خیبرپختونخواحکومت کاوفاق سے 27سوارب روپے کے حصول کے لئے ہرفورم پر مقدمہ لڑنے کا فیصلہ
صوبائی خودمختاری کے لئے صوبائی وقومی اسمبلیوں سمیت،سینٹ اوردیگراعلیٰ فورمز میں بھرپورآوازاٹھانے کااعلان
اب وقت آگیا،اپنے حقو ق کے لئے ہرفورم،ہرجرگہ اورہرمحاذ پربرابری کی بنیاد پر بات کی جائے،وزیر توانائی نذیرعباسی
۔
پشاور(نمائندہ چترال ٹائمز ) خیبرپختونخواحکومت نے نیٹ ہائیڈل پرافٹ یعنی بجلی کے خالص منافع کی مدمیں وفاق کے ذمہ 27سوارب روپے کے بقایاجات اورآئین کے اندرموجودصوبے کے آئینی حقوق کے حصول کے لئے ہرفورم پر بھرپورمقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے اورصوبے کی خودمختاری کے لئے سیاسی اختلافات سے بالاترہوکرصوبائی وقومی اسمبلیوں سمیت،سینٹ اوردیگراعلیٰ فورمز میں بھرپورآوازاٹھانے کااعلان کیا ہے۔صوبے کے قدرتی وسائل پر صرف اور صرف صوبے کے عوام کا حق ہے اور اسکے حصول کے لئے کسی بھی طرح کی نرمی یا کوتاہی عوامی مینڈیٹ کی خلاف ورزی تصورکی جائے گی۔تیل وگیس سمیت پن بجلی کے وسائل خیبرپختونخواکی پیداوار ہے اور اس کے جائز استعمال کے لئے ہرآئینی وقانونی راستہ اختیار کیا جائے کا۔ اس سلسلے میں صوبائی وزرا،اراکین قومی وصوبائی اسمبلی پر مشتمل مشاورتی کمیٹی برائے توانائی وبرقیات کاپہلااجلاس منعقد ہواجس کی صدارت صوبائی وزیر توانائی وبرقیات نذیراحمد عباسی نے کی۔ اجلاس میں رکن قومی اسمبلی شیرعلی ارباب،ایم این اے علی اصغرخان،ایم این اے ڈاکٹر امجدعلی خان،اراکین صوبائی اسمبلی احمد کریم کنڈی،آصف خان سمیت سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمد نے شرکت کی۔
اجلاس میں سیکرٹری توانائی نثاراحمد نے محکمہ توانائی وبرقیات کے ذیلی ادارے پیڈوکے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ اس وقت پیڈوکے 10 توانائی منصوبوں سے 224میگاواٹ بجلی پیداکی جارہی ہے جس سے صوبے کو سالانہ 6ارب روپے سے زائدکی آمدن ہورہی ہے۔مٹلتان سے بحرین تک 40کلو میٹرطویل ٹرانسمیشن لائن تعمیر کی جارہی ہے جہاں سے بجلی کی ترسیل ممکن بنانے کیلئے محکمہ توانائی نے اپنی ٹرانسمیشن کمپنی خیبرپختونخواٹرانسمیشن اینڈ گرڈ سسٹم کمپنیKT&GSCقائم کی ہے جبکہ بجلی کے نرخ مقررکرنے لئے صوبائی سطح پر نیپراکی طرز پر ریگولیٹری کمپنی کاقیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے۔ سیکرٹری توانائی نے مزیدکہا کہ بدقسمتی سے صوبے کے تیل وگیس کے ذخائرپر وفاق کا کنٹرول زیادہ ہے آئین کے آرٹیکل 157کے تحت جس صوبے میں تیل وگیس کی پیداوارہے وہاں سب سے پہلاحق اس صوبے کے عوام کا ہے۔ اس وقت خیبرپختونخواروزانہ500سے 550مکعب فٹ گیس پیداکررہاہے جبکہ صوبے کی اپنی ضرورت صرف 150مکعب فٹ ہے جواسے نہیں مل رہی اسی طرح میران بلاک پر 51فیصد شیئرکے حساب سے تیل وگیس کے منصوبے پر کام کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پن بجلی سمیت تیل وگیس کے ذخائرپر آئین وقانون کے مطابق اگرعملدرآمد کیا جائے توآئند 6سے 7سالوں میں صوبے کی معیشت بہت زیادہ مضبوط ہوسکتی ہے۔ اجلا س میں اراکین قومی اسمبلی شیرعلی ارباب،علی اصغرخان، ڈاکٹرامجدعلی خان سمیت اراکین اسمبلی آصف خان اوراحمد کریم کنڈی نے توانائی معاملات پر بنائی گئی مشاورتی کمیٹی کو مزید مضوط بنانے اور صوبے کے آئینی حقوق کے حصول کے لئے مشترکہ طورپر جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اجلا س میں صوبائی وزیر توانائی وبرقیات نذیر احمد عباسی سے کہا کہ خیبرپختونخواقدرتی وسائل سے مالامال صوبہ ہے جہاں پن بجلی کی سستی پیداوار سمیت تیل وگیس کے بے پناہ وسائل موجود ہیں جس کو بروئے کا رلاکرصوبے کی معیشت کو مستحکم کیا جاسکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم نے صوبے کے حقو ق کے لئے ہرفورم،ہرجرگہ اورہرمحاذ پر صرف اور صرف برابری کی بنیاد پر بات کرنی ہے اب ہمیں خودمختاری اوربقاء کے لئے میدان میں آناہے اوروفاق سے اپنے بقاجات کے حصول کے لئے عملی جدوجہد کرناہے۔
صوبے میں تیل وگیس کے لئے کام کرنے والی کمپنیوں کو سیکورٹی مسائل کا سامناہے اگرسکیورٹی ادارے سیکورٹی فراہم نہیں کرسکتے توہم خودمقامی لوگوں کو بھرتی کرکے اپنی سیکورٹی فورس تشکیل دینگے۔انہوں نے کمیٹی کے اراکین پر زوردیا کہ وہ صوبے میں توانائی شعبے کے ترقی کے لئے سرمایہ کاروں کو راغب کریں۔