صوبائی کابینہ کا اجلاس، پولیس ایکٹ 2026 منظور، چترال میں اسپورٹس کمپلیکسز کی اراضی کیلئے فنڈز اور ضمنی گرانٹ منظور
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ تین چار دنوں سے سادہ کپڑوں میں ملبوس غنڈا گرد ہمارے کارکنوں، تنظیمی عہدیداروں اور منتخب نمائندوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مواصلات و تعمیرات کے وزیر شکیل خان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم حملہ آور اپنے مقصد میں ناکام رہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ روز وزیر آبپاشی ریاض خان کے گھر پر بھی سادہ کپڑوں میں ملبوس غنڈا گرد پہنچے۔ ڈی آئی خان اور دیگر اضلاع میں بھی ہمارے کارکنوں اور منتخب نمائندوں کے ساتھ یہی سلوک کیا جا رہا ہے۔ مردان میں ایم این اے فضل خان کو اغوا کیا گیا جبکہ صوبائی وزیر فخر جہان کے گھر پر بھی نامعلوم افراد نے دھاوا بولا۔ انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی کابینہ کے وزراء بھی ان غنڈا گردوں سے محفوظ نہیں تو باقی پاکستان کا کیا حال ہوگا۔ یہ لوگ عوامی طاقت سے ڈرے ہوئے ہیں، کوئی عقل رکھنے والا شخص اس طرح کے اقدامات نہیں کرتا۔ خیبرپختونخوا کے صوبائی کابینہ ارکان کے ساتھ ایسا سلوک ناقابل قبول ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ کچھ دن پہلے رانا ثناء اللہ کی طرف سے خیبرپختونخوا کے عوام کو دہشت گرد قرار دینے کے بیانات سامنے آئے۔ مریم صفدر کا یہ کہنا کہ انہیں بھارت سے خطرہ نہیں بلکہ پاکستان کے باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے، انتہائی تشویشناک بیان ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج خیبرپختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹ دیا جائے گا اور صوبے کے لیے تمام راستے بند کر دیے جائیں گے۔ باقی پاکستان کھلا ہوگا لیکن صرف خیبرپختونخوا سے نہ کوئی جا پائے گا اور نہ آ پائے گا۔ سوال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹنے اور تمام راستے بند کرنے کا کیا مطلب لیا جائے؟ کیا کوئی سازش ہو رہی ہے؟ کیا مشرقی پاکستان جیسا سانحہ ریپیٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو بھی سازش ہو رہی ہے اور اس کے پیچھے جو بھی لوگ ہیں،
انہیں واضح پیغام ہے کہ پاکستان ہمارا ہے۔ جو بھی پاکستان کو تقسیم کرنے یا خیبرپختونخوا کو پاکستان سے جدا کرنے کی سازش کرے گا، اسے ہمارا واضح پیغام ہے کہ ہم پاکستانی تھے، ہم پاکستانی ہیں اور ان شاء اللہ پاکستانی رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس غنڈا گرد بیوروکریسی، پولیس، ڈی سیز اور ڈی پی اوز کو ڈرا اور دھمکا رہے ہیں۔ بیوروکریسی، پولیس، ڈی سیز اور ڈی پی اوز کو میرا پیغام ہے کہ آپ نے ڈرنا نہیں ہے۔ اگر صوبائی حکومت آپ سے کوئی غلط کام نہیں کروا رہی تو کسی ادارے یا محکمے کے غلط احکامات نہ مانیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ کسی کے باپ کا پاکستان نہیں، یہ ہم سب کا پاکستان ہے۔
احتجاج کرنا ہر شخص کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ کہیں بھی ہماری شنوائی نہیں ہو رہی اور ہمیں نہیں سنا جا رہا۔ ایسی صورت میں آئین ہمیں پرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے اور ہم یہ احتجاج ہر صورت کریں گے۔ جب تک آئین میں پرامن احتجاج کا حق موجود ہے، ہم پرامن احتجاج کرتے رہیں گے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا اور پورے پاکستان کے عوام کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ گھبرانا نہیں، ڈرنا نہیں۔ جو جتنا بڑا ظالم ہوتا ہے وہ اتنا ہی بڑا ڈرپوک ہوتا ہے۔ اپنے حق اور حقیقی آزادی کے لیے کھڑا ہونا ہے اور پرامن جدوجہد جاری رکھنی ہے اور بہت جلد ظلم کا دور ختم ہوگا۔
صوبائی وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ، سائنس، ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے کابینہ کے اہم فیصلوں سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کابینہ نے پولیس کو عوام کے سامنے مزید جوابدہ، مؤثر اور پیشہ ورانہ بنانے کے لیے خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کی منظوری دے دی ہے اور یہ مجوزہ قانون پولیس کے نظام میں اہم اصلاحات متعارف کرانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔شفیع جان نے کہا کہ نئے قانون کے تحت پولیس کو عوام کے سامنے مزید جوابدہ بنانے کے ساتھ ساتھ تفتیشی نظام کو مضبوط، افسران کی پیشہ ورانہ ترقی کو بہتر اور پولیس کے پالیسی اور عملی امور کو الگ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی سے منظوری کے بعد نئے قانون کے تحت صوبے میں ریجنل انویسٹی گیشن افسران تعینات کیے جائیں گے، جس سے تفتیشی نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد پولیس کی تفتیشی صلاحیت اور پیشہ ورانہ استعداد میں اضافہ کرنا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ مجوزہ قانون کے تحت پولیس افسران کی تعیناتی اور تبادلوں کے نظام میں بھی مزید جوابدہی لائی جائے گی، خصوصاً ریجنل پولیس افسران اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کی تعیناتی اور تبادلوں کو خیبر پختونخوا رولز آف بزنس 1985 کے تحت منظم کیا جائے گا۔شفیع جان نے کہا کہ پولیس افسران کی ترقی میں طویل عرصے سے موجود رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ترقی، فاسٹ ٹریک پروموشن اور براہ راست بھرتی کے کوٹے کو ازسرنو متوازن کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے پولیس فورس میں افسران کی ترقی کے مواقع بڑھیں گے اور کیریئر میں پیش رفت کا ایک بہتر نظام قائم ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ نئے قانون کے تحت پولیس کے پالیسی اور آپریشنل امور کو الگ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے پولیس پالیسی بورڈ قائم کیا جائے گا جس کی سربراہی وزیراعلیٰ کریں گے، جبکہ پولیس آپریشنز بورڈ کی سربراہی صوبائی پولیس افسر (آئی جی) کریں گے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ مجوزہ قانون میں صوبائی پولیس افسر کے لیے کارکردگی کی بنیاد پر جوابدہی کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ غیر تسلی بخش کارکردگی کی صورت میں صوبائی حکومت کو صوبائی پولیس افسر کی خدمات واپس کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی پولیس افسر سالانہ پولیسنگ پلان تیار کرکے منظوری کے لیے پولیس پالیسی بورڈ کے سامنے پیش کرنے کا پابند ہوگا۔
اس پلان میں پولیس کی ترجیحات، کارکردگی اور آئندہ کے اقدامات شامل ہوں گے۔شفیع جان نے کہا کہ نئے قانون میں صوبے بھر میں ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسلز کے لئے کا واضح طریقہ کار بھی شامل کیا گیا ہے، کیونکہ اس حوالے سے موجودہ قانونی نظام میں واضح طریقہ کار موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت، جوابدہی اور یکساں نظام کو یقینی بنانے کے لیے تمام موجودہ ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسلز تحلیل کرکے نئے قانون کے تحت ازسرنو تشکیل دی جائیں گی۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ کابینہ نے خیبر پختونخوا اسٹیمپ (ترمیمی) بل 2026 کی بھی منظوری دی۔ اس کے علاوہ پشاور واٹر سپلائی اسکیم کے تحت ان ٹیک اسٹرکچر اور ٹنل (ڈے لائٹ تک) کی نظرثانی شدہ لاگت کی منظوری بھی دی گئی۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے ضلع چترال میں اسپورٹس کمپلیکسز کی تعمیر کے لیے اے ڈی پی اسکیم کے تحت اراضی کے حصول کی مد میں بقیہ مختص رقم جاری کرنے اور ضمنی گرانٹ کی منظوری بھی دی۔کابینہ اجلاس میں صوبائی کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، انتظامی سیکرٹریز اور انسپکٹر جنرل خیبر پختونخوا پولیس نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کی۔
