گرم چشمہ میں مرحوم آرٹسٹ شیر احمد المعروف ’’شیرو‘‘ کی یاد میں آرٹ نمائش کا اہتمام
۔
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال کے خوبصورت سیاحتی مقام گرم چشمہ میں نوجوان آرٹسٹ شیر احمد المعروف ’’شیرو‘‘ کی یاد میں پامیر پبلک سکول اینڈ کالج میں ایک روزہ ’’شیرو میموریل آرٹ ایگزیبیشن‘‘ کا انعقاد کیا گیا، جس میں گرم چشمہ کے مختلف سرکاری و نجی سکولوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں طلبہ و طالبات نے شرکت کی اور اپنے فن پارے نمائش کے لیے پیش کیے۔
آرٹ نمائش کا اہتمام گرم چشمہ بشیر سے تعلق رکھنے والے چترال کے معروف خطاط، آرٹسٹ اور الناصر پبلک سکول کے استاد عزیز جلال نے دیگر ساتھی اساتذہ کے تعاون سے کیا تھا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی معروف آرٹسٹ، قلمکار اور چترال پریس کلب کے سینئر صحافی محکم الدین ایونی تھے، جبکہ صدارت ڈائریکٹر نادرا و پریذیڈنٹ نامدار لوکل کونسل پرابیک محی الدین نے کی۔ تقریب میں سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل چترال شیرین خان ایڈووکیٹ، سابق ریجنل پروگرام منیجر آغا خان پلاننگ اینڈ بلڈنگ سروسز (AKPSB) محمد کرم، معروف آرٹسٹ نثار احمد، صدر کھوار اہل قلم گرم چشمہ شرافت خان، مفتی خاتم الدین، علاقائی سیاسی و سماجی شخصیات، طلبہ و طالبات اور والدین نے شرکت کی۔
تقریب کی نظامت معروف خطاط و آرٹسٹ عبدالوحید نے کی۔ تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت عمیر بن عزیز، حمد عارف حسین جبکہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ محمد ابرار الحق نے پیش کی۔
نمائش کے منتظم معروف قلمکار عزیز جلال نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے تقریب میں شرکت اور طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی پر تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے لوگوں اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد میں شرکت اس امر کی عکاس ہے کہ وادیٔ لٹکوہ کے لوگ آرٹ اور فن سے خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے فنی مشن کو مزید وسعت دینے اور چترال کے فن و ثقافت کو ملکی سطح پر متعارف کرانے کے عزم کا اظہار کیا۔
الناصر پبلک سکول گرم چشمہ کے پرنسپل فضل حمید نے مرحوم آرٹسٹ شیر احمد المعروف ’’شیرو‘‘ کی زندگی، آرٹ کے لیے ان کی خدمات اور جذبے پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے ان کی وفات کو علاقے کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ محفل محی الدین، شیرین خان ایڈووکیٹ اور محمد کرم نے ’’شیرو میموریل آرٹ ایگزیبیشن‘‘ کے انعقاد کو علاقے کے طلبہ و طالبات کی فنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا بہترین ذریعہ قرار دیا اور آرٹسٹ عزیز جلال اور معاون اساتذہ کی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
مقررین نے کہا کہ اس نوعیت کے مواقع طلبہ کے احساسات و جذبات اور خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرنے اور انہیں نکھارنے کے لیے بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ استاد عزیز جلال کو اپنے علاقے کی علمی و فنی ترقی سے گہری وابستگی ہے اور انہوں نے نوجوان نسل کے روشن مستقبل کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ نمائش میں مقامی سیاسی و سماجی رہنماؤں، والدین اور طلبہ و طالبات کی بھرپور شرکت اس کا واضح ثبوت ہے۔
مہمانِ خصوصی محکم الدین ایونی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کے لیے یہ انتہائی اعزاز کی بات ہے کہ ان کی زیرِ نگرانی حروفِ ابجد کی تختی سے خطاطی کا سفر شروع کرنے والا ان کا شاگرد عزیز جلال آج نہ صرف ایک ماہر خطاط اور قلمکار کی حیثیت سے پورے چترال میں نام پیدا کر چکا ہے بلکہ اس کے زیرِ نگرانی تربیت پانے والے سینکڑوں طلبہ کے فن پارے بھی آج کی نمائش میں موجود ہیں اور ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گرم چشمہ ایک اہم سیاحتی علاقہ ہے، اس لیے سیاحوں کو علاقے کی جانب متوجہ کرنے کے لیے سالانہ آرٹ نمائش کا انعقاد کیا جا سکتا ہے، جس سے علاقے کے فنکاروں اور ثقافتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔ انہوں نے دیگر ثقافتی مصنوعات کو ترقی دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
تقریب کے آغاز پر مہمانِ خصوصی محکم الدین ایونی کو پرنسپل پامیر پبلک سکول اینڈ کالج فضل حمید نے روایتی چترالی ٹوپی پہنائی، جبکہ تقریب کے اختتام پر نمائش میں حصہ لینے والے مختلف دیہات اور سکولوں سے تعلق رکھنے والے
60 طلبہ و طالبات میں شیلڈز تقسیم کی گئیں۔

