تنظیمِ اساتذہ پاکستان چترال کی دو روزہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر، یکساں نظامِ تعلیم اور اساتذہ کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ
.
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) تنظیمِ اساتذہ پاکستان چترال لوئر و اپر کے زیرِ اہتمام دو روزہ تعلیمی کانفرنس علمی، فکری، تربیتی اور تنظیمی سرگرمیوں کے بعد اختتام پذیر ہوگئی۔ کانفرنس میں علماء کرام، اساتذہ، ماہرینِ تعلیم اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
کانفرنس میں تعلیم و تربیت، اساتذہ کے مسائل، جدید ٹیکنالوجی، اخلاقی و معاشرتی اقدار، تنظیمی امور اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ و فکری تربیت کے مختلف پہلوؤں پر مقررین نے اظہارِ خیال کیا۔
کانفرنس کا آغاز درسِ قرآن سے ہوا، جس میں مولانا جمشید احمد نے اساتذہ کی ذمہ داریوں اور معاشرے کی اصلاح میں تعلیم و تربیت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ صدر تنظیمِ اساتذہ پاکستان چترال اپر نور الہادی ناجی نے تنظیم کی طویل جدوجہد اور اساتذہ کی خدمات، جبکہ عبدالرؤف نے ’’تدبر و تفکرِ کائنات‘‘ اور صدر تنظیمِ اساتذہ پاکستان چترال لوئر سفیراللہ نے ’’انفرادی احتساب‘‘ کے موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔
دوسرے روز مولانا محمد عثمان نے درسِ حدیث دیا۔ نائب صدر تنظیمِ اساتذہ پاکستان خیبرپختونخوا بختیار زمین نے تنظیم کے اغراض و مقاصد اور اساتذہ کی فکری و تربیتی رہنمائی پر گفتگو کی۔ ڈاکٹر نظام الدین نے **’’جنریٹیو اے آئی اور طریقۂ تدریس‘‘** کے موضوع پر تدریسی عمل میں مصنوعی ذہانت کے مؤثر اور ذمہ دارانہ استعمال پر روشنی ڈالی۔
پرنسپل عبدالحمید ناصری نے نظم و ضبط اور تنظیمی دستور کی پاسداری، صاحبزادہ صادق جان نے موجودہ دور میں معلم کے کردار، جبکہ ریٹائرڈ پروفیسر اسرار الدین نے تنظیم کے ساتھ وابستہ اپنی یادیں اور تجربات بیان کیے۔ صدر پرائیویٹ سکول نیٹ ورک وجیہ الدین اور سید محمد شاہ بادشاہ نے بھی خطاب کیا۔
کانفرنس میں اے ٹی اے چترال لوئر کے صدر نثار احمد و کابینہ اور اگیگا چترال کے صدر و کابینہ نے شرکت کی۔ بیرونِ چترال سے آئے مہمانوں کو روایتی چترالی ٹوپیاں پہنا کر خوش آمدید کہا گیا، جسے اساتذہ برادری کے اتحاد اور یکجہتی کی علامت قرار دیا گیا۔
کانفرنس کے اختتام پر چار اہم قراردادیں منظور کی گئیں، جن میں ملک میں یکساں نظامِ تعلیم رائج کرنے، اردو کو تمام سرکاری و تعلیمی اداروں میں قومی زبان کی حیثیت سے نافذ کرنے اور علاقائی زبانوں کو تعلیمی نظام کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔
قراردادوں میں نصابِ تعلیم کو نظریۂ اسلام اور نظریۂ پاکستان سے ہم آہنگ بنانے اور ملازمین، بالخصوص اساتذہ کی پنشن و دیگر جائز حقوق میں کمی یا خاتمے کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت سے حقوق کے تحفظ اور کی گئی کمی واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے اساتذہ کی فکری و پیشہ ورانہ تربیت، تعلیمی معیار کی بہتری اور اساتذہ کے جائز حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

