے کے بعد متعلقہ ٹھیکیداروں کو کام شروع کرنے کے لیے متحرک کر دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ منصوبے کے تحت تمام اسپتالوں میں ہونے والے کام، تخمینہ لاگت اور تکمیل کے مراحل سے متعلق جامع تفصیلات ایک ہفتے کے اندر پیش کی جائیں تاکہ پیش رفت کا مؤثر جائزہ لے کر ضروری فیصلے کیے جا سکیں۔

اجلاس کو نئے اسپتالوں کے قیام سے متعلق منصوبوں پر پیش رفت کے بارے میں بتایا گیا کہ کوہاٹ میں ایک ہزار بستروں پر مشتمل میڈیکل کمپلیکس کے قیام کے لیے درکار زمین کے حصول کی سمری ارسال کر دی گئی ہے۔ اسی طرح ملاکنڈ میں ایک ہزار بستروں پر مشتمل اسپتال کے لیے زمین کی نشاندہی مکمل کر لی گئی ہے اور زمین کی خریداری کا عمل جاری ہے۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پشاور میں جنرل اسپتال کے قیام کے لیے ابتدائی تیاری سے متعلق دستاویز پی سی ٹو تیار کرکے منظوری کے لیے محکمہ منصوبہ بندی کو ارسال کر دی گئی ہے۔

اسی طرح باڑہ میں خواتین اور بچوں کے اسپتال کے قیام کے لیے زمین کے حصول کی غرض سے سیکشن فور نافذ کر دیا گیا ہے، جبکہ اس منصوبے کی پی سی ٹو بھی تیار کرکے منظوری کے لیے محکمہ منصوبہ بندی کو بھجوا دی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ نئے اسپتالوں کے قیام اور جاری منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے تاکہ صوبے کے عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔