The Voice of Chitral since 2004
Friday, 18 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

مستوج میں پہلی مرتبہ گرلز ڈگری کالج کا قیام، مگر طالبات کا احتجاج بدستور جاری

Chitral Times

مستوج میں پہلی مرتبہ گرلز ڈگری کالج کا قیام، مگر طالبات کا احتجاج بدستور جاری

مستوج میں پہلی مرتبہ گرلز ڈگری کالج کا قیام، مگر طالبات کا احتجاج بدستور جاری

مستوج میں پہلی مرتبہ گرلز ڈگری کالج کا قیام، مگر طالبات کا احتجاج بدستور جاری

۔

مستوج (نمائندہ چترال ٹائمز) اپر چترال کے علاقے مستوج میں تعلیمی مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والی طالبات نے اسسٹنٹ کمشنر مستوج کے دفتر تک مارچ کیا اور اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اس موقع پر طالبات کے نمائندوں اور اسسٹنٹ کمشنر مستوج کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے، تاہم مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، جس کے بعد طالبات نے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

احتجاجی طالبات کے مطابق انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات میں ان کے مطالبے پر کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہوسکی، جس کے باعث طالبات نے معاملے کو عدالت میں چیلنج کرنے اور احتجاج کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

طالبات کا بنیادی مطالبہ ہے کہ انہیں گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول مستوج میں ہی اپنی تعلیم جاری رکھنے کا موقع دیا جائے اور ان کی مرضی کے بغیر انہیں کسی دوسرے تعلیمی ادارے میں منتقل نہ کیا جائے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں مستوج میں پہلی مرتبہ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کا قیام عمل میں لایا گیا،جوکہ علاقے کے لئے انتہائی خوش آئند بات ہے،  جس کا باقاعدہ افتتاح علاقے کی ایم پی اے اور خیبرپختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے کیا تھا۔ افتتاحی تقریب میں ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔

ذرائع کے مطابق گرلز ڈگری کالج کے افتتاح کے بعد گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول مستوج میں زیرِ تعلیم فرسٹ ایئر کی طالبات کو ان کی مرضی کے بغیر ہائر سیکنڈری سکول سے نکال کر نئے قائم کیے گئے گرلز ڈگری کالج میں داخل کرایا گیا، جس پر طالبات اور ان کے والدین کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

احتجاجی طالبات کا مؤقف ہے کہ نئے کالج کے لیے کرائے پر حاصل کی گئی عمارت انتہائی ناموزوں مقام پر واقع ہے، جبکہ علاقے کے مختلف دور دراز دیہات سے آنے والی طالبات کے لیے آمدورفت کی مناسب سہولت بھی موجود نہیں۔

طالبات کے مطابق چوئنچ، پرکوسپ، چپاڑی اور ملحقہ علاقوں سے آنے والی طالبات کو روزانہ کئی گھنٹوں کا سفر طے کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث ان کے لیے موجودہ حالات میں مذکورہ کالج میں باقاعدگی سے تعلیم حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کی مناسب سہولت فراہم کیے بغیر انہیں ہائر سیکنڈری سکول سے نکال کر نئے کالج میں منتقل کرنا ان کی تعلیم کو متاثر کرسکتا ہے۔

احتجاجی طالبات کا کہنا ہے کہ وہ گرلز ڈگری کالج کے قیام کے خلاف نہیں بلکہ اپنے تعلیمی مسائل اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے مطالبہ کر رہی ہیں کہ انہیں کم از کم اپنی موجودہ تعلیم مکمل کرنے تک گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول مستوج میں ہی پڑھنے کی اجازت دی جائے۔

طالبات کے مطابق انہوں نے اپنے مطالبے کے حوالے سے متعلقہ حکام سے بات چیت کی کوشش کی، تاہم ان کے تحفظات کو دور نہیں کیا گیا، جس کے باعث وہ گزشتہ کئی دنوں سے احتجاج پر ہیں۔ آج طالبات نے اسسٹنٹ کمشنر مستوج کے دفتر تک مارچ کیا اور اپنے مطالبات پیش کیے، تاہم انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد احتجاج بدستور جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

طالبات کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگر ان کے مطالبے پر غور نہیں کیا گیا تو معاملے کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا اور قانونی راستہ اختیار کرنے کے ساتھ احتجاج بھی جاری رکھا جائے گا۔

طالبات نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ان کے تعلیمی مستقبل کو مدنظر رکھا جائے اور انہیں ہائر سیکنڈری سکول مستوج میں اپنی تعلیم جاری رکھنے کا موقع فراہم کیا جائے۔

chitraltimes ghss students protest 2