The Voice of Chitral since 2004
Monday, 31 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

خیبر پختونخوا میں پینے کے پانی کے معیار کی نگرانی کا جدید نظام فعال، اپ گریڈ شدہ واٹر کوالٹی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے حوالے

Chitral Times

خیبر پختونخوا میں پینے کے پانی کے معیار کی نگرانی کا جدید نظام فعال، اپ گریڈ شدہ واٹر کوالٹی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے حوالے

خیبر پختونخوا میں پینے کے پانی کے معیار کی نگرانی کا جدید نظام فعال، اپ گریڈ شدہ واٹر کوالٹی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے حوالے

خیبر پختونخوا میں پینے کے پانی کے معیار کی نگرانی کا جدید نظام فعال، اپ گریڈ شدہ واٹر کوالٹی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے حوالے

۔

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) خیبر پختونخوا میں لوگوں کو صاف و شفاف اور آلودگی سے محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی اور پانی کے معیار کی مؤثر نگرانی کے لیے بڑاقدم اٹھایا گیا ہے،اس سلسلے میں بین الاقوامی ادارہ (UNOPS) نے کوریا انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (KOICA) کے تعاون سے اپ گریڈ شدہ واٹر کوالٹی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (WQMIS) محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبر پختونخوا کے حوالے کر دیا ہے۔ اس حوالے سے محکمہ آبنوشی پشاور میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی اور اس پرقار تقریب میں جدید نظام کا باقاعدہ افتتاح کیا۔

انہوں نے اس نظام کو محکمہ کے حوالے کرتے ہوئے آپریشنل کرنے کا اعلان بھی کیا۔تقریب میں UNOPS پاکستان کی کنٹری مینیجر جینیفر اینکروم، KOICA پاکستان آفس کے ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر ہارم گو، سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ مسعود یونس، ایڈیشنل سیکرٹری جہانگیر اعظم وزیر، چیف انجینئرز، ڈائریکٹرز، ایگزیکٹو انجینئرز اور محکمہ کے دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔نئے اور مؤثر نظام کی اہم خصوصیت پانی کے معیار سے متعلق مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر لانا ہے۔ مختلف لیبارٹریز، واٹر سپلائی سکیموں اور فیلڈ فارمیشنز سے حاصل ہونے والی معلومات کو ایک مربوط نظام کے تحت محفوظ، مانیٹر اور اسکا تجزیہ کیا جا سکے گا جبکہ ڈیٹا فلو کی انٹیگریشن اور آٹومیشن سے دستی کارروائیوں پر انحصار بھی کم ہوگا۔

واٹر کوالٹی مینیجمنٹ انفارمیشن سسٹم WQMIS کے ذریعے صوبے میں Water Quality Surveillance کو بھی مضبوط بنایا گیا ہے۔ اس نظام کی مدد سے مختلف علاقوں میں پانی کے معیار کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا سکے گی اور آلودگی کے ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی کے ساتھ متعلقہ حکام کو اصلاحی اقدامات کے لیے فوری معلومات فراہم ہوں گی۔یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔اپ گریڈ شدہ نظام میں Contamination Escalation Protocol بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے ذریعے پانی کے معیار سے متعلق سنگین یا مسلسل مسائل کو خودکار طریقے سے اعلیٰ حکام تک پہنچانے کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ اگر کسی پانی کے نمونے یا واٹر سپلائی سکیم کا معیار مقررہ حدود پر پورا نہ اترے تو معاملہ متعلقہ انتظامی سطح پر منتقل ہوگا، جبکہ مسلسل غیر موزوں کیمیائی آلودگی کے کیسز مرحلہ وار اعلیٰ حکام تک پہنچائے جا سکیں گے تاکہ بروقت اور مؤثر فیصلے کیا جا سکے۔

اس جدیدنظام میں لیبارٹریز کی کارکردگی جانچنے کے لیے Key Performance Indicators (KPIs) بھی شامل کیے گئے ہیں، جس سے مختلف لیبارٹریز کی کارکردگی، ٹیسٹنگ کے عمل اور نتائج کی نگرانی زیادہ منظم انداز میں ممکن ہوگی۔ اسی طرح Labs Asset Management کے ذریعے لیبارٹریز میں موجود آلات اور دیگر اہم اثاثہ جات کا ریکارڈ اور انتظام بہتر بنایا جا سکے گا۔اپ گریڈ شدہ WQMIS میں Water Supply Schemes Data Integration کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے جس کے ذریعے پانی کے معیار اور متعلقہ واٹر سپلائی سکیموں کی معلومات کو باہم مربوط کیا جا سکے گا۔ اس سے حکام کو کسی مخصوص علاقے میں پانی کے معیار کے مسائل کی نوعیت اور ممکنہ ماخذ کی نشاندہی میں مدد ملے گی۔جدید نظام کی ایک نمایاں خصوصیت Water Quality Heatmap ہے، جس کے ذریعے مختلف علاقوں میں پانی کے معیار کی صورتحال کو بصری انداز میں دیکھا جا سکے گا۔

اس سہولت سے فیصلہ سازوں اور متعلقہ افسران کو ایسے علاقوں کی نشاندہی میں مدد ملے گی جہاں پانی کے معیار سے متعلق مسائل زیادہ ہوں، جس کے نتیجے میں دستیاب وسائل اور اصلاحی اقدامات کو ترجیحی بنیادوں پر استعمال کیا جا سکے گا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر فضل شکور خان نے کہا کہ محفوظ پینے کا پانی عوام کا بنیادی حق اور ریاست کی اہم ذمہ داری ہے، جبکہ پانی کے معیار کی مؤثر نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کا معیار براہ راست عوامی صحت، بالخصوص بچوں اور کمزور طبقات کی صحت سے وابستہ ہے، اس لیے پانی کے معیار سے متعلق درست، بروقت اور قابلِ اعتماد معلومات کی دستیابی انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ صوبے بھر میں پانی کی فراہمی کے وسیع نیٹ ورک کو منظم کر رہا ہے، جس کے لیے قابلِ اعتماد ڈیٹا، بروقت لیبارٹری نتائج اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اپ گریڈ شدہ WQMIS لیبارٹری آپریشنز کو پانی کی فراہمی کی خدمات کے انتظام سے مربوط کرے گا، جس سے ڈیٹا کے اندراج، تجزیے، نگرانی اور رپورٹنگ کا عمل مزید مؤثر اور منظم ہو جائے گا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ نئے نظام کے ذریعے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی فیلڈ فارمیشنز کو پانی کے معیار سے متعلق معلومات تک بہتر رسائی حاصل ہوگی، جبکہ Oversight Mechanism اور Automated Reporting جیسی سہولیات انتظامی نگرانی، شفافیت اور بروقت رپورٹنگ کے عمل کو مزید مضبوط بنائیں گی۔فضل شکور خان نے واضح کیا کہ صرف جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانا کافی نہیں بلکہ اس کے مؤثر استعمال کے لیے تربیت یافتہ اور ذمہ دار افرادی قوت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سسٹم کی جانچ اور عملے کی تربیت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ ایگزیکٹو انجینئرز اور چیف انجینئرز کے لیے مزید تربیتی سیشنز بھی منعقد کیے جائیں گے۔

انہوں نے محکمہ کے افسران اور اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ WQMIS کو باقاعدگی اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں، عملی حالات میں اس کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور کسی بھی خامی یا کمی کی فوری نشاندہی کریں تاکہ نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی کے موجودہ دور میں خیبر پختونخوا میں شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور بروقت فیصلہ سازی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جدید نظام پانی کے معیار کی نگرانی، احتساب، انتظامی کارکردگی اور عوام کو محفوظ و قابلِ اعتماد پانی کی فراہمی کے لیے ایک اہم ذریعہ ثابت ہوگا۔انہوں نے اس منصوبے کی تکمیل کو خیبر پختونخوا حکومت، حکومتِ جمہوریہ کوریا، KOICA اور UNOPS کے درمیان تعاون کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے حکومتِ کوریا اور KOICA کی دوطرفہ اور تکنیکی معاونت پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے UNOPS کی پیشہ ورانہ خدمات اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی قیادت، تکنیکی ٹیموں اور دیگر عملے کی کاوشوں کو بھی سراہا۔واٹر کوالٹی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کی اپ گریڈیشن“Enhancing Functionality and Capacity of the Water Quality Management Information System”منصوبے کے تحت مکمل کی گئی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد صوبے میں پینے کے پانی کے معیار سے متعلق معلومات کو جدید خطوط پر منظم، مرکزی سطح پر مربوط اور مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی محکمانہ صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔اس موقع پر KOICA کے ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر ہارم گو نے کہا کہ واٹر کوالٹی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کی اپ گریڈیشن پاکستان کے واٹر سیکٹر کو مضبوط بنانے کے لیے KOICA کے مسلسل عزم کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ UNOPS اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری کے ذریعے ہمیں یقین ہے کہ یہ جدید نظام خیبر پختونخوا میں پانی کے معیار کی مزید محفوظ، مؤثر اور قابلِ اعتماد نگرانی اور انتظام میں اہم کردار ادا کرے گا۔

یو این او پی ایس پاکستان کی کنٹری مینیجر جینیفر اینکروم نے بتایا کہ منصوبے کے تحت UNOPS نے واٹر کوالٹی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کو مرحلہ وار اپ گریڈ کیا۔ اس سلسلے میں پہلے اسٹیک ہولڈرز کی ضروریات کا جائزہ لینے کے لیے ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں نظام کی بہتری کے اہم شعبوں کی نشاندہی کی گئی اور اپ گریڈیشن کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دی گئی۔انہوں نے کہا کہ اس ابتدائی تشخیصی مرحلے کے بعد MIS کو جدید سافٹ ویئر آرکیٹیکچر، بہتر اور صارف دوست انٹرفیس جبکہ جدید اینالیٹکس کی صلاحیتوں سے مزین کیا گیا، جس سے پانی کے معیار سے متعلق ڈیٹا کے مؤثر تجزیے اور نگرانی میں مزید بہتری آئے گی۔

جینیفر اینکرم نے مزید بتایا کہ UNOPS کی جانب سے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے افسران اور عملے کے لیے اپ گریڈ شدہ MIS، ڈیٹا مینجمنٹ اور سسٹم مینٹیننس کے حوالے سے استعدادِ کار بڑھانے کے تربیتی سیشنز بھی منعقد کیے گئے۔ ان تربیتی اقدامات کے ذریعے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے 50 سے زائد اہلکاروں کو نئے نظام کو مؤثر انداز میں چلانے، ڈیٹا کو منظم کرنے اور سسٹم کو پائیدار بنیادوں پر برقرار رکھنے کے لیے تربیت فراہم کی گئی۔نظام کو مزید پائیدار بنانے کے لیے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی جانب سے مالی و آپریشنل ذمہ داریوں، انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال، ضروری بجٹ، dedicated staff، مسلسل تربیت اور تکنیکی معاونت پر توجہ دی جائے گی۔ Monitoring, Evaluation and Governance اور Periodic Audits کے ذریعے بھی نظام کی کارکردگی کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق پانی کے معیار سے متعلق درست ڈیٹا کی بروقت دستیابی اور مؤثر تجزیہ صحت عامہ کے تحفظ اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اپ گریڈ شدہ WQMIS کے ذریعے خیبر پختونخوا میں پانی کے معیار کی نگرانی، آلودگی کی نشاندہی، متعلقہ حکام کو بروقت اطلاع اور اصلاحی کارروائی کے عمل کو ایک مربوط ڈیجیٹل نظام کے تحت لانے کی کوشش کی گئی ہے۔یو این او پی ایس (UNOPS) اور KOICA کے تعاون سے مکمل ہونے والا یہ جدید نظام خیبر پختونخوا میں پانی کے معیار کی نگرانی کو روایتی طریقہ کار سے جدید، ڈیٹا ڈرائیون، مربوط اور جوابدہ نظام کی جانب منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا اور عوام کو محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی حکومتی کوششوں کو مزید تقویت دے گا۔