The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 10 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

سلطان ارغش: ایک نام، دو الگ تاریخی شخصیات – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

Chitral Times

سلطان ارغش: ایک نام، دو الگ تاریخی شخصیات – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

سلطان ارغش: ایک نام، دو الگ تاریخی شخصیات – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

سلطان ارغش: ایک نام، دو الگ تاریخی شخصیات – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

.

تاریخ و نسب کے مطالعے میں یکساں نام اکثر تحقیق کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ’’سلطان ارغش‘‘ بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔ دستیاب تاریخی و نسبی مواد کے تقابلی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس نام سے دو الگ شخصیات سامنے آتی ہیں۔ ایک گبری یا جہانگیری سواتی شاہی خاندان کے سلطان ارغش بن دشرا ہیں، جبکہ دُوسری نسبی روایت میں سید ابراہیم المعروف سلطان ارغش بن جلال الدین کا ذکر ملتا ہے، جنہیں اخوند پنجو ؒ کے اجداد میں شمار کیا گیا ہے۔

گبری سواتی روایت میں سلطان فہکل یا پکھل اہم حکمران کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ جدید تحقیقی مواد کے مطابق فہکل کے چار بیٹے زردست، عالم شیر، دشرا اور قرزہ تھے۔ پشتو اکیڈمی کے تحقیقی مقالے میں بیان ہوا ہے کہ یہ چاروں راجہ گیرا کے خلاف جنگ میں مارے گئے۔ اس روایت کے مطابق اُن کی قبریں ملاکنڈ کے علاقے آلہ ڈھنڈ ڈھیری میں بتائی جاتی ہیں۔

اسی روایت میں دشرا کو سلطان جہانگیر اور سلطان ارغش کا والد بتایا گیا ہے۔ چنانچہ پہلے ارغش کا نسب یوں مرتب ہوتا ہے: سلطان ارغش بن سلطان دشرا بن سلطان فہکل بن سلطان کیہجامن بن سلطان ہندو۔ اس نسبت کے مطابق ارغش سلطان جہانگیر کا بھائی اور گبری حکمران خاندان کا شہزادہ تھا۔ بعد کی روایات میں اسی خاندان کو جہانگیری سواتی حکمرانوں کے نام سے بھی یاد کیا گیا ہے۔ ارغش اسی شاہی سلسلے کی ایک اہم شخصیت کے طور پر سامنے آتا ہے۔

ارغش بن دشرا کے بارے میں بعض جدید روایات بیان کرتی ہیں کہ وہ سوات کی سیاسی کشمکش کے بعد وہاں سے نکلا اور سلجوقی دربار تک پہنچا۔ بعض مصنفین اس واقعے کو سلطان کیقباد اول کے عہد سے جوڑتے ہیں۔ تاہم متعلقہ تحقیقی مواد اس حصے کو قیاسی قرار دیتا ہے۔ اِس لیے سلجوقی دربار سے ارغش کی وابستگی کو قطعی تاریخی واقعہ قرار دینے کے بجائے ایک روایتی بیان سمجھنا زیادہ محتاط ہوگا۔

اسی گبری ارغش کو بعض جدید نسبی روایات ارغشال سواتیوں کا جد قرار دیتی ہیں۔ بعض مصنفین نے اس نسبت کو آگے بڑھاتے ہوئے اسے اخوند پنجو ؒ کے خاندان سے بھی ملا دیا ہے۔ تاہم یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا اس دعوے کیلئے قدیم اور مسلسل شجرۂ موجود ہے؟ دستیاب مواد میں ارغش بن دشرا سے اخوند پنجو تک نام بہ نام ایسا قدیم سلسلہ واضح نہیں، اِس لیے دونوں کو یکساں شخصیت قرار دینا محتاط تحقیق نہیں۔

اخوند پنجو بابا کے نسبی سلسلے میں ’’سلطان ارغش‘‘ ایک مختلف شناخت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ اس روایت کے مطابق اُن کا مکمل نسب یوں ہے: سید ابراہیم المعروف سلطان ارغش بن جلال الدین بن محمد حسن بن اسحاق بن احمد بن محمود بن اسعد بن علی بن ہرمز بن مردان بن قرار بن محمد طاہر المقلب تارن۔ یہاں ’’سید ابراہیم‘‘ اصل نام اور ’’سلطان ارغش‘‘ معروف نام یا لقب کے طور پر درج ہے۔

اس دُوسرے شجرے کو پہلے گبری شاہی شجرے سے ملانا اِس لیے بھی درست نہیں کہ دونوں میں والد کا نام ہی مختلف ہے۔ گبری روایت کا ارغش دشرا کا بیٹا ہے، جبکہ اخوند پنجو بابا کی نسبی روایت کا ارغش جلال الدین کا بیٹا سید ابراہیم ہے۔ دونوں کے سلسلے الگ ناموں اور مختلف نسبی کڑیوں سے آگے بڑھتے ہیں۔ محض ’’سلطان ارغش‘‘ کی یکسانیت دونوں کو ایک شخصیت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔

’’سلطان‘‘ کے لفظ کی نوعیت بھی اس معاملے میں اہم ہے۔ شاہی خاندانوں میں یہ حکمرانی یا شاہی مرتبے کا عنوان ہو سکتا ہے، جبکہ صوفیانہ اور اسلامی روایت میں یہی لفظ تعظیمی لقب کے طور پر بھی استعمال ہوا ہے۔ اِس لیے کسی شجرے میں ’’سلطان ارغش‘‘ لکھے ہونے سے لازماً یہ ثابت نہیں ہوتا کہ متعلقہ شخص گبری سلطنت کا فرمانروا تھا۔ اصل نام، والد، نسب، لقب اور منصب کو الگ الگ جانچنا ضروری ہے۔

قدیم تاریخی ماخذ سوات، پکھلی اور گبری حکمرانوں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں، جبکہ بعد کے مصنفین، خصوصاً ہنری راورٹی، نے بھی اس خطے کی سیاسی و قبائلی تاریخ پر بحث کی ہے۔ تاہم دستیاب شہادت ارغش بن دشرا اور سید ابراہیم بن جلال الدین المعروف ارغش کے درمیان کوئی مسلسل اور قطعی نسب قائم نہیں کرتی۔ اسی لیے جدید نسبی روایات کو قدیم تاریخی شہادت کے برابر رکھنا مناسب نہیں۔

تاریخی تحقیق کا تقاضا یہی ہے کہ نام کی مماثلت کو نسب کی مماثلت نہ سمجھا جائے۔ دستیاب شواہد میں گبری سواتی روایت کا ارغش اور اخوند پنجو کے نسب میں آنیوالا ارغش دو الگ شناختوں کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ ایک سیاسی و شاہی روایت سے وابستہ ہے، جبکہ دوسرا نسبی و صوفیانہ سلسلے میں نمایاں ہوتا ہے۔ دونوں کے والدین، نسبی کڑیاں اور تاریخی پس منظر الگ ہیں، اِس لیے انہیں الگ شخصیات کے طور پر بیان کرنا زیادہ قرینِ قیاس ہے۔