The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 29 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

خیبرپختونخوا کابینہ کا 57واں اجلاس، سیلاب متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے ایک ارب روپے منظور، چترال کے لیے 50 کروڑ مختص

Chitral Times

خیبرپختونخوا کابینہ کا 57واں اجلاس، سیلاب متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے ایک ارب روپے منظور، چترال کے لیے 50 کروڑ مختص

خیبرپختونخوا کابینہ کا 57واں اجلاس، سیلاب متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے ایک ارب روپے منظور، چترال کے لیے 50 کروڑ مختص

خیبرپختونخوا کابینہ کا 57واں اجلاس، سیلاب متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے ایک ارب روپے منظور، چترال کے لیے 50 کروڑ مختص
خواتین کے لیے ای وی بائیکس اسکیم، 2027 سے ایم ڈی کیٹ ایٹا کے ذریعے کرانے کی منظوری، چارسدہ میں نئی تحصیل عمرزئی قائم کرنے کا فیصلہ

.

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) خیبرپختونخوا کی صوبائی کابینہ کا 57واں اجلاس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں صوبے کے انتظامی، مالی، ترقیاتی، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج کے حوالے سے حکم جاری کیا تھا کہ ان کا علاج شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ان کی بہن اور ذاتی ڈاکٹروں کی موجودگی میں کیا جائے، تاہم وفاقی حکومت نے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے عدالتی حکم پر عملدرآمد کے نام پر فراڈ کیا اور عمران خان کو رات کے اندھیرے میں تمام لائٹس بند کرکے ہسپتال لایا گیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کی صحت وفاقی حکومت کی نگرانی میں خراب ہوئی ہے، کیونکہ جب انہیں گرفتار کیا گیا تو ان کی حالت اور صحت بالکل ٹھیک تھی اور وہ سپر فٹ تھے، تاہم انہیں مسلسل آٹھ، نو ماہ سے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔ اس دوران ان کی فیملی، ذاتی ڈاکٹرز، وکلا اور دوست ان سے ملاقات نہیں کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی کے ساتھ ایسا رویہ کبھی نہیں دیکھا گیا اور عمران خان کی صحت کے مسائل بھی اسی رویے کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو حکومت کے لیے سنگین تشویش قرار دیتے ہوئے عدالتوں سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے حوالے سے جاری احکامات پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ عدالتی احکامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنا عدلیہ اور ججز کی توہین ہے۔ تمام پاکستانی عدالتوں کی طرف دیکھ رہے ہیں، اگر عدالتیں اپنے احکامات پر عملدرآمد نہیں کروا سکتیں تو پھر عدالتیں کس کام کے لیے ہیں؟ عدالتوں نے انصاف کرنا اور اپنے احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانا ہے۔

خواتین کے لیے ای وی بائیکس اسکیم

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں خواتین کے لیے ای وی بائیکس اسکیم متعارف کرائی جا رہی ہے، جس کے تحت کالجز اور یونیورسٹیوں میں جانے والی طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین کو حکومت کی جانب سے الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ای وی بائیکس اسکیم کا پہلا فیز بہت جلد شروع کیا جائے گا اور بائیکس خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر فراہم کی جائیں گی۔ ای وی بائیکس کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے ای وی رکشوں کی اسکیم بھی متعارف کرائی جائے گی، جو صوبے میں صاف اور سرسبز ماحول کے فروغ کے لیے ایک اہم اقدام ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں الیکٹرک بسوں کی اسکیم پر کام تیز کرنے کی ہدایت پہلے ہی جاری کی جا چکی ہے۔

ترقیاتی منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت

محمد سہیل آفریدی نے ہدایت کی کہ اے ڈی پی میں شامل تمام ایسی اسکیموں پر کام تیزی سے کیا جائے جن سے صوبے کے عوام کو فائدہ پہنچنا ہے۔ عوامی مفاد کے منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیوروکریٹک رکاوٹوں اور سیاسی غفلت سے بالاتر ہو کر آؤٹ آف دی باکس اقدامات کرنا ہوں گے اور ترقیاتی منصوبوں کو بہترین انداز میں ڈیلیور کرنا ہوگا تاکہ عوام ان سے بھرپور استفادہ کرسکیں۔

وزیراعلیٰ نے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں پر کام مزید تیز کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ رواں مالی سال خیبرپختونخوا کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کا سال ہوگا۔

چارسدہ میں نئی تحصیل عمرزئی قائم کرنے کی منظوری

صوبائی وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ، سائنس، ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے کابینہ اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے ضلع چارسدہ میں عمرزئی کے نام سے نئی تحصیل کے قیام کی منظوری دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بورڈ آف ریونیو، لوکل گورنمنٹ، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور فنانس محکموں پر مشتمل ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے، جو ڈویژن، سب ڈویژن، تحصیل اور سب تحصیل جیسی انتظامی اکائیوں میں مستقبل میں کسی بھی تبدیلی کے لیے معیار طے کرے گی تاکہ ایسی تبدیلیاں عوامی مفاد اور صوبے کی انتظامی ضروریات کے مطابق کی جا سکیں۔

2027 سے ایم ڈی کیٹ ایٹا کے ذریعے کرانے کی منظوری

کابینہ نے سال 2027 سے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز ایڈمیشن ٹیسٹ (MDCAT) ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایویلیوایشن ایجنسی (ایٹا) کے ذریعے منعقد کرانے کی حتمی منظوری دے دی۔

اس سلسلے میں تکنیکی اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اس وقت ایٹا کے پورے پاکستان اور خیبرپختونخوا میں 60 رجسٹرڈ کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹنگ (CBT) مراکز موجود ہیں، جہاں روزانہ 26 ہزار امیدواروں کے ٹیسٹ لیے جا سکتے ہیں۔

وزیر اطلاعات کے مطابق ای ٹی ای اے آرڈیننس 2001 کی دفعہ 4(1)(a) کے تحت ایٹا کو پروفیشنل کالجز میں داخلے کے ٹیسٹ لینے کا اختیار حاصل ہے، جبکہ ستمبر 2024 میں سی بی ٹی نظام اپنانے کے بعد ایٹا اب تک تقریباً 5 لاکھ امیدواروں کے 1300 سے زائد ٹیسٹ کامیابی سے لے چکا ہے۔

سیلاب متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے ایک ارب روپے منظور، چترال کے لیے 50 کروڑ مختص

کابینہ نے خیبرپختونخوا فلڈ ریزیلینس پراجیکٹ کے حوالے سے متعلقہ محکمے کو اسلامی بینکاری کے اصولوں کے مطابق ورلڈ بینک (IDA) سے فنانسنگ کے لیے رابطہ کرنے کی اجازت دے دی۔

اجلاس میں سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے ایک ارب روپے کی منظوری دی گئی، جس میں سے 500 ملین روپے (50 کروڑ روپے) خصوصی طور پر چترال کے اضلاع کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

یہ رقم حالیہ سیلاب سے متاثرہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے استعمال کی جائے گی۔

رکشوں کی رجسٹریشن اور تعداد کم کرنے کے لیے کابینہ کمیٹی قائم

کابینہ نے وانا کے شہید مولانا مرزا جان کے معاوضے میں خصوصی کیس کے طور پر اضافہ کرتے ہوئے اسے ایک کروڑ روپے تک بڑھانے کی منظوری دی۔

اس کے علاوہ خیبرپختونخوا بھر میں ٹرائی وہیلر (رکشوں) کی یکساں رجسٹریشن اور شہروں میں غیر ضروری رکشوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے مؤثر طریقہ کار مرتب کرنے کی غرض سے ایک کابینہ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔

الیکشن کمیشن کی سالانہ رپورٹ اسمبلی میں پیش کرنے کی اجازت

کابینہ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی سالانہ رپورٹ 2025 صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے کی اجازت دے دی۔

اس کے علاوہ لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو تاجکستان اور پاکستان کے درمیان مقامی ترقی کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کے لیے صوبائی حکومت کی رضامندی وفاق کو بھیجنے کی اجازت دی گئی۔

رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں دو کمشنرز کی تقرری

کابینہ نے خیبرپختونخوا رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں کمشنر کی دو خالی آسامیوں پر تقرریوں کی منظوری دی جبکہ ویسٹ پاکستان رجسٹریشن رولز 1929 میں ترامیم بھی منظور کی گئیں۔

کابینہ نے لکی مروت، ٹانک، بونیر، کرک، بٹگرام، چارسدہ اور ایبٹ آباد میں سروس ڈلیوری سینٹرز کے لیے 46 کنٹریکٹ اسامیاں پیدا کرنے کی منظوری دی۔

اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن خیبر کے لیے 50 لاکھ روپے کی گرانٹ بھی منظور کی گئی۔

صحت کے شعبے میں بھی متعدد فیصلے

وزیر اطلاعات کے مطابق کابینہ نے مختلف ہسپتالوں میں فل باڈی اسکینرز کی ازسرنو تقسیم کی منظوری دی۔

اس کے علاوہ پہلے سے منظور شدہ مالی امداد کو تصدیقی عمل سے گزارنے کے بعد تین درخواست گزاروں کے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کی اجازت دی گئی۔ ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال ایم ٹی آئی بنوں میں آنکھوں کے علاج کے آلات کی خریداری کے لیے بھی فنڈز منظور کیے گئے۔

جنگلات کی باقی ماندہ لکڑی کی شفاف نیلامی کی اجازت

کابینہ نے ایک طریقہ کار کی منظوری دی جس کے تحت محکمہ جنگلات متروک شدہ ’’ڈرائی اسٹینڈنگ اینڈ ونڈ فالن ٹریز پالیسی‘‘ کے تحت مختلف مقامات پر پڑی ہوئی باقی ماندہ لکڑی کو شفاف طریقے سے نیلام کرسکے گا تاکہ لکڑی کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔

پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی میں ماہرین تعلیم کی نامزدگی

کابینہ نے خیبرپختونخوا پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی میں دو ماہرین تعلیم کی نامزدگی کی منظوری دی۔

اسی طرح پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) کے لیے 54 مزید بسوں کی خریداری کے مرحلے میں کسٹمز ڈیوٹی، ٹیکسز اور درآمدی اخراجات پورے کرنے کے لیے اضافی فنڈز کی منظوری دی گئی۔

ساؤتھ ایشین گیمز کے لیے فنڈز منظور

کابینہ نے پشاور میں ہونے والے 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز میں تیر اندازی، جوڈو اور والی بال کے مقابلوں کے لیے بھی فنڈز کی منظوری دی۔

اس کے علاوہ خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (KICH) کے باقی ماندہ تعمیراتی کام کے لیے برج فنانسنگ کی منظوری بھی دی گئی۔

ویکسین پروگرام کی منظوری

شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے ویکسین پورٹ فولیو آپٹیمائزیشن اینڈ پرائیورٹائزیشن (VPOP) پروگرام کے تحت ہیکسا ویلنٹ ویکسین، PCV-14، DPT بوسٹر ڈوز اور ہیپاٹائٹس بی برتھ ڈوز سے متعلق ملکی سطح کے اقدامات کی صوبائی منظوری دے دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس منظوری کے بعد پینٹا ویلنٹ اور IPV سے ہیکسا ویلنٹ ویکسین کی طرف منتقلی ممکن ہو سکے گی، جس میں کئی اینٹی جِنز کو ایک ہی ویکسین میں شامل کیا جائے گا اور اس سے مالی اخراجات میں بڑی حد تک کمی آئے گی۔

واضح رہے کہ کابینہ کے اجلاس میں صوبے کے ترقیاتی، انتظامی، مالی، صحت، تعلیم، ماحولیات اور عوامی سہولیات سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے، جبکہ وزیراعلیٰ نے عوامی مفاد کے منصوبوں کی بروقت تکمیل اور ان پر عملی پیش رفت یقینی بنانے پر زور دیا۔

chitraltimes cm kp sohail chairing cabinet meeting