حکومتِ خیبرپختونخوا اور وفاقی وزارتِ ریلوے کے درمیان ریلوے کے شعبے میں تعاون کے فریم ورک معاہدے پر دستخط
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) حکومتِ خیبرپختونخوا اور وفاقی وزارتِ ریلوے کے درمیان ریلوے کے شعبے میں تعاون کے فریم ورک معاہدے پر دستخط کر دیے گئے۔ اس سلسلے میں خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی اور وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے معاہدے پر دستخط کیے۔ فریقین نے معاہدے پر مؤثر عمل درآمد اور ریلوے سے متعلق منصوبوں کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
فریم ورک معاہدے کے تحت وفاقی وزارتِ ریلویز صوبے میں موجودہ ریلوے انفراسٹرکچر کے استعمال کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تکنیکی تعاون بھی فراہم کرے گی، جبکہ خیبرپختونخوا میں مختلف ریلوے منصوبوں کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔ خیبرپختونخوا حکومت تاریخی ریلوے اسٹیشنز کی بحالی اور تزئین و آرائش کرے گی، جس کے لیے رواں مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وفاقی حکومت کی موجودہ ریلوے سہولیات کو صوبے میں سب اربن ریلوے سروس کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ نوشہرہ، جہانگیرہ ریلوے روٹ منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا اور فزیبلٹی اسٹڈی کی تیاری کے لیے کنسلٹنسی کا کنٹریکٹ 30 اگست تک ایوارڈ کر دیا جائے گا۔ نوشہرہ، مردان اور درگئی کے درمیان ریلوے رابطے کو بھی مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا، جبکہ تاریخی ریلوے ورثے کی بحالی بھی فریم ورک معاہدے کا حصہ ہوگی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد سے صوبے میں ریلوے نظام کی بحالی، توسیع اور جدید خطوط پر ترقی میں مدد ملے گی۔ گریٹر پشاور سرکلر ریلوے منصوبے کے تحت پشاور، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ کو جدید ریلوے ٹریک کے ذریعے باہم منسلک کیا جائے گا۔ پشاور ویلی ریلوے کے آئندہ مراحل میں نوشہرہ، مردان اور درگئی کے درمیان ریلوے رابطہ بھی شامل کیا جائے گا، جبکہ مردان، چارسدہ اور پشاور سے طورخم تک ریلوے روابط کو بھی منصوبے کے آئندہ مراحل میں شامل کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جدید ریلوے روابط سے لاکھوں مسافروں، طلبہ، مزدوروں اور تاجروں کو بہتر، آرام دہ اور سستی سفری سہولیات میسر آئیں گی۔ ریلوے رابطوں میں بہتری سے صوبے میں تجارت، سیاحت، روزگار اور علاقائی رابطہ کاری کو بھی فروغ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بعض اہم معاملات وفاقی حکومت سے جڑے ہوئے ہیں اور ریلوے منصوبے بھی ان میں شامل ہیں۔ بدقسمتی سے ماضی میں ان شعبوں کو مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی، تاہم امید ہے کہ فریم ورک معاہدے کے تحت ریلوے کے منصوبوں کو اب فاسٹ ٹریک بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا۔ محمد سہیل آفریدی نے وزارتِ ریلویز کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ عوامی فلاح اور صوبے کی ترقی کے لیے اہم ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس اہم معاہدے کو حتمی شکل دینے اور دستخط یقینی بنانے کے لیے دونوں جانب کے متعلقہ حکام خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ صوبائی حکومت وزارتِ ریلویز اور اس کی ٹیم کے تعاون پر شکر گزار ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے صوبائی حکومت کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے باہمی تعاون سے عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے فریم ورک معاہدے کو ایک منفرد تصور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے دیرپا نتائج سامنے آئیں گے۔ اسی نوعیت کے معاہدے دیگر صوبوں کے ساتھ بھی کیے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ریلوے ایسا نیٹ ورک ہے جو ملک کے تمام صوبوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ عوامی فلاح حدود و قیود سے بالاتر ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان ریلویز تمام صوبوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے بھرپور تعاون فراہم کیا جائے گا اور منصوبوں کو تیز رفتاری سے آگے بڑھایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قومی اداروں کو بہتر اور نفع بخش بنانے کے لیے غیر معمولی کاوشوں اور مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے پی آئی اے ہم سے چلا گیا، تاہم دیگر قومی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے قومی اداروں کو مضبوط اور فعال بنانا ہے۔ ریلوے نسبتاً کم لاگت، آرام دہ اور مؤثر سفری ذریعہ ہے، اس لیے وفاق اور صوبے دونوں کی ذمہ داری ہے کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کریں اور ریلوے کی ترقی کو مشترکہ ہدف کے طور پر آگے بڑھائیں۔
وزیراعلیٰ نے اپنی حکومت کی ترقیاتی حکمت عملی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت پشاور میں آؤٹر رنگ روڈ پر بھی کام کر رہی ہے، جس سے صوبائی دارالحکومت کے ٹریفک مسائل کے مستقل حل میں مدد ملے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ رواں مالی سال صوبے میں امن، ترقی اور خوشحالی کا سال ثابت ہوگا۔ معاہدے کے تحت اگر وفاقی حکومت کوئی نیا ریلوے منصوبہ شروع کرتی ہے تو خیبرپختونخوا حکومت اس منصوبے کے لیے ضروری انتظامی تعاون فراہم کرے گی۔