ایک غیر مقامی خیبر پختونخوا کے خزانے کا نگران کیوں ہے؟ – تحریر: قریش خٹک
.
جمہوریت میں حکومتیں بدلتی ہیں، وزراء اور سیکریٹریز آتے جاتے رہتے ہیں، مگر وفاقی نظامِ حکومت کا بنیادی سیاسی تقاضا یہ ہے کہ سیاست اور حکمرانی صوبائی اکائیوں کی زمینی حقیقتوں، مقامی اداروں اور دستیاب قدرتی و انسانی وسائل سے جڑی ہو۔ دوسری جانب، صوبائی اسمبلی کے انتخاب کے لیے آئین میں امیدوار کی اہلیت سے متعلق یہ شرط موجود ہے کہ اس کا نام صوبے کے کسی بھی علاقے کی انتخابی فہرست میں درج ہو۔ چنانچہ صوبے سے باہر کا ایسا فرد جس کا نام خیبر پختونخوا کی کسی انتخابی فہرست میں درج نہ ہو، خیبر پختونخوا اسمبلی کا امیدوار نہیں بن سکتا۔
پاکستان تحریک انصاف گزشتہ تیرہ سال سے خیبر پختونخوا میں مسلسل برسرِ اقتدار ہے، جس دوران اس کی تیسری حکومت اور چوتھی کابینہ تشکیل پا چکی ہے۔ لیکن اس تمام تر سیاسی اور انتظامی تسلسل کے باوجود ایک بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: کیا چار کروڑ سے زائد آبادی والے صوبے میں مالیاتی امور سنبھالنے کے لیے ایک بھی ایسا اہل شخص موجود نہیں تھا کہ پی ٹی آئی کو خیبر پختونخوا کے لیے باہر سے ایک ماہرِ معیشت لا کر وزیراعلیٰ کا فنانس ایڈوائزر مقرر کرنا پڑا؟
یہ سوال کسی فرد کی انفرادی قابلیت پر حملہ نہیں اور نہ ہی اس کا مقصد علاقائی یا جغرافیائی تعصب کو ہوا دینا ہے۔ یہاں “غیر مقامی” سے مراد محض ایسا شخص نہیں جو خیبر پختونخوا میں پیدا نہیں ہوا یا جس کا تعلق صوبے سے نہیں، بلکہ ایسا شخص ہے جس کا نام صوبے کی کسی انتخابی فہرست میں درج نہیں۔ اصل سوال ایک حکمران جماعت کی سیاسی ترجیحات، اپنی مقامی قیادت پر اعتماد اور اس کے صوبائی حکمرانی کے ماڈل کا ہے۔ منتخب جمہوری نظام میں ایسے اہم شعبے کی سیاسی نگرانی کا بنیادی جواز یہ ہوتا ہے کہ فیصلہ سازی کا سلسلہ عوام کے منتخب نمائندوں سے جڑا رہے اور حکومت اپنے فیصلوں کے لیے براہِ راست سیاسی طور پر جواب دہ ہو۔ جب ایک غیر منتخب اور غیر مقامی مشیر کو منتخب سیاسی قیادت پر ترجیح دے کر اتنی اہم مالیاتی ذمہ داری سونپی جاتی ہے تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس تقرری کی ضرورت کیا تھی، اس کے لیے کیا اہداف مقرر کیے گئے اور اس کے نتائج کیا نکلے؟
اگر کسی غیر مقامی ماہر کو اس بنیاد پر حکومت میں شامل کیا جائے کہ وہ صوبے کی معاشی نبض کو مقامی سیاسی قیادت سے بہتر سمجھتا ہے، ٹیکس محاصل بڑھا سکتا ہے، بجٹ سازی کو زیادہ حقیقت پسندانہ بنا سکتا ہے اور مالیاتی نظم و ضبط قائم کر سکتا ہے، تو ایسی تقرری کا سب سے مضبوط جواز اس کی قابلِ پیمائش کارکردگی ہونی چاہیے۔ چنانچہ مزمل اسلم کی اہلیت سے بڑا سوال یہ ہے کہ دو سال سے زائد عرصے میں ان کی موجودگی سے خیبر پختونخوا کے مالیاتی انتظام میں ایسی کون سی بنیادی اور قابلِ پیمائش بہتری آئی جو صوبے کے اپنے اداروں، بیوروکریسی اور منتخب نمائندوں کے ذریعے حاصل نہیں کی جا سکتی تھی؟
مزمل اسلم کو مارچ 2024 میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا فنانس ایڈوائزر مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے باوجود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت نے بھی انہیں اس منصب پر برقرار رکھا۔ مزمل اسلم وفاقی وزارتِ خزانہ کا ترجمان اور تحریک انصاف کی معاشی ٹیم کا حصہ رہے ہیں اور ان کے پاس برطانیہ کی ایک یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری بھی ہے۔ مالیاتی منڈیوں کا تجربہ اور معاشی تجزیہ ان کے پیشہ ورانہ پس منظر کا حصہ ضرور ہیں، مگر پبلک سیکٹر فنانس کا انتظام نجی مالیاتی منڈی یا ٹیلی ویژن ٹاک شو سے بنیادی طور پر مختلف ہوتا ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ صوبائی محکمہ خزانہ کس بنیاد پر چلایا جا رہا ہے، مقامی سیاسی ترجیحات اسے کس سمت لے جا رہی ہیں اور ایک غیر منتخب و غیر مقامی ماہر کی تکنیکی رائے کو صوبائی سیاسی فیصلہ سازی میں کس حد تک دخل انداز کردیا گیا ہے؟
پبلک سیکٹر فنانس محض معاشیات کی ڈگری یا مالیاتی منڈیوں کے تجربے کا نام نہیں۔ اس کے لیے قومی مالیاتی کمیشن (NFC) کے پیچیدہ آئینی و قانونی معاملات، صوبائی محاصل، پبلک فنانشل مینجمنٹ، پنشن و تنخواہوں کی ادائیگیوں، ترقیاتی اخراجات، قرض کے انتظام، بلدیاتی مالیات اور بالخصوص ضم شدہ اضلاع کی مخصوص معاشی ضروریات پر عملی گرفت درکار ہوتی ہے۔ جب صوبے میں باقاعدہ محکمہ خزانہ، سیکریٹری خزانہ، اعلیٰ سطح کی مالیاتی بیوروکریسی اور پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ جیسے مستقل ادارے پہلے سے موجود ہوں تو ایک بیرونی مالیاتی ماہر کی تقرری کا جواز اسی صورت میں مضبوط ہو سکتا ہے جب وہ ان اداروں کی صلاحیت میں کوئی ایسی نمایاں بہتری پیدا کرے جو اعداد و شمار اور عملی نتائج میں نظر آئے۔
یہی وہ پیمانہ ہے جس پر مزمل اسلم کی تقرری کو پرکھا جانا چاہیے۔ ایک حالیہ پریس کانفرنس میں خود فنانس ایڈوائزر کا کہنا تھا کہ 2024 میں صوبے کا مجموعی قرضہ 634 ارب روپے تھا جو دو برس میں بڑھ کر 809 ارب روپے ہو گیا۔ قرض کا بڑھتا ہوا بوجھ صوبے پر موجود مالیاتی دباؤ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایسے میں سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ غیر مقامی ماہر کی تقرری نے صوبے کے مالیاتی نظم، قرض کے انتظام اور داخلی وسائل میں اضافے کے حوالے سے کیا نمایاں اور قابلِ پیمائش تبدیلی پیدا کی؟
مزمل اسلم کا ایک مستقل مؤقف یہ رہا ہے کہ وفاق خیبر پختونخوا کو اس کا جائز مالی حصہ نہیں دے رہا، خواہ وہ NFC ایوارڈ کا حصہ ہو، نیٹ ہائیڈل پرافٹ ہو یا ضم شدہ اضلاع کے لیے درکار وسائل۔ وفاق کی طرف سے صوبائی مالی حقوق میں تاخیر یا کمی ایک حقیقی اور سنجیدہ مسئلہ ہے اور خیبر پختونخوا کے آئینی و مالی حقوق کے حصول کی جدوجہد کو محض سیاسی بیان بازی کہہ کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ جون 2026 میں بھی مزمل اسلم نے وفاقی حکومت پر صوبے کے NFC اور دیگر مالی حقوق میں ناانصافی کا الزام عائد کرتے ہوئے آئینی عدالت سے رجوع کرنے کی تیاری کا اعلان کیا تھا۔ لیکن اس اعلان کے بعد کے چند ماہ میں عملی طور پر کیا اقدامات اٹھائے گئے، اس کی تفصیل بھی سامنے آنی چاہیے۔
اچھی مالیاتی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ صوبائی حکومت بیک وقت وفاق سے اپنا جائز آئینی حق مانگنے کے ساتھ ساتھ اپنے دستیاب وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرنا بھی شروع کرے۔ اس لیے سوال یہ بھی ہے کہ وفاق سے حقوق کے حصول کے اقدامات کے ساتھ صوبائی حکومت نے اپنے داخلی وسائل بڑھانے، ٹیکس نیٹ وسیع کرنے، سرکاری اداروں کے خسارے کم کرنے اور مالیاتی نظم بہتر بنانے کے لیے کیا بنیادی اصلاحات کیں؟
وفاق کو موردِ الزام ٹھہرانا سیاسی طور پر آسان ہے، مگر اپنے نظام کی کمزوریوں کا احتساب زیادہ مشکل ہے۔ خیبر پختونخوا کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے محدود وسائل کو زیادہ مؤثر بنائے، ٹیکس وصولی کی گنجائش کو وسیع کرنے کی سعی کرے، پراپرٹی اور زرعی آمدنی سے حاصل ہونے والے محصولات کو بہتر بنائے، غیر ضروری اخراجات کم کرے اور سرکاری اداروں کے مالیاتی نظم کو مضبوط کرے۔ تاہم، صوبائی محکموں کی آڈٹ رپورٹس میں بارہا سامنے آنے والی بے قاعدگیاں اس تاثر کو ضرور تقویت دیتی ہیں کہ صوبائی سطح پر مالیاتی کنٹرول اور احتساب کے نظام میں بنیادی کمزوریاں اب بھی موجود ہیں۔
یہاں ایک اور سوال تحریک انصاف کی تیرہ سالہ حکمرانی پر بھی بنتا ہے کہ تیرہ برس کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے اپنی حکمرانی کا مستقل انسانی اور ادارہ جاتی ڈھانچہ تیار کرنے کے لیے کم مدت نہیں۔ اگر اتنے طویل عرصے کے بعد بھی پارٹی کو صوبے کی اسمبلی، جامعات، بیوروکریسی اور تکنیکی اداروں کے اندر سے مطلوبہ مالیاتی قیادت میسر نہیں آ سکی تو یہ صرف ایک مشیر کی تقرری کا سوال نہیں رہتا۔ یہ اس جماعت کی انسانی وسائل کی تیاری، ادارہ سازی اور مقامی قیادت کی صلاحیت پر اعتماد کے ماڈل کا سوال بن جاتا ہے۔
خیبر پختونخوا آج دہشت گردی، بے روزگاری، صنعتی جمود اور سیکیورٹی اخراجات کے سنگین دباؤ میں ہے۔ کمزور سرمایہ کاری اور محدود مالیاتی گنجائش اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ ایسے حالات میں محکمہ خزانہ سیاسی محاذ آرائی یا پریس کانفرنسوں کا مرکز نہیں بن سکتا۔ صوبے کو ایک ایسی جامع مالیاتی حکمت عملی درکار ہے جو اسلام آباد کے سامنے اس کے آئینی و مالی حقوق کا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کرے، مگر ساتھ ہی صوبے کو وفاقی منتقلیوں پر غیر ضروری انحصار سے نکالنے کے لیے اپنی آمدنی، سرمایہ کاری، روزگار اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے۔
صوبائی خودمختاری صرف یہ نہیں کہ اسلام آباد سے اپنا حصہ مانگا جائے؛ صوبائی خودمختاری یہ بھی ہے کہ پشاور اپنے وسائل کا حساب دے، اپنے اداروں کو جواب دہ بنائے اور اپنی مالیاتی صلاحیت پر اعتماد پیدا کرے۔ وفاق سے حق مانگنے اور اپنے وسائل کا احتساب کرنے میں کوئی تضاد نہیں۔ ایک ذمہ دار صوبائی حکومت دونوں کام بیک وقت کرتی ہے۔
صوبے کے عوام کو محض یہ جاننے کی ضرورت نہیں کہ قرض کتنا ہے یا ریونیو کتنا جمع ہوا۔ انہیں یہ جاننے کا حق ہے کہ قرض کیوں بڑھا، آمدنی کیوں نہیں بڑھ رہی، بجٹ کے تخمینے کتنے درست ثابت ہوئے، مالیاتی بے قاعدگیوں میں کیا کمی آئی، وفاق سے واجب الادا حقوق کے حصول میں کیا پیش رفت ہوئی، اور صوبے کو مالی طور پر زیادہ خود انحصار بنانے کے لیے کون سی مستقل اصلاحات کی گئیں۔ اگر ان سوالات کے جواب اعداد و شمار، پالیسی اصلاحات اور قابلِ پیمائش نتائج کی صورت میں موجود ہیں تو ایک غیر مقامی ماہر کی تقرری کا جواز بھی موجود ہے۔ لیکن اگر جواب سیاسی بیانات، وفاق سے شکایات اور مستقبل کے وعدوں تک محدود ہیں تو پھر سوال صرف ایک مشیر کی کارکردگی کا نہیں رہتا۔ پھر سوال اس پورے حکمرانی ماڈل کا ہے جس نے تیرہ سالہ مسلسل اقتدار کے باوجود صوبے کے اپنے اداروں، منتخب نمائندوں اور انسانی وسائل میں اتنا اعتماد پیدا نہیں کیا کہ وہ اپنے خزانے کی سیاسی اور انتظامی ذمہ داری خود سنبھال سکیں۔