ہم کیسے مسلمان ہیں ؟ – تحریر: اقبال حیات اف برغذی
.
قران پاک مسلمان کو مسلمان کے بھائی کی حیثیت سےنوازا ہے۔اس رشتے کی بنیاد پر ایک دوسرے کےلئےپیار، محبت،ہمدردی، اور غمخواری کے جذبات کا مظاہر ہ کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ باہمی نفرت،عداوت، بد خواہی ،حسد ،کینہ ،بدگوئی اور الزام تراشی جیسے خباثت کے حامل کردار سے اجتناب کو اس رشتے کی رسی کی مضبوطی کے ضامن کی حیثیت حاصل ہوتی ہے ۔اس رشتے کے تقدس کو مشرق میں مقیم مسلمان کے پاوں میں کانٹا چبھنے کے درد کو مغرب میں قیام پذیر مسلمان کو اپنے دل میں محسوس کرنے کے جذبے سےسنوارا گیا ہے۔
چودہ سو سال قبل محسن انسانیت نے اس بندھن کو مضبوطی سے تھامنے کی تاکید کرتے ہوئے اسے امت کی کامیابی اور بالادستی کا ضامن قرار دیئے ہیں اس مذہبی یگانگت کی ضرورت کو ہر وقت اور زمانے کے مصلحین نے اپنے اپنے عہد کے لوگوں کے سامنے واضح کرکے آئے ہیں۔یہ تصویر اپنے اندر وہ افادیت رکھتا ہے جو استفادے کےلئے زمان ومکان کے قیود سےمبرا ہے۔اور جس کی ضرورت ہر دور اور زمانے میں برابر محسوس کی جاتی ہے۔بدقسمتی سے آج ہماری معاشرتی زندگی اپنی اوصاف حمیدہ کی مہک سے عاری اغیار کی طرز زندگی کی بدبوئی سے متغض ہے۔بھائی چارے کا قرآنی تصور سیاسی وابستگی اورہم آہنگی سے مربوط ہوا ہے ۔ ایک دوسرے کی فلاح کےلئے اسلام کی طرف سے مجوزہ جذبات کو پس پشت ڈال کر سیاسی بھائی چارے کو پروان چڑھایا گیا ہے۔ ایک دوسرے کی غم خوشی میں شرکت کا محورسیاسی رشتے کو بنایا گیا ہے۔ سیاسی مخالف کی موت پر جشن منایا جاتا ہے۔ اور سیاسی مخالفت کو بدتریں دشمنی کا رنگ دے کر ایک دوسرے کا خون چوسنے کو ترسا جاتا ہے۔ اقتدار کے پجاریوں کی طرف سے زبان کی بنیاد پر نئے صوبوں کے قیام کے تقاضے کرکے منافرت کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔
اسلامی بھائی چارے کے تصور کی بنیاد پر آج یہ احساسات وطن سے محبت رکھنے والے ہر پاکستانی کے دل میں موجزن ہیں ۔آج ہم یکجہتی اور ایثارجیسے اسلامی اوصاف حمیدہ کو ایسے ترستے ہیں جس طرح پیاسا پانی اور بھوکا خوراک کےلئےبے چین ہوتا ہے۔معاشرےسے محبت ،خلوص بھائی چارے اور یگانگت ناپید ہوگئے ہیں اور لسانی عصیبت ،علاقائیت ،قوم پرستی اورمادہ پرستی کے جنون نے اخوت ،مروت اور بھائی چارے کے پیرہن کو تار تار کرکے رکھ دیا ہے۔اور قومی بقا کے افق پر تباہی کے سیاہ بادل منڈلاتے نظر آتے ہیں۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جس قوم کے افراد کے اندر اتحاد،اتفاق اورباہمی محبت کا فقدان ہو وہ قوم مادی قوت اور فوجی لحاظ سے جتنا بھی مضبوط اور مسلح کیوں نہ ہو۔ کسی بھی وقت باہمی رشتوں کے تار ٹوٹتے ہی تسبیح کے دانوں کی طرح بکھیر سکتا ہے۔ اور خصوصا مسلمان قوم کی حیثیت سے محسن انسانیت کی طرف سے بھائی چارے اور مروت کا جو نسخہ کیمیا قومی احیا کےلئے ہمیں عطا کیا گیا ہے اسے نظر انداز کرنے کے منفی اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ رب العزت ہمیں احساس کی توفیق سے نوازے ۔ آمین