جرم کی گلیمرائزیشن اور نظامِ عدل کا زوال – تحریر: قریش خٹک
.
پشتون معاشرے میں قبیلہ پرستی، ذاتی دشمنیوں اور ’بدل‘ یعنی خون کے بدلے خون کی روایات کوئی نیا مظہر نہیں ہیں۔ عمرانیاتی اور سیاسی تناظر میں، قبائلی معاشروں میں تشدد کی یہ شکلیں اکثر و بیشتر ریاستی عملداری کی غیر موجودگی یا عدم استحکام کے باعث ایک خودکار دفاعی طریقۂ کار کے طور پر کام کرتی رہی ہیں۔ تاہم، خیبر پختونخوا میں حالیہ سالوں میں تشدد اور انتقام کے اس روایتی ڈھانچے میں ایک معکوس اور انتہائی خطرناک موڑ دیکھا گیا ہے۔ عصرِ حاضر میں دشمنی محض افراد یا خاندانوں کے درمیان روایتی تصادم تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے ایک بے قابو اور منظم تشدد کی صورت اختیار کر لی ہے، جس نے معاشرتی اقدار، اخلاقی بازپرس کے روایتی ذرائع اور ریاستی قانون کی عملداری کو شدید متاثر کیا ہے۔
تاریخی طور پر پشتون معاشرے میں جرگہ، بزرگوں کا اثر و رسوخ اور برادری کا اخلاقی دباؤ تشدد کی شدت کو قابو میں رکھنے اور کشیدگی کے تدارک کے لیے بطور غیر رسمی تدارکی نظام کام کرتے تھے۔ یہ ادارے اگرچہ مکمل طور پر پرامن حل فراہم نہیں کرتے تھے، لیکن ان کے ذریعے مجرمانہ رویوں پر ایک اخلاقی اور سماجی حد بندی ضرور عائد ہوتی تھی۔ بدقسمتی سے، موجودہ دور میں ان روایتی اداروں کی اخلاقی تحلیل اور ریاستی عدالتی نظام کی کمزوری نے ایک ایسا معاشرتی اور قانونی خلا پیدا کر دیا ہے جہاں جرم کو نہ صرف قبولیت حاصل ہو رہی ہے بلکہ اسے طاقت کے مظاہرے اور بہادری کا استعارہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
اس معاشرتی انحطاط کا سب سے تشویشناک پہلو سوشل میڈیا کے ذریعے جرم کی بڑھتی ہوئی گلیمرائزیشن اور مجرمانہ رویوں کی سماجی پذیرائی ہے۔ سیاسی فلسفے اور جدید عمرانیاتی نظریات کی روشنی میں، ریاست کا بنیادی فرض تشدد کے استعمال پر جائز اجارہ داری قائم کرنا، قانون کی عملداری یقینی بنانا، اور خوف کی فضا کو انصاف اور قانون کی حکمرانی میں تبدیل کرنا ہے۔ مگر جب مجرموں کو معاشرتی سطح پر ہیرو بنا کر پیش کیا جائے، اور طاقت، غیر قانونی ذرائع اور اسلحے کو عزت، اثر و رسوخ اور بہادری کا معیار بنا دیا جائے، تو یہ محض اخلاقی انحطاط نہیں رہتا بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان قائم سماجی معاہدے کو براہِ راست کمزور کرتا ہے۔
ضلع ملاکنڈ کا ایک حالیہ واقعہ اس خطرناک معاشرتی رجحان کی ایک واضح مثال ہے۔ درگئی بار ایسوسی ایشن کے صدر خالد خان ایڈووکیٹ جیسے پرامن، تعلیم دوست اور مقامی سماجی رہنما کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزمان کی تصاویر اور ویڈیوز عدالت میں پیشی اور لیویز کی حراست کے دوران منظرِ عام پر آئیں۔ ان مناظر میں ملزمان ہاتھوں میں جدید موبائل فون تھامے اور جیبوں میں فون رکھے فخریہ انداز میں ٹک ٹاک پر مواد اپ لوڈ کرتے دکھائی دیے۔ مقامی لوگوں کے مطابق، یہ زیرِ حراست ملزمان لیوی اہلکاروں کے موبائل فون استعمال کرتے ہوئے عام شہریوں کو دھمکیاں دینے کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھیوں کو مبینہ مجرمانہ کارروائیوں کی ہدایات بھی دیتے رہے۔
اسی تشویشناک پس منظر میں، جولائی کے اواخر میں ستر سالہ میر حسن، جو ان ملزمان کے خلاف اپنے دو جوان بیٹوں کے قتل کا مقدمہ لڑ رہا تھا، عدالت سے واپسی پر قتل کر دیا گیا۔ یہ المیہ اس امر کی سنگینی کو مزید نمایاں کرتا ہے کہ ریاستی تحویل میں موجود ملزمان مبینہ طور پر اپنی مجرمانہ سرگرمیوں اور اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے میں کس حد تک کامیاب رہے۔
زیرِ حراست ملزمان کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے خود کو بااختیار، بے خوف اور قانونی گرفت سے بالاتر بنا کر پیش کرنا محض سکیورٹی نظام کی تکنیکی ناکامی نہیں، بلکہ ملاکنڈ میں ریاستی عملداری کے بارے میں ایک انتہائی تشویشناک تاثر کو جنم دیتا ہے۔ یہ صورتِ حال بنیادی سوالات اٹھاتی ہے کہ جیل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں موجود افراد کو جدید موبائل فون تک رسائی اور ان کا استعمال کرنے کی سہولت آخر کس نے فراہم کی؟
یہ معاملہ اس لیے بھی زیادہ سنگین ہے کہ یہ وہی ملزمان ہیں جو قتل اور دیگر سنگین جرائم کے متعدد مقدمات میں مطلوب تھے، اور جن کے بارے میں مقامی سطح پر یہ بات عام تھی کہ لیویز اہلکار ان کے ٹھکانوں پر کارروائی یا چھاپہ مارنے سے گریز کرتے رہے، جبکہ بعد ازاں انہیں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے گرفتار کیا۔ یہ واقعات قانون نافذ کرنے کے پورے نظام میں موجود ایک گہری ساختی خرابی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایک طرف سی ٹی ڈی جیسے ریاستی ادارے سنگین جرائم کے ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے کارروائیاں کرتے ہیں اور دوسری طرف انہی ملزمان کو ریاستی تحویل میں ایسی سہولتیں میسر آتی ہیں جو انہیں قانون سے بے خوف ہونے کا پیغام دیتی ہیں۔ یہ تضاد خود ریاستی عملداری کے لیے ایک سنجیدہ سوال بن جاتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ایسے مناظر معاشرے میں یہ تاثر پیدا کرتے ہیں کہ جرم اب باعثِ شرمندگی نہیں بلکہ طاقت، اثر و رسوخ اور سماجی نمود کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ جب ایک سنگین جرم کا ملزم عدالت اور جیل میں ہوتے ہوئے بھی خود کو طاقتور دکھانے، جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے اور اپنے اثر و رسوخ کا اظہار کرنے میں کامیاب ہو تو اس کا نقصان صرف ایک مقدمے تک محدود نہیں رہتا۔ یہ قانون پسند شہریوں کے اعتماد کو مجروح کرتا اور مجرمانہ عناصر کے حوصلے بلند کرتا ہے۔ ریاست کی اصل طاقت صرف مجرم کو گرفتار کرنے میں نہیں بلکہ اس کے بعد بھی اسے قانون کے دائرے میں رکھنے میں ہے۔ اگر گرفتاری کے بعد بھی کوئی ملزم اپنی طاقت کا اظہار کرنے اور اپنے مجرمانہ نیٹ ورک کو چلانے میں آزاد ہو تو سوال صرف اس فرد پر نہیں بلکہ پورے نظام پر اٹھتا ہے۔
جب جیلیں، لاک اَپس اور عدالتی احاطے رشوت اور بدعنوانی کے ذریعے سہولت کاری کے مراکز بن جائیں، تو یہ صرف چند اہلکاروں کی اخلاقی زوال پذیری کا معاملہ نہیں رہتا، بلکہ یہ ریاستی اداروں کی کمزوری اور انتظامی ڈھانچے کے بکھراؤ کا ثبوت بن جاتا ہے۔ ملاکنڈ واقعے میں زیرِ حراست ملزمان کا لیوی اہلکاروں کے فون کا استعمال کرتے ہوئے عام شہریوں کو دھمکیاں دینا اور اپنے ساتھیوں کو مبینہ مجرمانہ کارروائیوں کی ہدایت دینا، درحقیقت قانون کے نفاذ کے لیے ذمہ دار اداروں کے اندر پھیلی ہوئی گہری ساختی خرابیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ چند ہزار روپے کی رشوت کے بدلے ملزمان کو موبائل فون، منشیات، غیر قانونی ملاقاتوں اور دیگر مراعات کی فراہمی، عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کے بچے کھچے اعتماد کو یکسر تباہ کر دیتی ہے۔ جب مظلوم یہ دیکھتا ہے کہ اس کا قاتل یا غاصب جیل کے اندر سے بھی اسی طاقت اور اثر و رسوخ کے ساتھ اپنے مجرمانہ نیٹ ورک کو چلا رہا ہے، تو یہ صرف متاثرہ خاندان کے زخموں پر نمک پاشی نہیں کرتا، بلکہ پورے معاشرے میں لاقانونیت کو ایک قابلِ قبول راستہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔
یہاں کرمنالوجی کے بنیادی سوالات جنم لیتے ہیں کہ اگر ایک سنگین جرم کا ملزم خود کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی محفوظ اور بااختیار محسوس کرتا ہے، تو اس اعتماد کا ماخذ کہاں ہے؟ یہ محض انفرادی حوصلہ نہیں بلکہ اس کرپٹ نیٹ ورک کا نتیجہ ہے جس میں ریاستی اہلکار، بدعنوان بیوروکریسی اور سماجی اثر و رسوخ کے مراکز آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ سادہ الفاظ میں، جرم اس وقت تک طاقتور نہیں ہو سکتا جب تک کہ ریاست خود کو کمزور، اپنے اداروں کو کمزور و مصلحت زدہ اور قانون کو ناقابلِ اعتبار نہ بنا دے۔
اس خونی کھیل اور مسلسل جاری قانونی و معاشرتی انحطاط کو روکنے کے لیے محض سطحی کارروائیاں، وقتی بیانات یا چند ایک گرفتاریوں پر اکتفا کافی نہیں ہوگا۔ اس کے لیے ریاستی و ادارتی اور معاشرتی و ثقافتی، دونوں سطحوں پر جامع اور دیرپا اصلاحات ناگزیر ہیں۔
اس کا آغاز ملاکنڈ کے حالیہ واقعے سے ہونا چاہیے۔ ملزمان کو مبینہ طور پر سہولت فراہم کرنے والے لیویز اہلکاروں اور دیگر متعلقہ سرکاری اہلکاروں کے کردار کی غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں، اور جرم یا سہولت کاری میں ملوث اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ جیل مینوئل کی سخت پابندی اور جدید سائبر قوانین کے مؤثّر نفاذ کو یقینی بنایا جائے تاکہ ڈیجیٹل فضائیں جرم کی نمائش کا ذریعہ نہ بن سکیں۔
ملاکنڈ کے اس واقعے کو قانون کی عملداری، ادارہ جاتی احتساب اور ریاستی تحویل میں موجود ملزمان کی مؤثر نگرانی کے حوالے سے ایک فیصلہ کن کیس اسٹڈی اور مثال بنایا جانا چاہیے۔ اگر ریاست اس واقعے میں ذمہ دار اہلکاروں کا تعین کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے اور نظام کی خامیوں کو دور کرنے میں کامیاب ہوتی ہے، تو یہ پورے خیبر پختونخوا میں ریاستی عملداری کی بحالی اور جرم کی گلیمرائزیشن کے خلاف ایک واضح پیغام ثابت ہو سکتا ہے۔