وفاقی ٹیکسوں کے خلاف آل پارٹیز اجلاس، 30 ستمبر کو چترال میں احتجاج اور 7 اکتوبر کو سوات موٹروے پر دھرنے کا فیصلہ
.
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) تجار یونین چترال بازار کے صدر چارویلو نور احمد خان کی صدارت میں الحسین پلازہ، اتالیق بازار چترال میں وفاقی حکومت کی جانب سے ملاکنڈ ڈویژن پر عائد کیے جانے والے ٹیکسوں کے خلاف اہم آل پارٹیز اجلاس منعقد ہوا، جس میں تجار یونین چترال بازار کے صدر و کابینہ، ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین، بازار کے مشیران اور مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین و نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس میں وفاقی حکومت کی جانب سے ملاکنڈ ڈویژن پر عائد کیے جانے والے ٹیکسوں کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔ شرکاء نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام اور تاجر برادری پہلے ہی مختلف معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے وفاقی ٹیکسوں کے نفاذ کے معاملے پر تمام سیاسی و سماجی حلقوں، تاجر برادری، وکلاء اور سول سوسائٹی کو مشترکہ طور پر اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے۔
اجلاس میں ملاکنڈ ڈویژن کے صدر عبد الرحیم کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے عائد کردہ ٹیکسوں کے خلاف 30 ستمبر کو چترال بازار میں بھرپور اور پرامن احتجاجی جلسہ منعقد کیا جائے گا۔
اس احتجاج میں تمام سیاسی جماعتوں، تاجر برادری، وکلاء، سول سوسائٹی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔
اجلاس میں مزید فیصلہ کیا گیا کہ 7 اکتوبر کو سوات موٹروے پر وفاقی ٹیکسوں کے خلاف ہونے والے دھرنے میں چترال سے ایک بھرپور قافلہ شرکت کرے گا۔ اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں، تجار یونین اور دیگر متعلقہ حلقوں کے درمیان باہمی رابطے اور مشاورت کے ذریعے قافلے کی شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔
شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وفاقی ٹیکسوں کے حوالے سے اپنے تحفظات اور مطالبات کو پرامن، منظم اور جمہوری انداز میں حکومت اور متعلقہ حکام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اجلاس میں تمام سیاسی و سماجی حلقوں سے اپیل کی گئی کہ وہ باہمی اختلافات سے بالاتر ہوکر علاقے کے اجتماعی معاشی مفادات کے لیے مشترکہ طور پر آواز اٹھائیں۔
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ 30 ستمبر کے چترال بازار احتجاجی جلسے اور 7 اکتوبر کے سوات موٹروے دھرنے میں بھرپور شرکت کی جائے گی اور وفاقی ٹیکسوں کے معاملے پر ملاکنڈ ڈویژن کے عوام اور تاجر برادری کا مؤقف پرامن اور جمہوری طریقے سے پیش کیا جائے گا۔
