ایک ماہ کے اندر کالکٹک-چترال شاہراہ کی تعمیرپر کام شروع نہ کیا گیا تو وفاقی حکومت کے خلاف بھرپوراحتجاج شروع کیا جائیگا۔ رہنما پی پی پی
۔
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز )پاکستان پیپلز پارٹی لوئر چترال کے رہنماؤں نے این-45 کالکٹک-چترال سیکشن کی تعمیر میں وفاقی حکومت کی مجرمانہ غفلت اور تاخیر پر گہری تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایک ماہ کے اندر منصوبے پر کام شروع نہ ہوا تو وفاقی وزیر علیم خان کا پتلا نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے نذرِ آتش کر کے ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔
منگل کے روز چترال پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی کے مقامی رہنماؤں قاضی وقار اقبال ایڈووکیٹ، سجاد اخون، جاوید اقبال، جاوید اختر، بشیر احمد، طاہر زمان اہل، اشتیاق احمد، اقبال حیات، زہیب اور دیگر نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ پی پی پی رہنماؤں نے انکشاف کیا کہ حکومت پاکستان نے اس 48 کلومیٹر طویل سڑک کے منصوبے کے لیے 2016 میں کوریا کے ”ایگزیم بینک” (EXIM Bank) سے قرض لیا تھا۔ اس کے باوجود، گیارہ سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی زمین پر کام شروع نہیں ہو سکا۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اس 27 ارب روپے کے اہم منصوبے کو شروع کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
منتخب نمائندوں کی خاموشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پی پی پی رہنماؤں نے کہا کہ ماضی کے منتخب نمائندوں نے بھی اس منصوبے کو نظرانداز کیا۔ موجودہ مسلم لیگ (ن) کی خاتون ایم این اے غزالہ انجم اس اہم ترین سڑک پر مکمل طور پر خاموش ہیں، جو چترال کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے کا واحد ذریعہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سول سوسائٹی نے کالاش، گرم چشمہ اور شندور کی سڑکوں کے لیے تو آواز اٹھائی، لیکن کالکٹک-چترال روڈ کی آواز اٹھانے والا کوئی نہیں۔
وزیرِ اعظم انسپکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاگیاکہ وزیرِ اعظم انسپکشن کمیشن کے چیئرمین بریگیڈیئر رانجھا نے گزشتہ ایک سال کے دوران چترال کے 20 سے زائد دورے کیے، لیکن انہوں نے اس بدقسمت اور تباہ حال سڑک کا کوئی نوٹس نہیں لیا، جو کہ سرکاری مشینری کی سنگین غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔پی پی پی لوئر چترال نے وفاقی حکومت کو ایک ماہ کا حتمی الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر علیم خان خیبر پختونخوا کو نظرانداز کر کے صرف پنجاب کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اگر ایک ماہ میں عملی کام شروع نہ ہوا تو اسلام آباد میں وفاقی وزیر کا پتلا جلا کر شدید احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔
