The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 7 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

گندم کی غلط پالیسی سے آٹے کی قلت، 7 لاکھ 50 ہزار ٹن درآمد سے قومی خزانے پر بوجھ بڑھے گا: مزمل اسلم

Chitral Times

گندم کی غلط پالیسی سے آٹے کی قلت، 7 لاکھ 50 ہزار ٹن درآمد سے قومی خزانے پر بوجھ بڑھے گا: مزمل اسلم

گندم کی غلط پالیسی سے آٹے کی قلت، 7 لاکھ 50 ہزار ٹن درآمد سے قومی خزانے پر بوجھ بڑھے گا: مزمل اسلم

گندم کی غلط پالیسی سے آٹے کی قلت، 7 لاکھ 50 ہزار ٹن درآمد سے قومی خزانے پر بوجھ بڑھے گا: مزمل اسلم

۔

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی گندم پالیسی کے نتیجے میں پہلے کسان متاثر ہوئے اور بعد ازاں خیبرپختونخوا میں آٹے کی قلت پیدا ہوئی، جبکہ اب 7 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم درآمد کرنے سے قومی خزانے پر مزید مالی بوجھ پڑے گا۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ گندم پالیسی سے مڈل مین کو فائدہ پہنچا، جبکہ غلط پالیسیوں اور ناقص منصوبہ بندی کی قیمت بالآخر عوام کو ادا کرنا پڑے گی۔ اس صورتحال کا اثر آٹے، روٹی اور ڈبل روٹی کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔

سرکاری اداروں کے مالی نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے مزمل اسلم نے کہا کہ سرکاری اداروں کے نقصانات 1.3 ٹریلین روپے جبکہ مجموعی واجبات 10 ٹریلین روپے سے تجاوز کرچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزراء کی جانب سے این ایف سی کے مختلف عمودی حصوں پر نظرثانی کی بات کی جارہی ہے، تاہم وفاقی سطح پر مالیاتی نظم و نسق، حکمرانی اور اصلاحات سے متعلق بنیادی سوالات بدستور موجود ہیں۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کی بدانتظامی اور اصلاحات میں ناکامی کا بوجھ بالآخر ملک اور عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جبکہ کم از کم صوبے بجٹ خسارے کا شکار نہیں ہیں۔

مزمل اسلم نے کہا کہ اگر مالیاتی اور انتظامی نظام میں ری سیٹ کی ضرورت ہے تو اس کا آغاز سب سے پہلے وفاقی سطح سے ہونا چاہیے، اور مالیاتی نظم و نسق، حکمرانی اور اصلاحات میں بہتری کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔