اپر چترال کے لیے بڑا ترقیاتی پیکیج منظور، اہم منصوبوں کے ٹینڈرز جاری، مستوج بروغل روڈ بھی شامل
۔
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) اپر چترال کے لیے بڑے ترقیاتی پیکیج کے تحت مختلف سڑکوں اور پلوں کے منصوبوں پر عملی پیش رفت شروع ہوگئی ہے، محکمہ مواصلات و تعمیرات خیبرپختونخوا نے متعدد منصوبوں کے لیے باقاعدہ ٹینڈرز طلب کر لیے ہیں۔
فوکل پرسن برائے ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی افگن رضا کے مطابق یہ منصوبے “محسنِ چترال” پیکیج کا حصہ ہیں، جس کے تحت اپر چترال میں سڑکوں، پلوں اور رابطہ کاری کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
محکمہ مواصلات و تعمیرات، سی اینڈ ڈبلیو ڈویژن اپر چترال کی جانب سے جاری ٹینڈر نوٹس کے مطابق منصوبوں کے لیے الیکٹرانک بولیاں ای پیڈ نظام کے تحت طلب کی گئی ہیں، جبکہ بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ 6 اکتوبر 2026ء دوپہر 12 بجے مقرر کی گئی ہے اور اسی روز 12 بج کر 30 منٹ پر بولیاں کھولی جائیں گی۔
جاری ٹینڈر کے مطابق اے ڈی پی نمبر 260850 کے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پیکیج کے تحت اپر چترال میں مرکزی سڑکوں، پلوں، سیلاب سے بچاؤ کے کاموں اور چیک ڈیمز سمیت مختلف منصوبے شامل ہیں۔
ان منصوبوں میں،
مستوج–بروغل روڈ — 20 کلومیٹر
اوشنو روڈ کی تعمیر، کشادگی اور بہتری، پی سی سی — 2 کلومیٹر
شاگرام تا شوٹخار پی سی سی روڈ — 2 کلومیٹر
شاگرام تا گہکیر پی سی سی روڈ — 2 کلومیٹر
پرپیش تا خیرچوم اوور پی سی سی روڈ — 2 کلومیٹر
موردیر پی سی سی روڈ — 1.5 کلومیٹر
رائین تا میپ پی سی سی روڈ — 2 کلومیٹر
پرپیش میں آر سی سی پل
وریجون، موڑکھو میں آر سی سی پل
ریشن پاور ہاؤس روڈ (شنگل روڈ) شامل ہیں۔
اسی طرح اے ڈی پی نمبر 250859 کے تحت مستوج تا بروغل پاس روڈ فیز اول، 20 کلومیٹر کی تعمیر، کشادگی، بحالی، بہتری اور بلیک ٹاپنگ کا اہم منصوبہ بھی ٹینڈر میں شامل کیا گیا ہے۔ مستوج تا بروغل پاس روڈ کے 20 کلومیٹر حصے کو چار پیکیجز میں تقسیم کیا گیا ہے،
اس کے علاوہ اے ڈی پی نمبر 251475 کے تحت نئے ممکنہ سیاحتی مقامات تک رسائی کے لیے قاقلشٹ میڈوز روڈ، 4 کلومیٹر بھی منصوبوں میں شامل ہے۔
فوکل پرسن افگن رضا نے چترال ٹائمز کو بتایا کہ کہ یہ ترقیاتی پیکیج ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی ثریا بی بی کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں اپر چترال کے لیے منظور ہوا، جبکہ ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی جانب سے چترال کے لیے اس پیکیج کو “محسنِ چترال” کا نام دیا گیا ہے۔
ان منصوبوں کی تکمیل سے اپر چترال کے مختلف دور افتادہ علاقوں کے درمیان رابطہ بہتر ہونے، سفری مشکلات میں کمی اور عوام کو آمدورفت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کی توقع ہے، جبکہ مستوج تا بروغل روڈ کی تعمیر علاقے کے دور دراز علاقوں کو مرکزی شاہراہوں سے منسلک کرنے کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔