چترال میں گیس پلانٹس کی تنصیب کا عمل تیز، صارفین کو مارکیٹ سے 1200 روپے سستے سلنڈر ملیں گے
.
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) مردان ریجن کی ٹیم نے چترال کا دورہ کرکے گیس پلانٹس کی تنصیب کے حوالے سے اہم فیصلے کیے ہیں۔ اس سلسلے میں وفد نے سابق رکن قومی اسمبلی شہزادہ افتخارالدین سے ملاقات کی، جس میں منصوبے کی پیش رفت اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ایس این جی پی ایل مردان ریجن کے وفد میں ایڈمن انچارج مرتضیٰ تنولی، ایگزیکٹو انجینئر سید ماجد علی، ڈپٹی چیف انجینئر نعمان علی اور ایڈمن اسٹاف رحمت حسین شامل تھے۔
ملاقات میں طے کیا گیا کہ صارفین کو پائپ لائن کے ذریعے گیس فراہم کرنے کے بجائے تینوں گیس پلانٹس پر گیس سلنڈر بھرنے کا انتظام کیا جائے گا، جو صارفین کو مارکیٹ میں دستیاب قیمت سے تقریباً 1200 روپے کم میں فراہم کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق چترال کے لیے گیس پلانٹس کا منصوبہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) سے منظور ہوا تھا اور 2018ء میں ان کا افتتاح بھی کیا گیا تھا، تاہم 2019ء میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں ای سی سی کے ذریعے یہ منصوبے منسوخ کردیئے گئے تھے۔
ابتدائی مرحلے میں پہلا گیس پلانٹ سنگور میں قائم کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایس این جی پی ایل کی ٹیم نے پلانٹ کے قریب واقع مقامی افراد کی زمینوں پر گیس اسٹوریج کے لیے گودام حاصل کرنے کے معاہدے بھی کیے ہیں۔ بعد ازاں دروش اور بروز میں بھی گیس پلانٹس قائم کیے جائیں گے، جبکہ جلد ہی ایس این جی پی ایل کی جانب سے تینوں سائٹس پر اپنا عملہ بھی تعینات کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق منصوبے کی تکمیل سے چترال میں تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار افراد مستفید ہوں گے۔ چترال ٹاؤن میں سین گاؤں سے چمرکھن اور اورغوچ تک تقریباً ایک لاکھ افراد، دروش ریجن میں کیسو، شیشی، میرکھنی، خیرآباد اور سویر لشٹ کے تقریباً 60 ہزار صارفین، جبکہ ایون اور گردونواح میں گہریت سے جوٹی لاشٹ، ایون، بنیسار اور اتنی تک تقریباً 30 ہزار افراد اس منصوبے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
گیس پلانٹس کی تنصیب سے علاقے کے عوام کو لکڑی کے متبادل کے طور پر ایندھن کی سہولت میسر آنے کے ساتھ جنگلات پر دباؤ اور لکڑی کے کٹاؤ میں بھی کمی آنے کی توقع ہے۔
علاقے کے عوام نے گیس پلانٹس کی تنصیب کے عمل میں تیزی لانے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ منصوبے کو جلد مکمل کرکے چترال کے عوام کو سستے اور متبادل ایندھن کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
