ہندوکش کے دامن سے: جماعت اسلامی کا دھرنا، وقت کی آواز! – عبدالباقی
.
پاکستان میں غربت، مہنگائی اور بے روزگاری اب صرف معاشی اعداد و شمار نہیں بلکہ غریب عوام کے لیے بقا کی جنگ بن چکی ہے۔ جماعت اسلامی کا دھرنا حکمراں اشرافیہ کی غریب کش پالیسیوں اور شاہ خرچیوں کے خلاف ایک جائز اور آئینی احتجاج ہے۔ اگر حکومت نے بروقت ان عوامی مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا اور پیٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں کمی نہیں لائی تو یہ احتجاجی لہر ایک بڑی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جو حکومت کو ہلا کر رکھ دے گی۔
امیر جماعت اسلامی نے اس تحریک کو مزید منظم کرتے ہوئے 3 ستمبر کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت نے ہمارے جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے تو دھرنے راولپنڈی اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی شکل اختیار کر لیں گے۔
سیاسی طور پر جماعت اسلامی اس وقت پارلیمنٹ سے باہر رہ کر بھی ملک کی سب سے بڑی متحرک عوامی آواز بن کر ابھری ہے۔ آزمودہ برسرِ اقتدار جماعتوں کی ناقص کارکردگی سے مایوس عوام میں جماعت اسلامی کے بیانیے کو پذیرائی مل رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے دھرنوں کی سب سے بڑی اور منفرد خوبی ان کا پُرامن اور منظم ہونا ہے۔ ان دھرنوں میں صرف جماعت اسلامی کے کارکنان ہی نہیں بلکہ تاجر برادری، کسان، طلبہ، وکلا، خواتین اور یہاں تک کہ معاشرے کے کمزور اور معذور افراد بھی بڑی تعداد میں شریک ہو رہے ہیں۔ خواتین نے دھرنوں میں شرکت کرکے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
امیر جماعت اسلامی حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ تنخواہ دار طبقے اور غریب عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کی بجائے جاگیرداروں، بڑے سرمایہ داروں اور اشرافیہ طبقے پر ٹیکسوں میں اضافہ کرکے غریب عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔ سرکاری اخراجات میں کمی کرکے حکمران اور افسر شاہی اپنی شاہ خرچیاں ختم کریں۔
اس وقت ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے۔ لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگاری کا شکار ہو چکے ہیں۔ وہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مایوس ہو کر اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ملک سے باہر جانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں، اور غریب عوام مہنگائی سے تنگ آ کر خودکشیوں پر مجبور ہو رہی ہے۔
جبکہ دوسری طرف حکمران اشرافیہ طبقہ اپنے پروٹوکول، بڑی گاڑیوں اور سرکاری مراعات پر عوام کے ٹیکس کا پیسہ بے دریغ اڑا رہا ہے۔ سابق اور موجودہ حکمرانوں کے نجی بجلی گھروں کے مالکان سے کیے گئے ظالمانہ معاہدوں کے باعث بجلی کے مہنگے بل عوام کے لیے ناقابلِ برداشت ہو گئے ہیں۔
اب امیر جماعت اسلامی نے حکومت کے سامنے دو ٹوک اور واضح مطالبات رکھ دیے ہیں۔ حکومت پیٹرولیم لیوی کا فوری خاتمہ کرکے پیٹرول اور ڈیزل پر عائد ٹیکس واپس لے اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرے۔ آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرِثانی کرکے بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے ظالمانہ معاہدوں کو منسوخ کیا جائے، کیونکہ بعض نجی پاور کمپنیاں بجلی پیدا کیے بغیر اربوں روپے حکومت سے وصول کر رہی ہیں۔
ملک میں بڑھتی ہوئی غربت، مہنگائی، بے روزگاری اور ناانصافیوں کے خلاف جماعت اسلامی کے حالیہ دھرنوں کا ملکی سیاست اور عوامی تحریک میں ایک اہم کردار رہا ہے۔ حکمران ماضی میں پڑوسی ممالک میں پیش آنے والے ناخوشگوار حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیل، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے عوامی مطالبات تسلیم کریں۔
آج ہمارے ملک کے سیاسی اور معاشی حالات بھی سری لنکا، نیپال اور بنگلہ دیش سے زیادہ مختلف نہیں۔ اس ملک میں بھی غربت، مہنگائی، بے روزگاری، ناانصافی اور بدعنوانی عوام کے لیے ناقابلِ برداشت ہو گئی ہیں۔ ماضی میں پڑوسی ممالک میں پیش آنے والے ناخوشگوار حالات و واقعات مثال بن کر پاکستانی عوام کے سامنے کھڑے ہیں۔ پاکستانی عوام یہ سب کچھ دیکھ بھی رہی ہے اور محسوس بھی کر رہی ہے۔
حکمرانوں کو دوسرے ممالک میں پیش آنے والے ان حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیل، گیس، بجلی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کرکے جماعت اسلامی کی قیادت میں ہونے والے عوامی مطالبات تسلیم کر لینے چاہییں، کیونکہ یہ صرف جماعت اسلامی کا مطالبہ نہیں بلکہ اس ملک کے اکثریتی غریب طبقے کے دل کی آواز ہے۔
دوسری صورت میں جب مہنگائی کے ستائے ہوئے بھوکے عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے تو حکومت کے لیے ملک میں امن و امان برقرار رکھنا دشوار ہو جائے گا، کیونکہ اب عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔
امیر جماعت اسلامی کی قیادت میں شروع ہونے والی یہ احتجاجی تحریک اب چاروں صوبوں میں پھیل چکی ہے۔ یہ تحریک صرف ایک روایتی سیاسی احتجاج نہیں بلکہ فرسودہ معاشی نظام اور حکمران اشرافیہ کے خلاف ایک منظم مہم بن کر ابھری ہے، جو موجودہ وقت کی آواز ہے۔