چترال: شوغور سے شاہ سلیم تک 45 کلومیٹر طویل سڑک اورچترال اپر میں سپورٹس سٹیڈیم کے قیام کی منظوری دیدی گئی
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) خیبر پختونخوا کے مالی سال 2026-27 کے لیے صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کا ساتواں اجلاس منگل کے روز ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقی خیبر پختونخوا اسلام زیب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔جس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایات پر صوبے بھر میں رابطوں کو بہتر بنانے اور سفری سہولیات کو فروغ دینے کے لیے صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں سڑکوں کے کئی اہم منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔
ان منصوبوں کے تحت ضلع چترال میں شوغر سے شاہ سلیم تک 45 کلومیٹر طویل سڑک تعمیر کی جائے گی جو دور دراز علاقوں کو ملائے گی۔ ضلع بونیر میں بٹئی سے خلیل ٹاپ تک 20 کلومیٹر سڑک کی کشادگی، بہتری اور بلیک ٹاپنگ کی جائے گی تاکہ مقامی آبادی کو محفوظ اور آسان سفری سہولت میسر آ سکے۔ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کے تیرہ سب ڈویژن میں بھی ترقیاتی کاموں کو وسعت دی گئی ہے۔
اس کے تحت شانگر مرکز سے درس مسجد تک بذریعہ سندپال 11 کلومیٹر طویل سڑک اور احمدی سے ڈونگا تک 8 کلومیٹر سڑک تعمیر کی جائے گی۔اسی طرح ضلع ایبٹ آباد میں مکھنیال اسلام آباد باؤنڈری سے چنگلہ گلی تک بذریعہ دکھن پلسر سڑک کی فیزیبلٹی اسٹڈی، ڈیزائن اور تعمیر کا منصوبہ بھی منظور کیا گیا ہے تاکہ سیاحتی مقامات تک رسائی کو آسان اور محفوظ بنایا جا سکے۔وزیر اعلی کی ہدایت پر منظور کیے گئے یہ منصوبے صوبے بھر میں سڑکوں کے نیٹ ورک کو مضبوط بنائیں گے، سفر کے دورانیے میں کمی لائیں گے اور عوام کے لیے سفر کو محفوظ بنائیں گے۔ضلع تورغر کی ترقی و خوشحالی کے لیے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایات پر 9 ارب روپے سے زائد مالیت کا خصوصی ترقیاتی پیکج منظور کیا گیا ہے۔
اس تاریخی پیکج کے تحت پورے ضلع تورغر میں سڑکوں، صحت، لائیو اسٹاک، زراعت اور دیگر کثیر شعبہ جاتی منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔ پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے سڑکوں کی تعمیر اور موجودہ سڑکوں کی بہتری شامل ہے۔یہ جامع ترقیاتی پیکج ضلع تورغر کے عوام کی زندگیوں میں واضح اور دیرپا تبدیلی لائے گا۔ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، صحت و سفری سہولیات بہتر ہوں گی اور بنیادی ضروریات تک رسائی آسان ہو گی۔اجلاس میں سڑکوں، کھیل، جنگلات، بی او آر اور کثیر شعبہ جاتی ترقی سمیت مختلف شعبوں سے متعلق 14 منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسلام زیب نے کہا کہ منظور شدہ منصوبوں پر بروقت عملدرآمد، شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، چیف اکانومسٹ اور سیکشنز کے نمائندوں نے شرکت کی۔
منظور شدہ منصوبوں میں بلین ٹری افورسٹیشن سپورٹ پراجیکٹ، ضلع چارسدہ میں عمرزئی بائی پاس روڈ کی فیزیبلٹی اسٹڈی، ضلع چترال اپر میں سپورٹس سٹیڈیم کا قیام، ضم اضلاع میں کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد، کھیل کے میدانوں کی تعمیر، اپ گریڈیشن اور موجودہ کھیلوں کی سہولیات کی بحالی، ضلع تورغر کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج مرحلہ دوم، اربن پالیسی یونٹ کا قیام، خیبر پختونخوا پبلک ریسورس فار انکلوسیو ڈویلپمنٹ ملٹی فیز پروگرامیٹک اپروچ،لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کی سینٹرلائزیشن منصوبے بھی شامل ہیں۔