The Voice of Chitral since 2004
Friday, 2 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

پاکستانی وفاق کا نظامی بحران – تحریر: قریش خٹک

Chitral Times

پاکستانی وفاق کا نظامی بحران – تحریر: قریش خٹک

پاکستانی وفاق کا نظامی بحران – تحریر: قریش خٹک

پاکستانی وفاق کا نظامی بحران – تحریر: قریش خٹک

.

پریس کانفرنسوں، پُرجوش تقاریر اور انتظامی جوڑ توڑ میں اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ تمام تر خرابیوں کی جڑ صوبائی حکومتوں کی نااہلی ہے، اور جب تک صوبوں کی نچلی سطح پر نئی انتظامی تقسیم نہیں ہوتی، ملک میں گڈ گورننس محض ایک خواب رہے گی۔ لیکن اگر وفاقی سطح کی کارکردگی کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس بھی اپنی بالا دستی کا جواز پیش کرنے کے لیے کوئی درخشندہ مثال موجود نہیں۔

حال ہی میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے فرمایا کہ وزیراعظم شہباز شریف دن میں 14 سے 16 گھنٹے کام کرتے ہیں، اور اگر ارد گرد کا انتظامی ڈھانچہ بہتر ہو جائے تو ملک کے حالات یکسر بدل سکتے ہیں۔ انتظامی علوم کی رو سے کسی سربراہِ حکومت کا انتھک محنت کرنا مستحسن سہی، مگر عوامی پالیسی کی دنیا میں بریفنگز، افتتاحوں اور سرکاری تقریبات پر صرف کیے گئے گھنٹے مؤثر حکمرانی کی ضمانت نہیں ہوتے۔ گڈ گورننس کو آئینی اداروں کی فعالیت، فیصلوں پر بروقت عمل درآمد، وفاق اور صوبوں کے باہمی تعاون، عوام کے ٹیکسوں کے شفاف استعمال اور شہریوں کی زندگی میں آنے والی مثبت تبدیلی سے ماپا جاتا ہے۔

بنیادی طور پر حکومت اور عوام کے درمیان عمرانی معاہدے کی بنیاد یہ ہے کہ شہری بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکس ادا کرتے ہیں، اور بدلے میں ریاست سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کے آئینی حقوق کا تحفظ کرے گی اور معیاری سہولیات فراہم کرے گی۔ تاہم، ان معیاروں پر اگر موجودہ وفاقی حکومت کو پرکھا جائے تو ایک شدید ادارہ جاتی بحران سامنے آتا ہے۔

وفاق کی سب سے اہم آئینی اکائی کونسل آف کامن انٹرسٹس (سی سی آئی) یا مشترکہ مفادات کونسل کی مثال لیجیے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے دو ادوار پر محیط 54 ماہ کا جائزہ لیں تو اپریل 2022 سے اکتوبر 2026 کے طویل عرصے میں کونسل کے محض تین اجلاس منعقد ہو سکے۔ 50 واں اجلاس 5 اگست 2023، 51 واں اجلاس 29 جنوری 2024 اور 52 واں اجلاس 28 اپریل 2025 کو ہوا۔

یہ ایک معمولی انتظامی غفلت نہیں، بلکہ آئین کے آرٹیکل 154 کی صریح خلاف ورزی ہے، جو واضح طور پر پابند کرتا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہر 90 دن میں کم از کم ایک بار لازماً بلایا جائے۔ سی سی آئی کوئی رسمی کمیٹی نہیں، بلکہ ریلوے، قدرتی گیس، بجلی، واپڈا، بڑی بندرگاہوں، قومی معاشی ہم آہنگی، مردم شماری اور بین الصوبائی روابط جیسے حساس امور کی پالیسی سازی اور نگرانی کے لیے آئینی ادارہ ہے۔ جب اپریل 2025 کے بعد سے اب تک یہ کونسل غیر فعال ہو، تو اس کا سیدھا مطلب وفاقی اکائیوں کے درمیان آئینی رابطے اور تعاون کے ایک اہم فورم کو معطل رکھناہے۔

اسی نوعیت کا جمود مالیاتی وفاقیت میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ آرٹیکل 160 کے تحت قائم ہونے والا نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ہر پانچ سال بعد وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کا آئینی فورم ہے۔ 7واں این ایف سی ایوارڈ 2009 میں منظور ہوا اور 2010 میں نافذ العمل ہوا۔ آج سولہ سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے، لیکن آٹھواں این ایف سی ایوارڈ تیار نہیں کیا جا سکا۔

معاملہ اس حد تک بگڑ چکا ہے کہ 30 ستمبر 2026 کو پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا کے سابق وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کی پٹیشن پر وفاقی حکومت سے 11 نومبر تک جواب طلب کر لیا ہے۔ سابق فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے، سال 2017 اور 2023 کی مردم شماریوں کے بعد سے زمینی حقائق یکسر بدل چکے ہیں، لیکن وفاقی پالیسی آج بھی ڈیڑھ دہائی پرانے مالیاتی فارمولیپر اٹکی ہوئی ہے۔

وفاقی حکومت کی بدترین انتظامی کارکردگی کی ایک خوفناک تصویرسرکاری اداروں (SOEs) کی مالیاتی کارکردگی سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ وزارتِ خزانہ کی مالی سال 2025 کی رپورٹ کے مطابق، وفاقی سرکاری اداروں نے ایک سال میں 832.8 ارب روپے کا مجموعی خسارہ کیا۔ تمام ایڈجسٹمنٹس کے بعد اس شعبے کا خالص خسارہ 122.9 ارب روپے رہا۔ ان خسارے میں چلنے والے اداروں کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے وفاق نے 2,078.5 ارب روپے کا مالیاتی سہارادیا، جو وفاق کے کل ٹیکس ریونیو کا تقریباً 16 فیصد بنتا ہے۔ عوام کے ٹیکسوں کا یہ پیسہ صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر پر خرچ ہونے کے بجائے بڑی حد تک ان خسارہ زدہ اداروں کی مالی معاونت میں صرف ہو رہا ہے۔

ان تمام بحرانوں کے ساتھ ساتھ ایگزیکٹو کا پارلیمنٹ سے بڑھتا ہوا فاصلہ بھی تشویشناک ہے۔ وزیراعظم کی قومی اسمبلی میں حاضری محدودرہی ہے، جبکہ سینیٹ میں ان کی موجودگی نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ حالانکہ ایگزیکٹو کی پارلیمنٹ میں فعال موجودگی جمہوری احتساب اور مؤثر قانون سازی کے لیے اہم ذریعہ ہوتی ہے۔

وفاقی حکمرانی کے اس سنگین بحران کو وزیراعظم کی ذاتی سخت محنت یا کابینہ میں رد و بدل سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ اصل بیماری وہ سوچ ہے جو نمائش کو کارکردگی، اعلانات کو عمل درآمد، میٹنگوں کو فیصلوں اور فیصلوں کو نتائج کا متبادل سمجھ بیٹھتی ہے۔

ایک فعال اور باصلاحیت ریاستی نظام میں سربراہِ حکومت کو مائیکرو مینجمنٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہاں ادارے اپنے طے شدہ آئینی دائرہ کار، پیشہ ورانہ انتظامیہ اور سخت احتسابی معیار کے تحت کام کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر آئینی اداروں کو متحرک کرے، سی سی آئی کے باقاعدہ اجلاس منعقد کرنیکو یقینی بنائے اور نیا این ایف سی ایوارڈ جلد از جلد طے کرے۔

پاکستانی آئین میں وفاق کو چلانے کے لیے کونسلز، مالیاتی کمیشن، پارلیمنٹ، آڈیٹر جنرل اور اعلیٰ عدلیہ کی صورت میں تمام بنیادی وفاقی اداریپہلے سے موجود ہیں۔ ضرورت نئی بیوروکریسی یا اضافی تجربات کی نہیں، بلکہ موجودہ آئینی اداروں کو آزادانہ اور باقاعدگی سے کام کرنے دینے کی سیاسی نیت کی ہے۔ گڈ گورننس اقتدار کے ایوانوں میں حاکم وقت کی دوڑ دھوپ سے ثابت نہیں ہوتی، بلکہ اداروں کے فعال ہونے اور شہریوں کے ٹیکس کے ایک ایک روپے کے درست استعمال سے نظر آتی ہے۔ اعلیٰ قومی قیادت کو چاہیے کہ اس سے پہلے کہ ان کی نمائشی تحرک کا شور شرابہ اداروں کی مزید تباہی پر جا کر ختم ہو، حالات کا ادراک کرے اور آئینی روح کے مطابق فیصلے کرے۔