The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 24 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

چترال کے نوجوان اور ایک خاموش سوال – از: کشف منیر

Chitral Times

چترال کے نوجوان اور ایک خاموش سوال – از: کشف منیر

چترال کے نوجوان اور ایک خاموش سوال – از: کشف منیر

چترال کے نوجوان اور ایک خاموش سوال – از: کشف منیر

.

خاموشی کو توڑنے کا وقت آ گیا ہے

.

چترال کو ہم پہاڑوں، دریاؤں، ثقافت اور مضبوط خاندانی رشتوں کی سرزمین کہتے ہیں۔ یہاں کے لوگ اپنی سادگی، مہمان نوازی اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ لیکن آج ہمارے معاشرے کے سامنے ایک ایسا سوال کھڑا ہے جس سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں۔

حالیہ عرصے میں چترال میں خودکشی کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔ ہر واقعے کے حالات مختلف ہوتے ہیں اور کسی ایک وجہ کو ان سب کا سبب قرار دینا درست نہیں۔ لیکن یہ واقعات ہمیں ضرور سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہمارے درمیان کتنے لوگ ایسے ہیں جو اپنی پریشانی کسی سے کہہ نہیں پاتے۔شاید مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لوگ پریشان ہیں؛ شاید مسئلہ یہ بھی ہے کہ انہیں اپنی پریشانی بیان کرنے کی جگہ نہیں ملتی۔

جب بچہ کہتا ہے، میں ٹھیک ہوں

ہمارے گھروں میں اکثر بچے اور نوجوان اپنی مشکلات چھپا لیتے ہیں۔ کبھی انہیں ڈر ہوتا ہے کہ والدین ناراض ہوں گے، کبھی انہیں لگتا ہے کہ ان کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا، اور کبھی معاشرے کا “لوگ کیا کہیں گے” والا خوف انہیں خاموش کر دیتا ہے۔

ہم اکثر پوچھتے ہیں: پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟ نمبر کتنے آئے؟ آگے کیا کرنا ہے؟

لیکن شاید ہمیں کبھی کبھی یہ بھی پوچھنا چاہیے:

“تم اندر سے کیسے ہو؟”

کیونکہ ہر مسکراہٹ کے پیچھے سکون نہیں ہوتا، اور ہر “میں ٹھیک ہوں” کا مطلب واقعی ٹھیک ہونا نہیں ہوتا۔

والدین صرف محافظ نہیں، سننے والے بھی ہوں

والدین کی ذمہ داری صرف بچوں کو تعلیم دینا اور ان کا مستقبل بنانا نہیں۔ ان کی ایک اہم ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے ایک محفوظ جگہ بنیں۔ایسی جگہ جہاں بچہ اپنی ناکامی بتا سکے، اپنی غلطی تسلیم کر سکے، اپنے خوف کے بارے میں بات کر سکے اور بغیر ڈر کے کہہ سکے:

“مجھے مدد چاہیے۔”

ہر مسئلے کا حل والدین کے پاس فوراً موجود ہو، یہ ضروری نہیں۔ لیکن بچے کو یہ یقین ضرور ہونا چاہیے کہ مسئلہ کچھ بھی ہو، گھر کا دروازہ اس کے لیے بند نہیں ہوگا۔

نوجوانوں کے نام

زندگی ہمیشہ ہماری مرضی کے مطابق نہیں چلتی۔ کبھی پڑھائی کا دباؤ ہوتا ہے، کبھی رشتوں کی الجھن، کبھی گھر کے مسائل اور کبھی مستقبل کا خوف۔

لیکن ایک مشکل وقت کو اپنی پوری زندگی کا فیصلہ نہ بننے دیں۔

اگر آپ پریشان ہیں تو خاموش نہ رہیں۔ کسی دوست، بہن بھائی، والدین، استاد یا ذہنی صحت کے ماہر سے بات کریں۔ اگر پہلا شخص آپ کو نہیں سمجھتا تو دوسرے شخص تک جائیں۔

مدد مانگنا کمزوری نہیں، اپنی زندگی کو اہم سمجھنے کی علامت ہے۔

آخر میں

ہمیں چترال میں ذہنی صحت کے بارے میں کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں counselling کی سہولیات، والدین اور اساتذہ کے لیے awareness، اور نوجوانوں کے لیے محفوظ گفتگو کی جگہیں ضروری ہیں۔

کسی واقعے کے بعد صرف افسوس کرنا کافی نہیں۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا:

کیا ہم نے اپنے لوگوں کو اتنی جگہ دی کہ وہ اپنی تکلیف بیان کر سکیں؟

شاید ہم ہر مشکل ختم نہ کر سکیں، لیکن ہم کسی انسان کو یہ احساس ضرور دے سکتے ہیں کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔

کچھ لوگ ہنستے ہیں، مگر اندر سے خاموش ہوتے ہیں،

کچھ درد لفظوں میں نہیں، صرف آنکھوں میں ہوتے ہیں۔

تو سن لینا کسی کو، اگر وہ چپ سا نظر آئے،

ممکن ہے ایک نرم لہجہ اسے خود سے پھر ملائے۔

ہر رات کے بعد کہیں صبح بھی تو آتی ہے،

بس کبھی انسان کو، انسان کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔