تربیت اولاد – تحریر: اقبال حیات اف برغذی
.
ایک گاوں میں ایک شخص اپنے چھوٹے بیٹے کوکسی کوتاہی پر چیخ چیخ کر جھنجھوڑرہا تھا۔ اور ایسے غلیظ اور ناشائستہ الفاظ استعمال کررہا تھا۔ جو مہذب دنیا کے ماتھے پر بدنما داغ کے مترادف تھے۔ حالانکہ ہماراعظیم مذہب اسلام ہمیں زندگی کے جو اسلوب سکھاتاہے۔اس میں بچوں کی پرواخت کے بھی انمول اصول پائے جاتے ہیں۔ چونکہ بچوں کو گلشن حیات کے پھولوں کی حیثیت حاصل ہے۔ جن کی مہک کا پوری معاشرتی زندگی پر اثر انداز ہونا لازمی امر ہے۔ اور ان کی تربیت کو آبیاری کی حیثیت حاصل ہے۔
اگر بڑوں کو اس کی ذمہ داری میں غفلت کا ارتکاب ہوجائے تو ان پھولوں کی دلکشی پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونگے۔ جو یقیناً پوری معاشرتی زندگی میں بگاڑ کا سبب بنے گا۔ یہاں یہ امر بھی قابل توجہ ہونا چاہیے کہ بچے قوم کی مستقبل کے معمار ہوتے ہیں اس لئے ان کی ابتدائی تربیت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ کیونکہ اگر دیوار کی بنیادی اینٹ ٹیڑھی لگ جائے تو آخری سرے تک یہ رنگ برقرار رہےگا۔
پرانے زمانے میں علم سے محروم والدین کی اولاد کی پرداخت انتہائی مہذب انداز کے حامل ہوتی تھی۔یوں وہ اولاد معاشرتی زندگی میں شرافت اور اخلاق کےپیکر ہوتے تھے۔ اور آج علم وآگہی سے منور دنیا کے اندر زندگی کے ہر شعبے میں جہالت رقصان ہے۔
بچوں کی تربیت کے انمول نمونے انسانی زندگی میں نظر سے گزرتے ہیں جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے مشعل راہ کے حامل ہیں اور ان نمونوں کی کسوٹی میں اپنے کردار کو پر کھ کر اپنے بارے میں رائے قائم کرنا مشکل نہ ہوگا۔اس سلسلے میں ایک تربیتی انداز کو اگر رہنمائی کے طور پر تذکرہ کیا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ ایک عالم دین پنسل سے کچھ لکھ رہے ہوتے ہیں اور ان کا ایک چھوٹا بچہ قریب آکر تتلاتے ہوئے دریافت کرتے ہیں کہ بابا کیا لکھ رہے ہیں؟ عالم دین مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرے لکھنے سے بھی زیادہ اہم یہ پنسل ہے۔ جس سے میں لکھ رہا ہوں جب تم بڑے ہوجاو تو اس پنسل کی طرح بنو۔ وہ بچہ تعجب خیز انداز میں اپنے باپ کو اور پھر پنسل کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ بڑی دیر تک دیکھنے کے باوجود پنسل کی کوئی خاص صفت انہیں نظر نہیں آئی۔ اور وہ والد سے دریافت کرتےہیں کہ پنسل میں ایسی کونسی خصوصیت ہے جس کی بنیاد پر مجھے بڑا ہوکر ایسا بننے کی آرزو کرتے ہیں۔ وہ عالم کہتے ہیں کہ اس پنسل میں پانچ اہم خصوصیات ہیں اور تم بھی بڑے ہوکر یہ خصوصیات خود میں پیدا کرو۔
1۔ تم بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکتے ہو لیکن کبھی یہ مت بھولو کہ کوئی ہاتھ ہے جو تمہیں چلا رہا ہے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کا دست قدرت ہے۔
2۔کبھی کبھی جب اس کی نوک گھس جاتی ہے تو کٹریا چاقو سے اسے تراشا جاتا ہے۔ اگر چہ یہ ایک اذیت ناک چیز ہوتی ہے بحرحال اس کی نوک تیز ہوتی ہے اور یہ دوبارہ کام کرنے لگتی ہے ۔یہ تمہیں جان لینا چاہیے کہ اگر کوئی دکھ اور صدمہ پہنچتا ہے۔ تو اس سے بہتر کارکردگی کا مظاہر ہ کرسکوگے۔
3۔پنسل یہ اجازت دیتی ہے کہ اگر کچھ غلط تحریر ہوجائے تو تم ربڑ سے اس کو مٹاکر اپنی غلطی کی اصلاح کرسکو۔ پس تم یہ سمجھ لو کہ غلطی کو صحیح کرنا غلطی نہیں ہے۔
4۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ پنسل کی لکڑی اور اس کا خول لکھنے کے کام نہیں آتے بلکہ لکھنے کے کام ہمیشہ وہ مغز آتا ہے جو اس لکڑی کے اندر چھپا ہوتا ہے۔ پس ہمیشہ تم اس چیز کا خیا ل رکھو کہ تمہارے جسم کی کوئی حیثیت واہمیت نہیں بلکہ اس کے اندر چھپی تمہاری روح اور ضمیر قدروقیمت والی ہے جسم نہیں۔
5۔پنسل جب کچھ لکھتی ہے تو کچھ نقوش کا غذپر چھوڑتی ہے جو مدتوں کا غذ پر دیکھے جاسکتے ہیں ۔پس تم جو کا م کروگے ا س کے نقوش تمہارے بعد باقی رہینگے۔ اب یہ تمہار کام ہے کہ تم کیسے نقوش چھوڑ کر جاتے ہو ۔اس لئے کسی عمل کو انجام دینے سے پہلے اس کے مثبت اور منفی پہلوں کا خاص خیال رکھو۔