جامعہ چترال میں مبینہ بے قاعدگیوں کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ، فیکلٹی ایسوسی ایشن کا اضافی انتظامی چارجز واپس لینے پر زور
.
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) جامعہ چترال میں مبینہ مالی و انتظامی بے قاعدگیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیر وجیہ الدین اور چترال یونیورسٹی فیکلٹی ایسوسی ایشن (CUFA) نے معاملے کی آزاد، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیر وجیہ الدین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چترال کی واحد جامعہ سے متعلق سامنے آنے والے تحفظات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور معاملہ محض ایک ادارے کا نہیں بلکہ چترال کی نئی نسل کے مستقبل کا سوال ہے۔
انہوں نے کہا کہ چترال یونیورسٹی فیکلٹی ایسوسی ایشن کی جانب سے سامنے آنے والے تحفظات، بالخصوص ڈائریکٹر فنانس کے استعفے میں مبینہ مالی و انتظامی بے قاعدگیوں کی نشاندہی، کی حقیقت جاننے کے لیے فوری، جامع اور غیر جانب دارانہ انکوائری ضروری ہے۔
وجیہ الدین نے کہا کہ اگر کسی ذمہ دار مالی افسر نے اپنے تحریری استعفے میں مالی معاملات، تعمیراتی منصوبوں اور انتظامی امور سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا ہے تو ان نکات کو نظر انداز کرنے کے بجائے شواہد کی بنیاد پر ان کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔
انہوں نے جامعہ کے زیرِ تعمیر تعلیمی و رہائشی منصوبوں کے حوالے سے مبینہ اوور پیمنٹ کے سوالات کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جائے کہ آیا مالی معاملات میں کسی بے قاعدگی کا اثر تعمیراتی کام کے معیار، مقدار، استعمال ہونے والے مواد یا منظور شدہ تکنیکی معیار پر پڑا ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چترال جیسے زلزلہ خیز علاقے میں یونیورسٹی کی عمارتوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ ناقابل قبول ہوگا۔
جماعت اسلامی کے رہنما نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کو محض الزام کی بنیاد پر مجرم قرار دینا درست نہیں، تاہم کسی عہدے دار کو عہدے یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر احتساب سے بالاتر بھی نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے مطابق تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں اور جو شخص ذمہ دار ثابت ہو، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
انہوں نے حکومت خیبر پختونخوا، متعلقہ اعلیٰ تعلیمی حکام اور جامعہ چترال کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کو محض انتظامی اختلاف قرار دے کر نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ ایک بااختیار، آزاد اور غیر جانب دار انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے۔
دریں اثنا چترال یونیورسٹی فیکلٹی ایسوسی ایشن (CUFA) نے جامعہ چترال بچاؤ تحریک کے سلسلے میں علامتی احتجاج کے دوسرے روز شفاف انکوائری کے لیے مبینہ مفادات کے ٹکراؤ کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔
فیکلٹی ایسوسی ایشن کے صدر ظہور الحق دانش کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جامعہ میں مبینہ مالی و انتظامی بے قاعدگیوں کی آزادانہ اور شفاف انکوائری شروع ہونے سے قبل متعلقہ اضافی انتظامی عہدوں پر فائز اساتذہ کو ان عہدوں سے الگ کیا جائے۔
بیان کے مطابق جن افراد کے زیرِ انتظام متعلقہ دفاتر اور معاملات رہے ہوں، انہیں انکوائری کے دوران انہی عہدوں پر برقرار رکھنے سے Conflict of Interest (مفادات کے ٹکراؤ) کا خدشہ پیدا ہوتا ہے، جس سے انکوائری کی غیر جانب داری، ریکارڈ کے تحفظ اور شواہد کی سالمیت پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
فیکلٹی ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ رجسٹرار و ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی کے اضافی چارجز، جو بقول ایسوسی ایشن ایک ہی فرد کے پاس ہیں، جبکہ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن اور کنٹرولر کے اضافی چارجز بھی فوری طور پر واپس لیے جائیں اور یہ ذمہ داریاں جامعہ کے قابل، تجربہ کار، دیانت دار اور غیر جانب دار افسران کے سپرد کی جائیں۔
CUFA کے مطابق اس مطالبے کا مقصد کسی فرد کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ کو ختم کرکے شفاف انکوائری، ریکارڈ کے تحفظ اور ادارہ جاتی انصاف کو یقینی بنانا ہے۔
فیکلٹی ایسوسی ایشن نے کہا کہ جامعہ چترال بچاؤ تحریک شفافیت، احتساب اور ادارے کے تحفظ کے لیے اپنی پُرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔