The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 13 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج مستوج کا باقاعدہ افتتاح کر دیا

Chitral Times

ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج مستوج کا باقاعدہ افتتاح کر دیا

ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج مستوج کا باقاعدہ افتتاح کر دیا

ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج مستوج کا باقاعدہ افتتاح کر دیا

.

مستوج (نمائندہ چترال ٹائمز) ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی ثریا بی بی نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج مستوج کا باقاعدہ افتتاح کر دیا، جس کے ساتھ ہی مستوج اور ملحقہ علاقوں کی طالبات کے لیے اعلیٰ تعلیم کے ایک نئے باب کا آغاز ہوگیا ہے۔ جبکہ اس سے پہلے علاقے میں ڈگری کالج نہیں تھی ، کالج کے قیام کو علاقے میں خواتین کی تعلیم کے فروغ اور طالبات کو اپنے علاقے میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
افتتاحی تقریب میں علاقے کے عمائدین، معززین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ ڈائریکٹر ہائیر ایجوکیشن، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اپر چترال، اسسٹنٹ کمشنر مستوج، پرنسپلز گورنمنٹ کالجز بونی وچترال اور دیگر متعلقہ شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران نئے قائم ہونے والے گرلز ڈگری کالج کے قیام کو علاقے کے لیے ایک تاریخی اور خوش آئند قدم قرار دیا گیا۔

اس موقع پر مقررین نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ مستوج میں گرلز ڈگری کالج کا قیام محض ایک نئے تعلیمی ادارے کا افتتاح نہیں بلکہ علاقے کی بیٹیوں کے روشن مستقبل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی میں خواتین کی تعلیم بنیادی کردار ادا کرتی ہے اور جب بچیوں کو اعلیٰ تعلیم ان کے اپنے علاقے میں میسر آئے تو اس کے مثبت اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔

مقررین نے امید ظاہر کی کہ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج مستوج کو تمام ضروری تعلیمی و بنیادی سہولیات سے آراستہ کیا جائیاور یہاں طالبات کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے قابل اور مستقل تدریسی عملہ تعینات کیا جائے، تاکہ علاقے کی بچیوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے اپنے علاقے سے باہر نہ جانا پڑے۔

اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی ثریا بی بی نے کہا کہ گرلز ڈگری کالج کا قیام علاقے کی طالبات کے لیے ایک بڑی سہولت اور ان کے بہتر مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین اور بچیوں کو تعلیم کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس کالج کا قیام صرف مستوج کیلئے نہیں بلکہ لاسپور اور یارخون ویلی کے پسماندہ علاقوں کی بچیوں کیلئے عمل میں لایا گیا ہے۔

علاقے کے عمائدین نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ حکومت کالج کو ابتدائی مرحلے سے ہی مطلوبہ سہولیات فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دے گی تاکہ ادارہ مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھے اور یہاں زیر تعلیم طالبات کو کسی قسم کی تعلیمی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

دریں اثنا مستوج کے مختلف مکاتب فکر نے اس بات پر انتہائی افسوس کا ا ظہار کیا ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے زور زبردستی گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول مستوج کی طالبات کو ڈگری کالج میں داخل کیاجارہاہے۔ جہاں ابتدا میں نہ ٹیچنگ فیکلٹی مکمل ہے اور نہ دوسری سہولیات، جبکہ کرایے کی بلڈنگ بھی گاوں کے اندر جاکر نامناسب جگہ پر لی گئی ہے۔ انھوں نے محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ جو بچیاں اپنی مرضی سے داخلہ لینا چاہتی ہیں انھیں داخلہ دیا جائے جبکہ زور زبردستی دوسرے ادارے سے بچیوں کو لاکر یہاں داخل کرنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔

chitraltimes ggdc mastuj inaguration event 2 chitraltimes ggdc mastuj inaguration event 1