The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 1 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

چترال سمیت خیبر پختونخوا کے 7 اضلاع میں گلاف کا خطرہ، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

Chitral Times

چترال سمیت خیبر پختونخوا کے 7 اضلاع میں گلاف کا خطرہ، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

چترال سمیت خیبر پختونخوا کے 7 اضلاع میں گلاف کا خطرہ، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

چترال سمیت خیبر پختونخوا کے 7 اضلاع میں گلاف کا خطرہ، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

.

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے چترال اپر، چترال لوئر سمیت خیبر پختونخوا کے 7 اضلاع میں گلیشیئر جھیل کے پھٹنے، اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور ملبے کے تیز بہاؤ کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات کی ہدایت کردی ہے۔

پی ڈی ایم اے کی جانب سے 30 اگست 2026 کو جاری الرٹ کے مطابق محکمہ موسمیات پاکستان کے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ دنوں کے دوران شمالی پاکستان، خصوصاً خیبر پختونخوا کی گلیشیئر وادیوں میں درجہ حرارت بڑھنے اور نسبتاً زیادہ رہنے کا امکان ہے، جبکہ 31 اگست کی رات سے 4 ستمبر 2026 تک خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ بھی متوقع ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق درجہ حرارت میں اچانک اضافے اور گلیشیئر والے علاقوں میں درمیانی سے شدید بارشوں کے مشترکہ اثرات کے باعث برف اور گلیشیئرز کے پگھلنے کا عمل تیز ہوسکتا ہے، جس سے دریاؤں، ندی نالوں اور مقامی نالوں میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہونے کا خدشہ ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں گلیشیئر جھیل کے پھٹنے (گلاف)، اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، پرما فراسٹ پگھلنے اور مٹی و ملبے کے تیز بہاؤ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

الرٹ میں کہا گیا ہے کہ دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب نشیبی علاقوں میں آبادیاں تیز بہاؤ اور اچانک سیلاب سے متاثر ہوسکتی ہیں۔ گلیشیئر جھیلوں میں اضافی پگھلا ہوا پانی اور بارش کا پانی جمع ہونے سے پانی کی سطح تیزی سے بلند ہوسکتی ہے، جس سے قدرتی برفانی رکاوٹوں پر دباؤ بڑھنے اور گلیشیئر جھیل کے اچانک پھٹنے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق پہاڑی اور تنگ علاقوں میں شدید بارش سے تیز رفتاری سے پانی کا بہاؤ پیدا ہوسکتا ہے، جو اچانک سیلاب کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ تیز بہاؤ، سیلاب اور پہاڑی ڈھلوانوں کے ناکام ہونے سے سڑکوں، پلوں، زرعی اراضی، مواصلاتی نظام اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

پی ڈی ایم اے نے چترال اپر، چترال لوئر، دیر اپر، باجوڑ، سوات، کوہستان اپر اور مانسہرہ کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ حساس گلاف مقامات کی مسلسل نگرانی اور سرویلنس یقینی بنائی جائے تاکہ بروقت وارننگ اور فوری ردعمل ممکن ہوسکے۔

متعلقہ حکام کو خطرے سے دوچار علاقوں میں انخلا کی مشقیں کرانے، محفوظ مقامات کو ہنگامی صورتحال میں استعمال کے لیے مکمل طور پر تیار اور ضروری سامان سے لیس رکھنے، نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر آبادی کو پیشگی خبردار کرنے اور حساس علاقوں کی مقامی آبادی کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

اسی طرح ایمرجنسی و ریسکیو سروسز اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کے متعلقہ عملے کی دستیابی یقینی بنانے، ہنگامی آلات پہلے سے تیار رکھنے اور ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کے لیے انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پی ڈی ایم اے نے عوامی آگاہی کے حوالے سے بھی اہم احتیاطی تدابیر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرم موسم کے دوران دریاؤں کے کناروں اور ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کیا جائے، بلا ضرورت ایسے علاقوں میں نقل و حرکت نہ کی جائے، تیز بہاؤ والے پانی میں گاڑیوں کے بہہ جانے کے خطرے کو مدنظر رکھا جائے اور مقامی نالوں میں پانی کے رنگ میں اچانک تبدیلی یا غیر معمولی آوازوں، خصوصاً پتھروں کے رگڑنے کی آوازوں پر فوری توجہ دی جائے۔

عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ مویشیوں اور ضروری سامان کو محفوظ اور بلند مقامات پر منتقل رکھا جائے، جبکہ خطرے سے دوچار آبادیوں کے انخلا کے منصوبے پر عملدرآمد کے لیے مقامی سطح پر رابطہ کاری کو مؤثر بنایا جائے۔

پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو ممکنہ صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔