The Voice of Chitral since 2004
Friday, 18 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ہفتے میں تین چھٹیاں علم دشمنی کے مترادف ہیں، چترال کے دور دراز سکولوں کو مستثنیٰ کیا جائے: قاضی محمد انعام الحق

Chitral Times

ہفتے میں تین چھٹیاں علم دشمنی کے مترادف ہیں، چترال کے دور دراز سکولوں کو مستثنیٰ کیا جائے: قاضی محمد انعام الحق

ہفتے میں تین چھٹیاں علم دشمنی کے مترادف ہیں، چترال کے دور دراز سکولوں کو مستثنیٰ کیا جائے: قاضی محمد انعام الحق

ہفتے میں تین چھٹیاں علم دشمنی کے مترادف ہیں، چترال کے دور دراز سکولوں کو مستثنیٰ کیا جائے: قاضی محمد انعام الحق

تعلیم پر شب خون مارنے کی بجائے ایم این ایز، وزراء، سینیٹرز اور بیوروکریٹس کے غیر ضروری اخراجات محدود کیے جائیں

۔

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال کے مختلف مکاتبِ فکر نے حکومت کی جانب سے ایندھن کی بچت کے نام پر تعلیمی اداروں میں ہفتے کے دوران تین دن چھٹی کی مجوزہ پالیسی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے اور حکومت سے فوری نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چترال جیسے پہاڑی اور دشوار گزار خطے میں جہاں پہلے ہی شدید برف باری اور سیلاب کے باعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی رہتی ہیں، مزید ہفتہ وار تعطیلات سے طلبہ کا قیمتی تدریسی وقت ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ امیر جمعیت علماء اسلام تحصیل دروش، ضلع لوئر چترال اور سابق ناظم عشریت مولانا قاضی محمد انعام الحق نے بھی اس مجوزہ فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ چترال کے مخصوص جغرافیائی، موسمی اور تعلیمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بالخصوص دور دراز علاقوں کے سکولوں کو اس فیصلے سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔

اپنے ایک اخباری بیان میں انہوں نے کہا کہ پہلے زمانے میں لوگ ایندھن خرچ کرکے علم حاصل کرتے تھے، جبکہ آج علم کا قیمتی وقت ضائع کرکے ایندھن بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول تعلیم پر شب خون مارنے کے بجائے قومی وسائل میں بچت کے لیے ایم این ایز، ایم پی ایز، وزراء، سینیٹرز اور بیوروکریٹس کے غیر ضروری اخراجات اور مراعات کا جائزہ لیا جائے۔

مولانا قاضی محمد انعام الحق نے کہا کہ چترال میں پہلے ہی سردیوں میں برف باری اور گرمیوں میں سیلاب کے باعث مختلف علاقوں میں سکول کئی کئی دن بند رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں طلبہ کا تعلیمی دورانیہ متاثر ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں ہفتے میں مزید تین چھٹیاں کرنے سے طلبہ کا نصاب مکمل کرنا اور تعلیمی سال پورا کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ چترال کے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں کے زمینی حقائق دیگر اضلاع سے مختلف ہیں۔ ان کے مطابق جہاں بعض علاقوں میں طلبہ بسوں اور دیگر ذرائع آمدورفت کے ذریعے سکول پہنچتے ہیں، وہیں چترال کے دور دراز علاقوں میں بہت سے طلبہ کئی گھنٹوں کا پیدل سفر کرکے تعلیمی اداروں تک پہنچتے ہیں۔ اس لیے ایک ہی پالیسی پورے صوبے پر یکساں طور پر نافذ کرنے سے قبل مقامی حالات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت قومی وسائل کے تحفظ اور ایندھن کی بچت کے لیے سنجیدہ ہے تو غیر ضروری سرکاری اخراجات، مراعات اور پروٹوکول میں کمی لانے سمیت دیگر شعبوں میں کفایت شعاری کے اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف سرکاری افسران اور حکام کی مراعات اور اخراجات میں اضافہ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف ایندھن کی بچت کے نام پر تعلیمی اداروں کے تدریسی دن کم کیے جا رہے ہیں، جو قابلِ غور پالیسی ہے۔

مولانا قاضی محمد انعام الحق نے کہا کہ پشاور اور اسلام آباد میں بیٹھ کر پالیسی بنانے والوں کو چترال کے دور دراز علاقوں کے زمینی، موسمی اور جغرافیائی حالات کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق چترال میں گرمیوں کے دوران سیلاب اور سردیوں میں شدید برف باری کے باعث پہلے ہی تعلیمی سرگرمیوں میں تعطل پیدا ہوتا رہتا ہے، جبکہ مزید تعطیلات طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو متاثر کرسکتی ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ پالیسی پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے چترال کے دور دراز دیہات میں واقع تعلیمی اداروں کو ہفتے میں تین چھٹیوں کے فیصلے سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور یہاں ہفتے میں صرف ایک دن کی چھٹی کا سابقہ معمول برقرار رکھا جائے، تاکہ طلبہ کا تدریسی وقت اور تعلیمی سال متاثر نہ ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ سکولوں اور کالجوں میں تعلیمی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھنا ضروری ہے، تاکہ طلبہ غیر ضروری طور پر گھروں میں فارغ نہ رہیں اور اپنی پڑھائی پر توجہ مرکوز رکھ سکیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ قومی وسائل میں کفایت شعاری اور تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کے درمیان مناسب توازن پیدا کیا جائے۔