حکمران پارٹی کو ٹاون ہال چترال میں اجلاس کی اجازت نہ ملی، اجلاس سے قبل ہال کو سیل کردیاگیا، ڈپٹی اسپیکر بھی بے بس، کارکنان کا احتجاج ، شاہی قلعہ میں اجلاس طلب
۔
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) اسلام آباد لانگ مارچ کے سلسلے میں چترال میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں اور کارکنوں کے اہم اجلاس سے قبل ہی ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کی طرف سے ٹاؤن ہال کو سیل کرکے تالا لگا دیا گیا۔ اس اجلاس میں صوبائی اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر اور اپر چترال سے نومنتخب رکنِ صوبائی اسمبلی ثریا بی بی نے بھی شرکت کرنی تھی۔
پی ٹی آئی چترال نے ٹاؤن ہال میں ورکرز کنونشن اور مشاورتی اجلاس کا شیڈول طے کر رکھا تھا، جس کے لیے کارکنان کی بڑی تعداد وہاں پہنچنا شروع ہو گئی تھی۔ تاہم سیکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال یا دیگر انتظامی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے ہال کو اچانک تالا لگا دیا اور پی ٹی آئی رہنماؤں کو وہاں اجلاس کرنے سے روک دیا۔پی ٹی آئی کے ایک مقامی رہنما نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ انتظامیہ کی جانب سے ہال کی بندش کے بعد اجلاس کا مقام فوری طور پر تبدیل کر دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اب یہ اجلاس شاہی قلعہ چترال میں منعقد کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ شاہی قلعہ، لوئر چترال سے تحریک انصاف کے رکنِ صوبائی اسمبلی (MPA) اور پارٹی کے ضلعی صدر فاتح الملک علی ناصر کی رہائش گاہ ہے، جو کہ اس وقت جیل میں قیدہیں۔
ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کی آمد اور ضلعی صدر کی عدم موجودگی کے باعث پی ٹی آئی کارکنان نے انتظامیہ کے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب متبادل مقام پر اجلاس کے انعقاد کے لیے تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں تاکہ تنظیمی امور کو حتمی شکل دی جا سکے۔
بعد آزاں 4 اکتوبر لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی ثریا بی بی کی زیرِ صدارت شاہی قلعہ لوئر چترال میں پاکستان تحریکِ انصاف کااجلاس منعقد ہوا، جس میں سینیٹر فلک ناز، ضلعی و تحصیلی عہدیداران، رہنماؤں اور کارکنان نے شرکت کی۔
اجلاس میں ایم پی اے فتح الملک علی ناصر سمیت دیگر رہنماؤں کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جبکہ 4 اکتوبر کے لانگ مارچ، کارکنان کی شرکت، تنظیمی امور اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اپر اور لوئر چترال کے کارکنان کا مشترکہ قافلہ ایک ساتھ روانہ ہوگا اور دونوں اضلاع کے کارکنان متحد ہو کر لانگ مارچ میں شرکت کریں گے۔
