The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 6 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

چترال، بونی، مستوج، شندور روڈ کی سست رفتاری کا وزیراعظم انسپیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا، ٹھیکیدار کو کام تیز کرنے کی ہدایت

Chitral Times

چترال، بونی، مستوج، شندور روڈ کی سست رفتاری کا وزیراعظم انسپیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا، ٹھیکیدار کو کام تیز کرنے کی ہدایت

چترال، بونی، مستوج، شندور روڈ کی سست رفتاری کا وزیراعظم انسپیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا، ٹھیکیدار کو کام تیز کرنے کی ہدایت

چترال، بونی، مستوج، شندور روڈ کی سست رفتاری کا وزیراعظم انسپیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا، ٹھیکیدار کو کام تیز کرنے کی ہدایت

.

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال، بونی، مستوج، شندور (CBMS) روڈ پر تعمیراتی کام کی سست رفتاری کا وزیراعظم انسپیکشن کمیشن نے سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے قومی شاہراہ اتھارٹی (این ایچ اے) کو منصوبے کی تکمیل میں مزید تاخیر روکنے اور ٹھیکیدار کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

مسلم لیگ (ن) لوئر چترال کے صدر اور وزیراعظم پاکستان کے کوآرڈینیٹر عبدالولی خان ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں بتایا کہ وزیراعظم انسپیکشن کمیشن کی جانب سے جاری مراسلے میں منصوبے کی سست رفتاری پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ مراسلے کے مطابق ٹھیکیدار اکثر این ایچ اے کی جانب سے پہلے کیے گئے کام کی بعض واجباتی ادائیگیوں کو بقایا قرار دیتے ہوئے کام کی رفتار میں کمی کا جواز پیش کرتا ہے، تاہم کمیشن کے مطابق یہ مؤقف بظاہر قابلِ قبول عذر نہیں ہے۔

مراسلے میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ ٹھیکیدار مختلف وجوہات کی آڑ میں منصوبے پر کام میں تاخیر کر رہا ہے تاکہ موسمِ سرما شروع ہونے کے بعد کام کی سست رفتاری کی ذمہ داری موسمی حالات پر عائد کی جا سکے۔ وزیراعظم انسپیکشن کمیشن نے اس صورتحال کو انتہائی سنجیدہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ منصوبے میں مزید تاخیر وزیراعظم آفس اور وزیراعظم پاکستان کی ہدایات کے منافی ہو سکتی ہے۔

کمیشن نے این ایچ اے کو ہدایت کی ہے کہ ٹھیکیدار کو باقاعدہ نوٹس جاری کیا جائے اور اگر وہ منصوبے کی تکمیل میں ناکام یا غیر رضامند ہو تو اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مراسلے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ٹھیکیدار نے اپنی مرضی سے بولی کے عمل میں حصہ لیا تھا اور اسے چاروں پیکیجز کے لیے بولی دینے پر مجبور نہیں کیا گیا تھا۔

مراسلے کے مطابق منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور این ایچ اے کے ممبر (نارتھ) کی جانب سے متعدد مرتبہ منصوبے کی تکمیل کی یقین دہانیاں کرائی گئیں، تاہم مقررہ اہداف اور ڈیڈ لائنز پوری نہیں ہو سکیں، جس پر وزیراعظم انسپیکشن کمیشن نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم انسپیکشن کمیشن نے این ایچ اے حکام کو ہدایت کی ہے کہ ٹھیکیدار کو طلب کرکے منصوبے کی تکمیل یقینی بنائی جائے۔ بصورتِ دیگر اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ٹھیکیدار کو بلیک لسٹ کرنے کے طریقۂ کار پر عمل درآمد کیا جائے۔

مراسلے میں اس معاملے کو وزیراعظم آفس اور مجاز اتھارٹی کی ہدایات کے مطابق انتہائی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

عبدالولی خان ایڈووکیٹ نے مزید بتایا کہ 31 اکتوبر کے بعد وزیراعظم انسپیکشن کمیشن کے چیئرمین بریگیڈیئر (ر) مظفر علی رانجھا کی سربراہی میں کمیشن کی ٹیم چترال کا دورہ کرے گی۔ دورے کے دوران چترال کے مختلف اہم سڑکوں کے منصوبوں کا موقع پر معائنہ کیا جائے گا، جن میں گرم چشمہ روڈ، شندور روڈ، بونی، بوزند، تورکھو روڈ اور کالاش ویلی روڈ سمیت دیگر اہم منصوبے شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دورے کا مقصد سڑکوں پر جاری تعمیراتی کام کی رفتار، معیار اور پیش رفت کا موقع پر جائزہ لینا اور جہاں کام میں سست روی یا دیگر مسائل موجود ہوں، انہیں متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر حل کرنا ہے۔

عبدالولی خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ CBMS روڈ سمیت چترال کے تمام اہم سڑکوں کے منصوبے عوام کی بنیادی ضرورت ہیں، اس لیے ان کی تکمیل میں مزید تاخیر سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وزیراعظم انسپیکشن کمیشن کی ہدایات کی روشنی میں منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے اور انہیں مقررہ معیار کے مطابق جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

chitraltimes pm inspection commission notice cbms road