The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 23 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

اخون پنجو باباؒ: مغالطے سے ہم عصر دستاویزات تک ۔ تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

Chitral Times

اخون پنجو باباؒ: مغالطے سے ہم عصر دستاویزات تک ۔ تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

اخون پنجو باباؒ: مغالطے سے ہم عصر دستاویزات تک ۔ تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

اخون پنجو باباؒ: مغالطے سے ہم عصر دستاویزات تک ۔ تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

۔

تاریخِ تصوف میں کسی بزرگ کے نسب کا تعین محض مشہور روایت سے نہیں، بلکہ ماخذ کی قدامت، شہادت کی زمانی و مکانی قربت اور دستاویز کی صحت سے کیا جاتا ہے۔ سید عبدالوہاب المعروف اخون پنجو باباؒ بھی اسی حوالے سے ایک اہم مثال ہیں۔ آپؒ کی ولادت 1538ء اور وصال 1630ء بیان کیا جاتا ہے، جبکہ مزار اکبرپورہ( نوشہرہ) میں ہے۔ آپؒ سلسلۂ چشتیہ سے وابستہ تھے اور آپؒ کے خلفا کا روحانی سلسلہ مختلف علاقوں تک پھیلا۔ قدیم روایات اور بعض ماخذ آپؒ کو سادات سے منسوب کرتے ہیں، تاہم بعد کے بعض تذکروں میں آپؒ کو غیر سید لکھا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اِس تبدیلی کی مستند تاریخی بنیاد کیا ہے؟

اِس اختلاف کی نمایاں بنیاد ’’خزینتہ الاصفیاء ‘‘ کا وہ بیان ہے جس میں اخون پنجو باباؒ کی سیادت سے مختلف نسبت سامنے آتی ہے۔ بعد کی بعض کتابوں میں بھی یہ بات تحقیقِ ماخذ کے بغیر نقل ہوتی رہی، یوں ایک متاخر اندراج رفتہ رفتہ عام تاریخی تصور کا حصہ بن گیا۔ ’’خزینتہ الاصفیاء ‘‘ تقریباً 1901ء کے زمانے میں شائع ہوئی، جبکہ اس سے قبل اخون پنجو باباؒ سے متعلق روایات اور قلمی مواد موجود تھا۔ اِس لیے ایک متاخر عبارت کی بنیاد پر قدیم خاندانی روایت کو مسترد کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس عبارت کا اصل ماخذ کیا تھا اور اس کی سند یا شہادت کتنی معتبر تھی۔

’’معارج الولایت‘‘ بھی اس بحث میں پیش کی جاتی ہے، لیکن اس کے مختلف قلمی نسخوں اور منقول مواد کی اسنادی حیثیت کو تنقیدی نظر سے دیکھنا ضروری ہے۔ محقق محمد اقبال مجددی نے طویل تحقیق کے بعد اس کے بعض مواد کو سماعی، غیر مستند اور بعض مقامات پر قیاس آرائی پر مبنی قرار دیا ہے، جبکہ ’’خزینتہ الاصفیاء ‘‘ کی معلومات بھی بڑی حد تک ’’معارج الولایت‘‘ سے ماخوذ ہیں۔ اگر کسی ماخذ میں کسی بزرگ کے نسب کی نفی ہو، مگر نہ واضح سند ہو، نہ خاندانی دستاویز اور نہ قریب العہد شہادت، تو ایسی اطلاع کی تاریخی حیثیت تحقیق طلب رہتی ہے۔ محض قدامتِ روایت اسے مستند نہیں بنا دیتی۔

اخون پنجو باباؒ کے نسب کے حق میں ’’مناقبِ شیخ عبدالوہاب‘‘ کو خاص اہمیت حاصل ہے، جو آپؒ کے شاگرد علی خان شیرپاؤ سے منسوب کی جاتی ہے۔ علی خانؒ نے اخون پنجو باباؒ کے قرب میں سکونت اختیار کی اور طویل عرصہ آپکی صحبت میں رہے، اِس لیے اُن کی شہادت زمانی اور مکانی قربت رکھتی ہے۔ اس مناقب میں اخوند پنجو کے والد سید غازی بابا اور خاندانی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے اُنہیں سید قرار دیا گیا ہے۔ اگر یہ نسبت اصل قلمی نسخے اور اس کی تاریخِ تدوین سے ثابت ہو تو یہ محض ایک عمومی روایت نہیں بلکہ قریب العہد شہادت کی حیثیت رکھتی ہے۔

’’تحفتہ الاولیاء ‘‘ کے مصنف قاضی میر احمد شاہ رضوانی کی شہادت بھی اِسی تناظر میں اہم ہے۔ وہ اکبرپورہ کے مقامی علمی و معاشرتی ماحول سے وابستہ تھے اور مقامی خاندانوں کے حالات سے واقفیت رکھتے تھے۔ اُن کے ہاں اخون پنجو باباؒ کو حسینی سید قرار دیئے جانے کا حوالہ ملتا ہے۔ اِسی طرح اخون سالاکؒ کے مریدِ خاص ملا مست زمند کی تصنیف ’’سلوک الغزات‘‘ میں بھی اخون پنجو بابا کے نسب کا ذکر ملنے کی روایت ہے۔ اس قلمی مواد سے عبدالحی حبیبی اور صدیق اللہ رشتین جیسے محققین کے استفادے کا حوالہ بھی ملتا ہے۔ یوں یہ روایت مختلف مقامی اور قلمی ذرائع میں تسلسل کے ساتھ سامنے آتی ہے۔

’’روحانی رابطہ‘‘ کے مصنف عبدالحلیم اثر نے بھی سید عبدالوہابؒ کے حالات و نسب پر تحقیق کی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ انہیں آپؒ کے شجرۂ نسب کا ایک قدیم نسخہ ملا، جسے اُنہوں نے اپنی تصنیف میں شائع کیا۔ اُن کی تحقیق کے مطابق سید عبدالوہابؒ حسینی سادات تھے۔ اِسی طرح ’’احوال العارفین‘‘ میں بھی آپؒ کی سیادت واضح کی گئی ہے۔ اگر ان حوالوں کیساتھ اصل قدیم نسخہ، اسکی تاریخ، خط اور سلسلۂ ملکیت محفوظ ہو تو یہ مواد نسبی تحقیق میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس صورت میں سیادت کی روایت کسی ایک کتاب تک محدود نہیں رہتی بلکہ مختلف مقامی اور خاندانی حلقوں میں اس کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔

یہاں اُصولِ تحقیق کا بنیادی نکتہ سامنے آتا ہے: اثبات اور نفی دونوں کو یکساں معیارِ شہادت پر پرکھا جائے۔ اگر کسی شخصیت کے نسب کے حق میں شجرۂ، خاندانی روایت، قریب العہد شہادت اور متعدد ماخذ موجود ہوں تو اُس نسب کی نفی کرنیوالے دعوے کیلئے بھی واضح، مستند اور قابلِ جانچ دلیل ضروری ہوگی۔ محض یہ کہنا کافی نہیں کہ فلاں کتاب میں اُنہیں غیر سید لکھا گیا ہے؛ یہ بھی دکھانا ہوگا کہ مصنف نے یہ اطلاع کس اصل ماخذ سے حاصل کی اور اسکی صحت کیسے جانچی۔ غیر مسند نفی، مستند اثبات کو خود بخود ختم نہیں کرتی۔ تاریخی اختلاف کو شہادت کے معیار پر پرکھنا ہی علمی دیانت ہے۔

’’آئینِ اکبری‘‘ اور اخون درویزہ باباؒ سے منسوب ’’تذکرۃ الابرار‘‘ جیسے ماخذ بھی اس تحقیق میں نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔ ان میں اخون پنجو باباؒ کی سیادت کی نفی پر کوئی واضح شہادت سامنے نہ آنا، جبکہ مقامی اور خاندانی روایات اس نسبت کو برقرار رکھنا، مجموعی صورتِ حال کو اہم بناتا ہے۔ اکبرپورہ میں سید خاندان سے منسوب قدیم آبادی، شجرات، مناقب اور مقامی روایات بھی الگ الگ قرائن فراہم کرتے ہیں۔ کوئی ایک قرینہ فیصلہ کن نہ بھی ہو، متعدد نسبتاً مستقل شہادتوں کا باہمی توافق تحقیقی وزن ضرور رکھتا ہے۔ اس کے برعکس متاخر اور غیر مسند اختلاف کو قطعی فیصلہ قرار دینا تاریخی احتیاط کے منافی ہوگا۔

چنانچہ اخون پنجو باباؒ کے نسب کا فیصلہ کسی ایک متاخر روایت کی بنیاد پر نہیں بلکہ تمام دستیاب شواہد کے باہمی تقابل سے ہونا چاہیے۔ ’’مناقبِ شیخ عبدالوہاب‘‘، ’’تحفتہ الاولیاء ‘‘، ’’سلوک الغزات‘‘، قدیم شجرات اور دیگر قلمی ماخذ کے اصل نسخوں، تاریخِ تدوین اور سلسلۂ نقل کی تحقیق اس سلسلے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ موجود شواہد کی روشنی میں محض ایک متاخر اور غیر مسند نسبت کی بنیاد پر آپؒ کی سیادت کو رد کرنا علمی احتیاط کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔ تاریخ کا تقاضا یہی ہے کہ ہر روایت کو اسکے ماخذ، قربت اور درجۂ اعتبار کے مطابق پرکھا جائے اور غیر ثابت دعوے کو حتمی حقیقت قرار دینے سے گریز کیا جائے۔