خیبرپختونخوا کابینہ کے اہم فیصلے، سی ٹی ڈی کے لیے 5.33 ارب اور صفائی پروگرام کی توسیع کی منظوری
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) کابینہ کے فیصلوں سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے وزیرِ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ، سائنس و ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کابینہ نے انسدادِ دہشت گردی کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے، عوامی خدمات کو بہتر کرنے، صحت و سماجی بہبود کے اقدامات کی معاونت اور صوبے بھر کی ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے ہیں۔وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کابینہ نے ترقیاتی منصوبے “خیبر پختونخوا میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ضلعی سیٹ اَپ کا قیام، بشمول پشاور ریجنل سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹرز کی تعمیر” کے لیے مالی سال 2026-27 کے دوران ریلیز پالیسی کے تحت مقررہ آخری تاریخوں میں نرمی کرتے ہوئے بین الشعبہ جاتی ری اپروپریشن کے ذریعے 5,333.50 ملین روپے کی اضافی رقم کی منظوری دی۔
شفیع جان نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد سی ٹی ڈی کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں، انٹیلی جنس صلاحیتوں اور صوبے بھر میں خصوصی سہولیات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صوبائی حکومت پہلے ہی خیبر پختونخوا بھر میں ضلعی سطح پر سی ٹی ڈی سیٹ اَپ کے قیام، بشمول پشاور ریجنل سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹرز کی تعمیر کے منصوبے کے لئے 6,591.640 ملین روپے کی منظوری دے چکی ہے۔
صفائی و ستھرائی کے اقدامات کے حوالے سے وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ پروگرام کی پیش رفت، مقامی آبادی کی جانب سے اس کی وسیع پذیرائی اور اس کے تسلسل کے لیے عوام کے پُرزور مطالبے کے پیشِ نظر کابینہ نے دیہی علاقوں (ویلج کونسلز) صفائی پروگرام کو 7,660.590 ملین روپے کی لاگت کے ساتھ توسیع کی منظوری دی۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی کی منظور کردہ مشترکہ قرارداد نمبر 283 وفاقی حکومت کو ارسال کرنے کی بھی منظوری دی۔
شفیع جان نے بتایا کہ اس قرارداد میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا و قائدِ ایوان محمد سہیل خان آفریدی کے ساتھ پیش آنے والے انتہائی افسوسناک، قابلِ مذمت اور تشویشناک واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے، جس میں دورۂ پنجاب کے دوران پنجاب پولیس کی جانب سے وزیرِ اعلیٰ کو مبینہ طور پر زبردستی پولیس گاڑی میں لے جایا گیا، ان کے سیکیورٹی اہلکاروں سے الگ کیا گیا اور بعد ازاں سیکیورٹی کے بغیر سڑک کنارے چھوڑ دیا گیا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ نے ضم اضلاع کے امیدواروں کے لیے ملک بھر کے مختلف اداروں میں میڈیکل و ڈینٹل کالجوں کی مخصوص نشستوں کی تقسیم کی پالیسی برائے تعلیمی سال 2026-27 کی منظوری دی۔
انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے جنوبی وزیرستان کی 42 مخصوص نشستوں کی مساوی تقسیم کی بھی منظوری دی، جس کے تحت 21، 21 نشستیں بالترتیب اپر اور لوئر جنوبی وزیرستان کو دی جائیں گی۔ شفیع جان نے مزید کہا کہ وزیرِ اعلیٰ نے مزید ہدایت کی ہے کہ نجی میڈیکل و ڈینٹل کالجوں میں اپر اور لوئر جنوبی وزیرستان کے لیے 10، 10 نشستیں مختص کی جائیں، جن کے اخراجات ان نشستوں کی باقاعدہ تخلیق تک صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے طویل اور دائمی بیماریوں یا پیچیدہ طبی عوارض میں مبتلا 81 مستحق مریضوں کے علاج معالجے کے لیے مالی معاونت کی بھی منظوری دی۔شفیع جان نے کہا کہ بحالی اور سماجی بہبود کی خدمات کو مستحکم بنانے کے لیے کابینہ نے ضلع صوابی میں منشیات کے عادی افراد کے لیے بحالی و علاج و ترکِ منشیات مرکز کی تعمیر کے لیے محکمہ اوقاف سے 4 کنال 17 مرلے اراضی محکمہ زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن امپاورمنٹ کو منتقل کرنے کی منظوری دی۔
اسی طرح، انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے ڈیرہ اسماعیل خان میں مجوزہ چائلڈ پروٹیکشن یونٹ اور سوشل ویلفیئر کمپلیکس کے قیام کے لیے محکمہ لائیو اسٹاک، فشریز و کوآپریٹو سے 25 کنال اراضی محکمہ زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن امپاورمنٹ کو منتقل کرنے کی منظوری دی۔چینی کی دستیابی اور قیمتوں کے حوالے سے وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ کابینہ نے یہ سفارش منظور کی کہ وفاقی حکومت چینی کی برآمد پر صرف نئے کرشنگ سیزن کے آغاز، جو وسط نومبر میں متوقع ہے، کے بعد غور کرے اور برآمد اس وقت کرے جب نئی پیداوار دستیاب ہو اور چینی کی قیمتوں میں استحکام آۓ۔شفیع جان نے مزید کہا کہ کابینہ نے ورلڈ بینک (آئی ڈی اے) (کے پی ریڈی) منصوبے کے لییورلڈ بینک کی قابلِ اطلاق شرائطِ مالیات کے تحت 250 ملین ڈالرز فنڈنگ کے حصول کی منظوری بھی دی۔